اسلام آباد: کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے اشتراک سے کیپٹل مارکیٹس لرننگ پروگرام (سی ایم ایل پی) کے تحت سی سی پی ہیڈکوارٹرز میں ایک تکنیکی تربیتی نشست کا انعقاد کیا۔ نشست کا مقصد افسران کو پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس، ان کے طریقہ کار اور معیشت میں ان کے کردار سے متعلق بہتر عملی سمجھ فراہم کرنا تھا۔
ایس ای سی پی کے جوائنٹ ڈائریکٹر مرتضیٰ نقوی نے مالیاتی فیصلوں، پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے کام کرنے کے طریقہ کار، اہم مارکیٹ شرکا، ریگولیٹڈ سرمایہ کاری چینلز اور ذمہ دارانہ سرمایہ کاری پر عملی پریزنٹیشن دی۔ اس موقع پر اسٹاکس پی کے ایپلی کیشن کے ذریعے ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھولنے اور لائسنس یافتہ بروکرز کے ذریعے مارکیٹ تک رسائی کا براہ راست عملی مظاہرہ بھی کیا گیا۔
ایس ای سی پی کے کمشنر ذیشان خٹک نے معیشت میں اسٹاک مارکیٹس کے اہم کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شفافیت، پیش گوئی کے قابل نظام اور معیار بندی عوامی سمجھ بوجھ اور اعتماد کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بڑی عالمی معیشتوں کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ بڑی لسٹڈ کمپنیاں ترقی کے عمل اور مستقبل کے امکانات کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔
ذیشان خٹک نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کے باعث مارکیٹ معلومات اور ٹریڈنگ پلیٹ فارمز تک رسائی زیادہ آسان ہوئی ہے، جس سے شرکت کے مواقع وسیع ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وسیع رسائی کے ساتھ مالیاتی آگاہی اور خطرات کی درست سمجھ بھی ضروری ہے تاکہ سرمایہ کاری کے فیصلے معلومات کی بنیاد پر اور ذمہ داری سے کیے جا سکیں۔
اختتامی کلمات میں چیئرمین سی سی پی فرید احمد تارڑ نے کہا کہ پاکستان ابھی اپنی کیپٹل مارکیٹ کی مکمل صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ انہوں نے مالیاتی خواندگی کو مضبوط بنانے، بچت اور سرمایہ کاری کے کلچر کو فروغ دینے اور سیونگز ٹو جی ڈی پی شرح کو بہتر کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جو علاقائی معیشتوں کے مقابلے میں کم ہے۔
فرید احمد تارڑ نے کہا کہ باخبر شرکت کا آغاز سرمایہ کاری کے مواقع اور ان سے منسلک خطرات کو سمجھنے سے ہوتا ہے۔ ان کے مطابق زیادہ خطرے والی سرمایہ کاری سے زیادہ منافع کے امکانات کو ممکنہ نقصانات کے مقابلے میں احتیاط سے جانچنا چاہیے۔
چیئرمین سی سی پی نے مزید کہا کہ معاشی اتار چڑھاؤ اور مسلسل چیلنجز کے باوجود پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کام کرتی رہی ہے اور معاشی کارکردگی کا ایک اہم پیمانہ ہے۔ انہوں نے ایس ای سی پی کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی عملی تربیت سی سی پی افسران کو مارکیٹ آپریشنز اور ریگولیٹڈ سرمایہ کاری چینلز کی بہتر سمجھ دے گی، جس سے وہ زیادہ باخبر مالیاتی فیصلے کر سکیں گے۔
سی سی پی کی ممبر بشریٰ ناز ملک، کمیشن کی سینئر مینجمنٹ اور افسران نے بھی تربیتی نشست میں شرکت کی۔
