وزارت صحت اور صحت کہانی میں ٹیلی میڈیسن کے دوسرے مرحلے کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط

newsdesk
3 Min Read
وزارت صحت اور صحت کہانی کے درمیان ٹیلی میڈیسن کے دوسرے مرحلے کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب۔

اسلام آباد: وفاقی وزارت صحت اور صحت کہانی کے درمیان ٹیلی میڈیسن کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے، جس کے تحت منصوبے کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

مفاہمتی یادداشت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزارت صحت نے آج ایک اور اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔ ان کے مطابق ٹیلی میڈیسن کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد اب دوسرے مرحلے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں صحت کہانی کے اشتراک سے 10 ٹیلی میڈیسن سینٹرز قائم کیے گئے تھے، جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 10 ٹیلی میڈیسن سینٹرز کھولے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر صحت کے مطابق ٹیلی میڈیسن نظام میں 500 نئے ڈاکٹرز کا اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ڈاکٹرز کی فیس صحت کہانی کی جانب سے ادا کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جا رہا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت عوام کو ان کی دہلیز پر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ مہنگائی کے موجودہ دور میں گھر کی دہلیز پر اچھے ڈاکٹرز کی سہولت دستیاب ہونا ایک اہم پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن کے ذریعے اب تک عوام کے 7 کروڑ روپے بچائے جا چکے ہیں۔ وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ٹیلی میڈیسن کے فروغ سے بڑے اسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم ہو گا اور پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ پمز اسپتال کی پرانی ایمرجنسی چند روز کے اندر نئی ایمرجنسی میں منتقل ہو رہی ہے، جبکہ پمز کی پرانی ایمرجنسی میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹیلی میڈیسن قائم کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہر وہ کوشش کی جا رہی ہے جس سے عام آدمی کی زندگی بہتر ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت یونیورسل ہیلتھ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور صحت کے شعبے میں اصلاحات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

Share This Article