اسلام آباد: صحافی سعدیہ مظہر نے پاکستان ٹیلی ویژن کے خلاف اپنی آر ٹی آئی اپیل احتجاجاً واپس لینے کی درخواست دے دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن کے حکم پر دو سال کے لگ بھگ عرصہ گزرنے کے باوجود عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
سعدیہ مظہر نے اکتوبر 2024 میں پی ٹی وی میں ہونے والی تقرریوں سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے آر ٹی آئی درخواست دائر کی تھی۔ ان کے مطابق طویل عرصہ گزرنے کے باوجود مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس پر انہوں نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے روبرو زیر سماعت اپیل واپس لینے کی باضابطہ استدعا بطور احتجاج کی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق کمیشن نے تقریباً ایک سال بعد ان کی اپیل منظور کی، حالاں کہ قانون کے تحت اس معاملے کا فیصلہ 60 دن میں ہونا تھا۔ کمیشن نے پاکستان ٹیلی ویژن کو ہدایت کی تھی کہ مطلوبہ معلومات 10 دن کے اندر فراہم کی جائیں۔ سعدیہ مظہر کے مطابق یہ حکم تقریباً ستمبر 2025 میں جاری ہوا، مگر ایک اور طویل مدت گزرنے کے باوجود معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
سعدیہ مظہر نے کہا کہ اس دوران معاملہ بار بار ملتوی کیا گیا اور اضافی وقت دیا جاتا رہا، لیکن کوئی مؤثر پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ان کے مطابق کمیشن کے پاس عدم تعمیل کی صورت میں کارروائی شروع کرنے کے قانونی اختیارات موجود ہیں، مگر ان اختیارات کے باوجود کمیشن اپنے ہی حکم پر مؤثر عمل درآمد یقینی نہ بنا سکا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اپیل واپس لینے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مطلوبہ معلومات کے حق سے دستبردار ہو رہی ہیں۔ ان کے بقول یہ فیصلہ دراصل کمیشن کی جانب سے اپنے حکم پر عمل درآمد نہ کرا سکنے کے خلاف احتجاج ہے۔
سعدیہ مظہر نے مزید کہا کہ انہیں بعض معلومات موصول ہوئی ہیں جنہیں وہ فی الحال آف دی ریکارڈ سمجھتی ہیں، اس لیے وہ کسی فرد یا ادارے کے خلاف کوئی الزام عائد نہیں کر رہیں۔ تاہم ان کے مطابق ان معلومات میں پی ٹی وی، وزارت اطلاعات اور کمیشن سے متعلق بعض ملاقاتوں، تقرریوں کی درخواستوں اور دیگر امور کا حوالہ موجود ہے۔
ان کے مطابق یہ تفصیلات ادارہ جاتی شفافیت اور ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کے حوالے سے سوالات ضرور اٹھاتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ اس مرحلے پر ان معلومات کو حتمی ثبوت یا الزام کے طور پر پیش نہیں کر رہیں۔
سعدیہ مظہر کا کہنا تھا کہ اگر وہی ادارہ، جس سے شہری اپنے حق معلومات کے تحفظ اور نفاذ کی توقع رکھتے ہیں، اپنے جاری کردہ حکم پر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے تو پورے رائٹ ٹو انفارمیشن نظام کی مؤثریت اور ساکھ پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے کمیشن سے درخواست کی ہے کہ اپنے آئندہ حکم میں ان کی جانب سے جمع کرائے گئے تمام اعتراضات، آر ٹی آئی معاملے میں غیر معمولی تاخیر، کمیشن کے اپنے حکم پر عمل درآمد میں ناکامی، دستیاب قانونی اختیارات استعمال نہ کیے جانے اور احتجاجاً اپیل واپس لینے کی وجوہات کو واضح طور پر شامل کیا جائے اور ان کا جواب دیا جائے۔
سعدیہ مظہر نے کہا، ”میں اپنے حق معلومات سے دستبردار نہیں ہو رہی، بلکہ تقریباً دو سال تک مؤثر پیش رفت نہ ہونے کے خلاف احتجاج کر رہی ہوں۔“
