وزیر خزانہ بنکاک روانہ، پاکستان سرمایہ کاری اور معاشی تعاون بڑھانے کا خواہاں

newsdesk
8 Min Read
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب 12 سے 18 اکتوبر تک بنکاک، تھائی لینڈ میں عالمی بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 2026 کے سالانہ اجلاسوں میں پاکستان کے وفد کی قیادت کریں گے۔ دورے کے دوران عالمی مالیاتی اداروں، بین الاقوامی سرمایہ کاروں، وزرائے خزانہ، بینکوں اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے ساتھ 60 سے زائد اعلیٰ سطحی مصروفیات طے ہیں۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان معاشی استحکام کے مرحلے سے آگے بڑھ کر سرمایہ کاری، برآمدات اور نجی کاروبار کی بنیاد پر پائیدار ترقی کی سمت پیش رفت کا خواہاں ہے۔ وزیر خزانہ عالمی سطح پر حکومت کی معاشی اصلاحات، سرکاری مالیات کو مضبوط بنانے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے منصوبوں کو اجاگر کریں گے۔

سینیٹر محمد اورنگزیب آئی ایم ایف اور عالمی بینک گروپ کے اہم اجلاسوں میں شرکت کے ساتھ ان اداروں کی قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ پروگرام میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن اور ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی کے ساتھ ملاقاتیں بھی شامل ہیں، جہاں پاکستان کے معاشی منظرنامے، اصلاحات میں پیش رفت، نجی شعبے کی ترقی اور آئندہ تعاون پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

وزیر خزانہ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کی اس نشست میں بھی شریک ہوں گے جس میں مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے خطے سے وزرائے خزانہ، مرکزی بینکوں کے گورنرز اور علاقائی مالیاتی اداروں کے سربراہان شرکت کریں گے۔

دورے کے دوران ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، اوپیک فنڈ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ، سعودی فنڈ فار ڈیولپمنٹ، انٹرنیشنل اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن، جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی، ای سی او ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ بینک، اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں ہوں گی۔

ان ملاقاتوں میں ترقیاتی فنانسنگ، تجارت، سرمایہ کاری، معاشی تعاون اور پاکستان کے اصلاحاتی و ترقیاتی منصوبوں کے لیے معاونت پر بات چیت کی جائے گی۔

دوطرفہ سطح پر سینیٹر محمد اورنگزیب سعودی عرب، چین، ترکیہ، ایران، برطانیہ اور میزبان ملک تھائی لینڈ کے ہم منصب وزرائے خزانہ سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان مذاکرات میں معاشی تعلقات کے فروغ، سرمایہ کاری میں اضافے، تجارت کی توسیع اور ترقیاتی تعاون کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔

وزیر خزانہ امریکی محکمہ خزانہ کے نمائندوں سے بھی رابطہ کریں گے، جہاں دوطرفہ معاشی تعاون، پاکستان کا اصلاحاتی ایجنڈا اور سرمایہ کاری کے لیے حکومتی کوششیں زیر بحث آئیں گی۔

دورے کا ایک اہم حصہ عالمی سرمایہ کاروں اور کیپٹل مارکیٹس سے متعلق ہوگا۔ وزیر خزانہ جے پی مورگن، سٹی، ڈوئچے بینک، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، ایم یو ایف جی، مشرق بینک، دبئی اسلامک بینک، ابوظہبی کمرشل بینک، عجمان بینک، بارکلیز، بینک آف امریکہ، جیفریز انٹرنیشنل، الواریز اینڈ مارسل اور ایم ایس سی آئی سمیت بڑے مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔

وہ سرمایہ کاری سیمینارز، خودمختار سرمایہ کاروں کے ساتھ نشستوں اور گول میز مباحثوں میں بھی حصہ لیں گے، جن کا مقصد پاکستان کی معاشی سمت، سرمایہ کاری کے مواقع اور ساختی اصلاحات میں پیش رفت کو عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے رکھنا ہے۔

حکومت کو توقع ہے کہ ان مصروفیات سے پاکستان کی معاشی پوزیشن کے بارے میں عالمی سطح پر بہتر فہم پیدا ہوگا، سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور ترقی کی صلاحیت رکھنے والے شعبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ مذاکرات میں پاکستان کی بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک رسائی اور ایک زیادہ مستحکم و مسابقتی معیشت کی تشکیل کی کوششیں بھی شامل ہوں گی۔

سینیٹر محمد اورنگزیب علی بابا انٹرنیشنل ڈیجیٹل کامرس سے بھی الگ ملاقات کریں گے، جس میں پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس اور آن لائن کاروبار و تجارت میں سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو ہوگی۔

وزیر خزانہ متعدد عالمی معاشی اور پالیسی فورمز میں بھی شریک ہوں گے۔ ان میں جی 24 وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک گورنرز کا اجلاس، 17 واں وی 20 وزارتی مکالمہ، موسمیاتی اقدامات کے لیے وزرائے خزانہ کے اتحاد کا 16 واں وزارتی اجلاس اور زیادہ و بہتر روزگار کے لیے عمل درآمد تیز کرنے سے متعلق وزارتی مکالمہ شامل ہیں۔

ان کے شیڈول میں قرض لینے والے ممالک کے فورم کی گورننگ کونسل کا پہلا اجلاس اور سالانہ اجلاسوں کا پلینری سیشن بھی شامل ہے۔ وزیر خزانہ بین الاقوامی منڈیوں سے قرض لینے والے ممالک کو درپیش مالی خطرات کم کرنے پر ہونے والی گفتگو میں حصہ لیں گے۔

وہ عالمی بینک گروپ کے ایک سیشن میں بھی شریک ہوں گے جس میں آبادی کے رجحانات میں تبدیلی کو تعلیم، ہنر، روزگار اور انسانی سرمائے میں بہتری کے مواقع میں بدلنے پر غور کیا جائے گا۔

پاکستان کی عالمی کیپٹل مارکیٹس تک رسائی برقرار رکھنے کے معاملے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ سینیٹر محمد اورنگزیب تین بڑی بین الاقوامی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، فچ ریٹنگز، موڈیز اور ایس اینڈ پی گلوبل سے ملاقاتیں کریں گے۔

ان ملاقاتوں میں پاکستان کی معاشی کارکردگی، اصلاحاتی اقدامات، مالی استحکام برقرار رکھنے کے منصوبوں، معاشی سمت اور طویل مدتی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی صلاحیت پر بات چیت ہوگی۔

وزیر خزانہ عالمی میڈیا اداروں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں رائٹرز، بلومبرگ، نکی ایشیا، چینل نیوز ایشیا، وال اسٹریٹ جرنل اور اے ایف پی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ وہ اٹلانٹک کونسل اور یوریشیا گروپ کے ساتھ پالیسی مباحثوں میں شریک ہوں گے۔ ان نشستوں میں پاکستان کے معاشی منظرنامے، میکرو اکنامک استحکام کی جانب پیش رفت، باقی اصلاحاتی ترجیحات اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے حصول کے منصوبوں پر گفتگو ہوگی۔

مختلف ملاقاتوں میں سینیٹر محمد اورنگزیب حکومت کا یہ مؤقف پیش کریں گے کہ معاشی استحکام میں حاصل پیش رفت کو اب زیادہ سرمایہ کاری، برآمدات میں اضافے، پیداواری صلاحیت کی بہتری اور روزگار کے وسیع مواقع میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔

حکومت نجی شعبے کی قیادت میں ترقی اور مالیاتی شمولیت میں اضافے کو بھی اپنی ترجیح کے طور پر پیش کرے گی تاکہ معاشی پیش رفت کے ثمرات آبادی کے وسیع حصے تک پہنچ سکیں۔

یہ دورہ اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان عالمی مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ فعال روابط برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ حکومت کا بیان کردہ مقصد بہتر معاشی استحکام کو پائیدار اور جامع ترقی میں بدلنا اور تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کو مضبوط بنانا ہے۔

Share This Article