خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات کے مسائل پر وائس چانسلرز کانفرنس

newsdesk
7 Min Read
جامعہ پشاور میں منعقدہ وائس چانسلرز کانفرنس میں سرکاری جامعات کے مسائل اور اصلاحات پر غور کیا گیا۔

پشاور: خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات کو درپیش تعلیمی، انتظامی اور مالی مشکلات کا جائزہ لینے، ادارہ جاتی اصلاحات کو مضبوط بنانے اور جامعات کی مالی پائیداری کے لیے قابل عمل سفارشات مرتب کرنے کے مقصد سے جمعرات کو جامعہ پشاور میں وائس چانسلرز کانفرنس منعقد ہوئی۔

کانفرنس میں خیبر پختونخوا کے رکن مشاورتی کونسل برائے تعلیم ڈاکٹر عامر عبداللہ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ سیکرٹری ہائر ایجوکیشن، آرکائیوز اینڈ لائبریریز عابداللہ کاکاخیل، اسپیشل سیکرٹری فضل حسین، ڈائریکٹر کوالٹی ایشورنس ہائر ایجوکیشن ڈاکٹر عمران اللہ مروت، صوبے کی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز اور دیگر اعلیٰ انتظامی افسران بھی کانفرنس میں شریک ہوئے۔

کانفرنس کا بنیادی مقصد سرکاری جامعات کو درپیش اہم مسائل کی نشاندہی کرنا اور مشترکہ مشاورت کے ذریعے مؤثر اور عملی سفارشات تیار کرنا تھا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عامر عبداللہ نے کہا کہ تعلیم و تعلم ہی جامعہ کی زندگی کا بنیادی مقصد ہے، اس لیے طلبہ کو ایسا ماحول فراہم کیا جانا چاہیے جو ان کی تعلیمی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی سرگرمیوں کی نگرانی بھی ضروری ہے تاکہ کیمپس میں ان کا وقت مثبت اور تعمیری کاموں میں صرف ہو۔

ڈاکٹر عامر عبداللہ نے واضح کیا کہ حکومت کی جامعات کے اندر ہر قسم کی منفی سرگرمیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، اس لیے یونیورسٹی انتظامیہ کو بھی اس معاملے میں سخت رویہ اختیار کرنا چاہیے اور کسی قسم کی نرمی نہیں دکھانی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ جامعات کے کیمپس کو ہر طرح کی ناپسندیدہ سرگرمیوں سے پاک رکھا جائے۔

رکن مشاورتی کونسل برائے تعلیم نے جامعات میں مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے کی ضرورت پر خاص زور دیا۔ انہوں نے جامعات کے موجودہ داخلی آڈٹ نظام کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مؤثر مالی نگرانی اور احتساب کے لیے اس نظام میں بہتری ناگزیر ہے۔

انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ طلبہ کے ہاسٹلز میں معیاری رہائشی سہولیات فراہم کی جائیں اور موجودہ رہائش گاہوں سمیت متعلقہ سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے۔

ڈاکٹر عامر عبداللہ نے کہا کہ جامعات کے کیمپس کو منشیات سے پاک بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جہاں ضلعی انتظامیہ یا پولیس کی معاونت درکار ہو، یونیورسٹی انتظامیہ فوری طور پر متعلقہ حکام سے رابطہ کرے تاکہ بروقت اور مؤثر مدد حاصل کی جا سکے۔

کانفرنس کے ورکنگ گروپس کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے شریک ماہرین پر زور دیا کہ وہ ایسی عملی سفارشات تیار کریں جن پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا جا سکے اور جن کے ذریعے جامعات کو درپیش مسائل کا حل ممکن ہو۔

ڈاکٹر عامر عبداللہ نے اعلیٰ تعلیم اور جامعاتی نظام کے تاریخی ارتقا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ قدیم دور سے علمی و فکری سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گپتا اور موریہ ادوار میں علم و تحقیق کو فروغ حاصل ہوا، جبکہ نالندہ اور ٹیکسلا جیسے معروف تعلیمی مراکز اعلیٰ تعلیم کے اہم اداروں کے طور پر جانے جاتے تھے، جہاں مختلف علمی موضوعات پر مباحثے اور مکالمے ہوتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی تاریخ میں جامعہ القرویین جیسے اداروں نے علم اور تحقیق کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح حجاز، بیت الحکمت اور ترجمہ تحریکوں سے وابستہ علمی و تحقیقی مراکز نے فکری ترقی اور علم کے پھیلاؤ میں نمایاں حصہ ڈالا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے ارتقا کا اگلا مرحلہ قرون وسطیٰ کا دور تھا، جس میں تعلیمی اسناد کا تصور نمایاں ہوا۔ برطانوی نوآبادیاتی دور میں ایسا تعلیمی نظام اور ادارہ جاتی ماڈل متعارف ہوا جس کے اثرات ملک کے تدریسی و تعلیمی طریقہ کار میں آج بھی دکھائی دیتے ہیں۔

جدید جامعاتی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر عامر عبداللہ نے کہا کہ دنیا کی نمایاں جامعات کے استحکام اور امتیاز میں مضبوط مالیاتی نظام کا بنیادی کردار ہے۔ ایسی جامعات اپنے مالی وسائل کو مستحکم کرنے اور بیرونی فنڈنگ پر انحصار کم کرنے کے لیے مختلف حکمت عملیاں اپناتی ہیں، جس سے انہیں تحقیق، تعلیمی ترقی اور مسابقت میں بہتر سرمایہ کاری کا موقع ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کا جدید دور اینڈومنٹ فنڈز، تحقیق اور تعلیمی مسابقت سے عبارت ہے۔ انہوں نے جامعات کی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے اس جدید مرحلے سے ہم آہنگی کو ترجیح دیں اور مالی پائیداری، تحقیق کے فروغ اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

ڈاکٹر عامر عبداللہ نے کانفرنس کو جامعات کو درپیش بنیادی چیلنجز پر غور و فکر اور قابل عمل سفارشات کی تیاری کا اہم موقع قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے کسی مشاورتی فرم کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی تھیں، تاہم جامعات کے تجربہ کار ماہرین کی اجتماعی مشاورت سے سفارشات کی تیاری سرکاری جامعات کی ادارہ جاتی کارکردگی، تعلیمی سرگرمیوں اور گورننس میں بہتری کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

جامعہ پشاور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جوہر علی، عابداللہ کاکاخیل اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔

کانفرنس کے ورکنگ گروپس نے جامعات کو درپیش متعدد اہم امور پر غور کیا، جن میں تعلیمی و انتظامی مسائل، گورننس اصلاحات، انسداد ہراسانی پالیسیوں پر عمل درآمد، کیمپسز سے منشیات کے خاتمے کے اقدامات، مالی مشکلات، اینڈومنٹ فنڈز کے قیام اور استحکام، اور ایلومنائی ایسوسی ایشنز کو فعال بنانے جیسے معاملات شامل تھے۔ ورکنگ گروپس نے ان مسائل کے حل کے لیے اپنی سفارشات اور تجاویز بھی پیش کیں۔

Share This Article