امن و سلامتی میں خواتین کا کردار ناگزیر ہے، آئی ایس ایس آئی سیمینار میں مقررین کا اظہارِ خیال

newsdesk
9 Min Read
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں خواتین، امن اور سلامتی کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے مقررین خطاب کر رہے ہیں۔

اسلام آباد: انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے آرمز کنٹرول اینڈ ڈس آرمامنٹ سینٹر (اے سی ڈی سی) کے زیرِ اہتمام “پاکستان کی خواتین، امن و سلامتی” کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا، جس میں ممتاز خواتین رہنماؤں، سفارت کاروں، اسٹریٹجک ماہرین، پالیسی پریکٹیشنرز اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

سیمینار میں خواتین کے کردار کو سخت اور نرم سلامتی کے مختلف پہلوؤں کے تناظر میں اجاگر کیا گیا، جن میں جوہری تحفظ، سلامتی، اسٹریٹجک استحکام، امن سازی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے غیر روایتی سلامتی چیلنجز شامل ہیں۔

کلیدی خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی سابق سیکرٹری خارجہ اور جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے لیے سابق مستقل مندوب، سفیر تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ امن، سلامتی اور سفارت کاری میں خواتین کی زیادہ شمولیت مساوات اور معاشرے کی مکمل صلاحیت سے استفادہ کرنے سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم تک رسائی اور پیشہ ورانہ ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کا خاتمہ بھی نہایت ضروری ہے۔

سفیر تہمینہ جنجوعہ نے کثیرالجہتی سفارت کاری، آرمز کنٹرول مذاکرات اور عالمی تخفیفِ اسلحہ کے ڈھانچوں میں خواتین کی قیادت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی خواتین سفارت کار عالمی فورمز پر قومی سلامتی کے مفادات کا مسلسل دفاع کرتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق قومی سلامتی اور سفارت کاری خواتین کی مکمل شمولیت کے بغیر ادھوری رہتی ہیں۔

انہوں نے سماجی اور ساختی رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو باہر رکھنے سے ملک اپنی نصف مہارت اور امن سازی کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے گھروں اور دفاتر میں ترقی کی راہ میں سماجی رکاوٹیں ختم کرنے، خواتین کی اعلیٰ تعلیم، سلامتی کے شعبوں میں خواتین ماہرین کا ڈیٹا میپنگ، طلبہ کی رہنمائی، تھنک ٹینکس اور میڈیا میں منظم انٹرن شپس، اور انسدادِ دہشت گردی کے اسٹریٹجک تجزیے میں خواتین کو شامل کرنے کی سفارشات پیش کیں۔

مہمانِ اعزاز کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی قائم مقام ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر اور پاکستان میں یونیسف کی نمائندہ مس پرنیلے آئرن سائیڈ نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1325 کے تحت خواتین کی شمولیت محض فلاحی معاملہ نہیں بلکہ ایک واضح سلامتی اصول ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات میں مارے جانے والے ہر چار شہریوں میں سے ایک خاتون ہوتی ہے، جبکہ رسمی امن عمل میں خواتین کی نمائندگی نہایت کم ہے۔

مس پرنیلے آئرن سائیڈ نے کہا کہ مضبوط سلامتی کے لیے سائنس، سفارت کاری اور سکیورٹی میں خواتین کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے تاکہ تجزیاتی معیار بہتر ہو، مفروضات کا جائزہ لیا جا سکے اور حکمتِ عملیاں مقامی حقائق پر استوار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 67 فیصد نوجوان آبادی اس کا سب سے بڑا اثاثہ ہے اور طویل المدتی استحکام و خوشحالی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔

انہوں نے پاکستان کو درپیش موسمیاتی خطرات، خصوصاً تباہ کن سیلابوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار قومی لچک اور علاقائی استحکام کا دارومدار اس بات پر ہے کہ خواتین کو معاشی، ماحولیاتی اور سلامتی کے فریم ورکس میں مرکزی فیصلہ ساز بنایا جائے۔ انہوں نے جامع ترقی اور پائیدار امن کے لیے پاکستان کے ساتھ اقوامِ متحدہ کی مستقل حمایت کا اعادہ کیا۔

“جوہری تحفظ، سلامتی اور ضابطہ کاری میں خواتین کی خدمات” کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پی این آر اے کی سینئر انٹرنیشنل ریلیشنز آفیسر مس نورین افتخار نے کہا کہ خواتین کی تکنیکی، قانونی اور ریگولیٹری مہارت قومی جوہری تحفظ کے نظام کو براہِ راست مضبوط بناتی ہے۔ انہوں نے پی این آر اے میں خواتین کے اہم کردار پر روشنی ڈالی، جن میں فیلڈ انسپیکشنز، لائسنسنگ، ہنگامی تیاری اور ماحولیاتی تحفظ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو STEM اور اسٹریٹجک ریگولیشن میں آگے بڑھانے کے لیے بااختیار ماحول اور آئی اے ای اے جیسے بین الاقوامی فورمز تک مساوی رسائی ضروری ہے۔

قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ دفاعی و اسٹریٹجک اسٹڈیز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سلمیٰ ملک نے “اسٹریٹجک استحکام کے فروغ میں خواتین کا کردار” کے موضوع پر خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سلامتی ڈھانچے میں صنفی فرق کم کرنے کے لیے منظم راستے وضع کرنے کی ضرورت ہے، جن میں ویمن، پیس اینڈ اسٹریٹجک اسٹیبلٹی فورم، پالیسی اپرنٹس شپس اور جوہری خطرات میں کمی سے متعلق مذاکرات میں باضابطہ شمولیت شامل ہے۔

ڈاکٹر سلمیٰ ملک نے کہا کہ خواتین ماہرین کو جوہری خطرات میں کمی، بحرانوں کے انتظام، مصنوعی ذہانت، سائبر، خود مختار نظاموں اور کشیدگی میں اضافے کے خطرات کے جائزوں میں شامل کیا جانا چاہیے۔

“امن سازی اور امن مشنز میں خواتین کا کردار” کے عنوان پر بات کرتے ہوئے یو این ویمن پاکستان کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ مس فہمیدہ اقبال خان نے کہا کہ خواتین انسدادِ دہشت گردی اور سلامتی کے لیے فیصلہ کن اثاثہ ہیں اور ان کی شمولیت امن کو زیادہ پائیدار بناتی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے مضبوط عالمی امن مشنز ریکارڈ اور داخلی سلامتی حکمتِ عملی کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مس فہمیدہ اقبال خان نے کہا کہ صنفی نوعیت کے سلامتی خطرات اور ٹیکنالوجی کے بطور ہتھیار استعمال کا مقابلہ کرنے کے لیے خواتین کو نچلی سطح پر شامل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے فوری ادارہ جاتی اقدامات پر زور دیا، جن میں خواتین، امن و سلامتی سے متعلق قومی ایکشن پلان، انسدادِ دہشت گردی فریم ورکس میں WPS کی شمولیت، اور پولیس و امن مشنز میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ شامل ہے۔

“موسمیاتی لچک اور غیر روایتی سلامتی میں خواتین کی خدمات” پر گفتگو کرتے ہوئے سی ایس سی سی سی کی چیف ایگزیکٹو مس عائشہ عزیز خان نے کہا کہ دیہی خواتین موسمیاتی آفات، غذائی عدم تحفظ اور پانی کی قلت کے محاذ پر سب سے آگے ہیں، مگر فیصلہ سازی میں ان کی نمائندگی انتہائی کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی خطرات اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے دوہرے چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے فوری ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے سے جی ڈی پی میں 9 سے 23 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ پائیدار لچک کے لیے انہوں نے 20 سالہ مثبت اقدام پلان کی تجویز دی، جس کے تحت تمام شعبوں میں خواتین کے لیے مخصوص نشستیں اور وسائل تک مساوی رسائی یقینی بنائی جائے۔

اس سے قبل اپنے خیرمقدمی کلمات میں آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سفیر معین الحق نے قومی سلامتی، کثیرالجہتی سفارت کاری اور پائیدار امن سازی میں خواتین کے مرکزی کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا قومی لچک، سلامتی اور ترقی میں سرمایہ کاری ہے، کیونکہ کوئی بھی قوم اپنے تمام افراد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے بغیر اپنی مکمل استعداد حاصل نہیں کر سکتی۔

سیمینار کا ایجنڈا پیش کرتے ہوئے اے سی ڈی سی کے ڈائریکٹر ملک قاسم مصطفیٰ نے کہا کہ پاکستانی خواتین خارجہ پالیسی، سائنسی اداروں، دفاعی افواج اور اکیڈمیا میں نمایاں پیش رفت کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیمینار خواتین کی تکنیکی، ریگولیٹری اور پالیسی سطح کی خدمات کو مزید واضح انداز میں سامنے لانے کا ذریعہ ہے۔

Share This Article