مغربی صحارا: منورسو کا مشن ختم، حقِ خود ارادیت برقرار ہے، اقوام متحدہ

newsdesk
4 Min Read
اقوام متحدہ نے منورسو کے خاتمے کے باوجود مغربی صحارا کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو ناقابلِ تنسیخ قرار دیا۔

اسلام آباد: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ مغربی صحارا میں ریفرنڈم کے لیے قائم اقوام متحدہ کے مشن منورسو (MINURSO) کی سرگرمیاں ختم ہونے کے باوجود مغربی صحارا کے عوام کا حقِ خود ارادیت ختم نہیں ہوا۔

سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق منورسو کا مینڈیٹ سلامتی کونسل کی جانب سے تجدید نہ ہونے کے بعد ختم ہو گیا ہے۔ سیکریٹری جنرل نے اس موقع پر کہا کہ منورسو کو بالخصوص اس مقصد کے لیے قائم کیا گیا تھا کہ مغربی صحارا کے عوام اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کو بروئے کار لا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ منورسو کی روانگی سے یہ حقوق ساقط نہیں ہوتے۔

بیان میں کہا گیا کہ سیکریٹری جنرل نے 1991 میں قیام کے بعد سے جنگ بندی کی نگرانی اور سیاسی حل کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے میں منورسو کے مرکزی کردار کا اعتراف کیا۔ انہوں نے منورسو کے عملے، بالخصوص مغربی صحارا کے لیے خصوصی نمائندے الیگزینڈر ایوانکو کا شکریہ ادا کیا، جن کی قیادت میں مشن نے 2020 میں مخاصمت کے دوبارہ آغاز کے بعد ایک نہایت مشکل دور میں کام کیا۔

سیکریٹری جنرل نے ان 20 منورسو اہلکاروں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے مغربی صحارا میں مشن کی 35 سالہ تعیناتی کے دوران اپنی جانیں گنوائیں۔

اقوام متحدہ کے بیان کے مطابق یکم نومبر 2026 سے مشن کے خاتمے کے بعد اثاثوں کی منتقلی اور دیگر امور کے لیے لیکویڈیشن کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس مدت کے دوران ایک چھوٹی ٹیم، جو اقوام متحدہ کے محکمہ برائے آپریشنل سپورٹ کو رپورٹ کرے گی، فوجی دستے فراہم کرنے والے ممالک کے اثاثوں کو منظم انداز میں ان کے متعلقہ ممالک تک پہنچانے اور اقوام متحدہ کے سامان کے مناسب تصرف کی نگرانی کرے گی۔

سیکریٹری جنرل نے فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ اس عمل کو جلد از جلد منظم انداز میں مکمل کرنے کے لیے مکمل تعاون کریں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ منورسو مغربی صحارا کے عوام کے تحفظ اور خدمت کے لیے قائم کیا گیا تھا، خاص طور پر اس لیے کہ انہیں اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کے حصول کا موقع مل سکے۔ سیکریٹری جنرل نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ مغربی صحارا کے عوام کے حقوق کا احترام اور فروغ یقینی بنائیں۔

انتونیو گوتریس نے علاقے بھر میں سلامتی کی صورتحال اور مخاصمت میں اضافے کے خطرے پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنے کی اپیل کی جو کشیدگی میں اضافہ کریں یا علاقائی استحکام کو نقصان پہنچائیں۔

سیکریٹری جنرل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اقوام متحدہ فریقین کو ایک منصفانہ، پائیدار اور باہمی طور پر قابلِ قبول سیاسی حل تک پہنچنے میں مدد دینے کے لیے پرعزم ہے، ایسا حل جو مغربی صحارا کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو یقینی بنائے۔ بیان کے مطابق اگرچہ منورسو کی امن کارروائیاں اختتام کو پہنچ چکی ہیں، تاہم اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل کے ذاتی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا کے ذریعے مکالمے کو آگے بڑھانے اور تنازع کے پرامن حل کی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

Share This Article