اسلام آباد: سی ڈی اے ہسپتال اسلام آباد کے شعبۂ اینڈوکرائنولوجی نے پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی (PES) کے تعاون سے پچوٹری اور مینوپاز آگاہی سمپوزیم 2026 کا کامیاب انعقاد کیا۔ یہ پروگرام سی ڈی اے ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد نعیم تاج کی نگرانی میں منعقد ہوا، جبکہ ڈاکٹر سرور ملک نے آرگنائزنگ چیئر کی حیثیت سے انتظامی ذمہ داریاں انجام دیں۔
سمپوزیم میں پچوٹری غدود سے متعلق امراض، ہارمونل مسائل، مینوپاز کے دوران جسمانی تبدیلیوں اور خواتین کی صحت پر ان کے اثرات کے حوالے سے سائنسی اور تعلیمی گفتگو کی گئی۔
سائنسی نشست میں تین اہم پریزنٹیشنز شامل تھیں۔ ڈاکٹر حنا ستار نے گروتھ ہارمون کی کمی کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ ڈاکٹر سرور ملک نے ہائپرپرولیکٹینیمیا کی کلینیکل ایویلیوایشن اور کیس ڈسکشن پیش کی۔ ڈاکٹر فریحہ وقار نے مینوپاز کے مرحلے کے دوران ہائپوتھیلمک، پچوٹری اور اوورین محور (HPO Axis) میں ہونے والی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی۔
تقریب میں مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل پینل بھی شریک ہوا، جن میں ڈاکٹر شیبا نورین، ڈاکٹر عطیہ نوید، ڈاکٹر عزیز النساء، ڈاکٹر عظمٰی علی سربراہ شعبۂ ڈرماٹولوجی، ڈاکٹر مہرخ زہور کارڈیک سرجن، ڈاکٹر ہادیہ عزیز، ڈاکٹر سرفراز خان اور دیگر معزز اینڈوکرائنولوجسٹس شامل تھے۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر مریم امتیاز، فیلو اِن اینڈوکرائنولوجی نے کی۔
سمپوزیم میں اینڈوکرائنولوجی، گائناکالوجی، پیڈیاٹرکس، سرجری، میڈیسن اور ڈرماٹولوجی کے طبی ماہرین نے شرکت کی، جبکہ نرسنگ اسٹاف اور میڈیکل انٹرنز کی شرکت بھی نمایاں رہی۔ شرکا کی دلچسپی نے مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کے لیے ٹیم ورک، پیشہ ورانہ تعلیم اور بین الشعبہ جاتی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
ماہرین کے مطابق پچوٹری کے امراض نشوونما، تولیدی صحت، ماہواری اور دیگر ہارمونل افعال کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے بروقت شناخت، مناسب جانچ اور درست علاج نہایت اہم ہیں۔
مقررین نے واضح کیا کہ مینوپاز کوئی بیماری نہیں بلکہ خواتین کی زندگی کا ایک فطری مرحلہ ہے۔ اس دوران ہارمونل تبدیلیاں نیند، مزاج، جلد، ہڈیوں اور قلبی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ آگاہی، صحت مند طرزِ زندگی اور انفرادی ضرورت کے مطابق طبی رہنمائی خواتین کی مجموعی صحت برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
سمپوزیم میں سی ڈی اے ہسپتال کے طبی تعلیم، شواہد پر مبنی علاج اور اینڈوکرائن امراض سے متعلق آگاہی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ منتظمین نے قیادت، آرگنائزنگ ٹیم، مقررین، ماہر پینلسٹس، شریک شعبہ جات، نرسنگ اسٹاف، میڈیکل انٹرنز اور تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس تعلیمی اقدام کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کیا۔
