قرارداد الحاق پاکستان تحریک کشمیر کی بنیاد ہے، سردار حسن ابراہیم

newsdesk
5 Min Read
جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسن ابراہیم نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کی۔

اسلام آباد: جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسن ابراہیم نے کہا ہے کہ 19 جولائی 1947 کو سری نگر میں منظور کی گئی قرارداد الحاق پاکستان ریاست جموں و کشمیر کی جدوجہد کا بنیادی حوالہ ہے اور موجودہ حالات میں اس دن کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پارٹی کے مرکزی قائدین کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار حسن ابراہیم نے کہا کہ قیام پاکستان سے پہلے ہی پونچھ کے غیور اور بہادر عوام نے سردار ابراہیم کی قیادت میں جموں و کشمیر ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے لیے 19 جولائی 1947 کو سری نگر میں قرارداد منظور کی گئی، جبکہ ڈوگرا راج کے فیصلوں اور ہندوستان کی جارحیت کے باوجود یہ تحریک آج تک جموں و کشمیر میں جاری ہے۔

سردار حسن ابراہیم کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کا وجود اسی تاریخی قرارداد کا نتیجہ ہے، اقوام متحدہ میں استصواب رائے سے متعلق قراردادوں کی بنیاد بھی یہی قرارداد الحاق پاکستان ہے، اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری جدوجہد بھی اسی نظریے سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام تمام تر چیلنجز اور مشکلات کے باوجود اس تحریک کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کے حالات میں 19 جولائی کو یاد رکھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ بہت سے عاقبت نااندیش اور شرپسند عناصر آزاد کشمیر کے لوگوں کو درست راستے سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کی وابستگی پاکستان کے ساتھ ہے اور یہ رشتہ آج بھی قائم ہے۔

میڈیا نمائندوں کے سوالات کے جواب میں سردار حسن ابراہیم نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بلاشبہ کئی مسائل موجود ہیں اور ان مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے، تاہم ان کے بقول کشمیر کے معصوم عوام اس وقت عوامی ایکشن کمیٹی کے مذموم عزائم سے آگاہ نہیں ہیں، جبکہ کشمیر میں راستے اور بازار بند ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور معاملہ فہمی سے کام لیں، ہم ان کے ساتھ مل کر مسائل کے حل کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے راولاکوٹ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت راولاکوٹ عملی طور پر بند ہے، اس لیے وہاں انتخابی امیدواروں کے لیے الیکشن میں حصہ لینے کا سازگار ماحول موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو اس معاملے پر غور کرنا چاہیے اور کم از کم راولاکوٹ کی حد تک منصفانہ الیکشن کے انعقاد کے لیے امیدواروں کو انتخابی تیاری کا مناسب وقت دیا جانا چاہیے۔

مہاجرین کی نشستوں سے متعلق سوال پر سردار حسن ابراہیم نے کہا کہ مہاجرین کی نشستیں 12 ہوں یا 6، یا کوئی بھی متبادل حل سامنے آئے، اس فیصلے کو آنے والی قانون ساز اسمبلی کے سپرد کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ ایک آئینی معاملہ ہے اور اسے بہتر انداز میں حل کیا جانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ پاکستان میں شامل ہونے کی جدوجہد جاری رکھی اور آج بھی انہیں پاکستان پر فخر ہے۔ سردار حسن ابراہیم نے کہا کہ ایک موقع پر سردار خالد ابراہیم سے کہا گیا کہ الیکشن میں حصہ لینے کے لیے پاکستان کا ایڈریس چھوڑنا پڑے گا، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ الیکشن میں موقع دیا جائے یا نہ دیا جائے، وہ پاکستان کا ایڈریس نہیں چھوڑیں گے۔

سردار حسن ابراہیم نے کہا کہ آج بھی وہ یہی کہتے ہیں کہ کشمیر کے لوگوں کے دل پاکستان سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے آخر میں کہا: پاکستان زندہ باد، کشمیر پائندہ باد۔

Share This Article