اسلام آباد: زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف امریکا (زیڈ ایف اے) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مسٹر حلیل دمیر پاکستان کے دورے پر ہیں، جہاں وہ اقوام متحدہ کے اداروں، سفارتی مشنز، سرکاری محکموں اور وفاقی وزارتوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
اس دورے کا مقصد پاکستان میں پائیدار انسانی ترقی کے لیے تزویراتی تعاون کے امکانات کا جائزہ لینا، وسائل کو متحرک کرنا اور مختلف شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو وسعت دینا ہے۔
دورے کے دوران مسٹر حلیل دمیر تعلیم، صاف پانی تک رسائی، یتیم بچوں کی دیکھ بھال، ہنگامی امداد، غذائی تحفظ، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ سے متعلق مشترکہ اقدامات پر اہم فریقین سے بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ شعبے پاکستان میں کمزور طبقات کو درپیش اہم ضروریات کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں بار بار آنے والی قدرتی آفات، معاشی دباؤ اور بنیادی سہولیات تک محدود رسائی لاکھوں افراد کو متاثر کر رہی ہے۔
ان ملاقاتوں کا مقصد ادارہ جاتی شراکت داری کو مضبوط بنانا اور انسانی و ترقیاتی پروگراموں کے لیے مقامی اور بین الاقوامی حمایت میں اضافہ کرنا ہے۔ زیڈ ایف اے سرکاری اداروں، بین الاقوامی تنظیموں اور سفارتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اپنے کام کا دائرہ وسیع کرنے، رابطہ کاری بہتر بنانے اور امداد کو مؤثر اور شفاف انداز میں ضرورت مند افراد تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔
دورے سے آگاہ حکام کے مطابق انسانی فلاحی اداروں، عوامی اداروں اور عالمی برادری کے درمیان تعاون پائیدار حل کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق ایسی شراکت داریاں کوششوں کی تکرار سے بچنے، محدود وسائل کے بہتر استعمال اور امدادی و ترقیاتی کام کو فوری ہنگامی مرحلے سے آگے جاری رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
توقع ہے کہ مذاکرات میں فوری امدادی ضروریات کے ساتھ ساتھ طویل المدتی ترقیاتی اہداف پر بھی توجہ دی جائے گی۔ ترجیحی شعبوں میں بچوں کے لیے معیاری تعلیم تک رسائی بہتر بنانا، محروم آبادیوں کو محفوظ پینے کا پانی فراہم کرنا، یتیم بچوں اور ان کے خاندانوں کی معاونت، خطرات سے دوچار گھرانوں کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنانا اور نوجوانوں کو بدلتی ہوئی روزگار مارکیٹ میں بہتر مواقع کے لیے ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا شامل ہے۔
ان ملاقاتوں کے ذریعے زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف امریکا نے کمزور طبقات کی باوقار خدمت، تزویراتی شراکت داری کے فروغ اور پاکستان کے انسانی و سماجی مسائل کے پائیدار حل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق وہ پاکستان کے عوام کے لیے بامعنی اور دیرپا اثرات پیدا کرنے کی غرض سے قومی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھے گی۔
