پشاور: خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن نے خیبر پختونخوا سٹیز امپروومنٹ پراجیکٹ (KPCIP) کو ہدایت کی ہے کہ شہری کی جانب سے مانگی گئی معلومات پانچ ورکنگ دنوں کے اندر کمیشن میں جمع کرائی جائیں۔ یہ حکم اس وقت جاری کیا گیا جب کمیشن کی بار بار ہدایات کے باوجود متعلقہ محکمہ مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہ کر سکا۔
کمیشن کا حکم 16 ستمبر 2026 کو جاری ہوا، جس کا تعلق شکایت نمبر 14475 سے ہے۔ یہ شکایت محمد نعیم نے KPCIP کے خلاف دائر کی، جو پشاور میں محکمہ لوکل گورنمنٹ، الیکشنز اینڈ رورل ڈویلپمنٹ کے تحت کام کرتا ہے۔ ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق مردان میں KPCIP منصوبہ 10 ارب روپے کا عوامی ترقیاتی منصوبہ ہے، اس لیے سرکاری فنڈز کے استعمال سے متعلق شفافیت کو اہم معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
کمیشن کے حکم کے مطابق محمد نعیم نے 4 ستمبر 2026 کو KPCIP کو باضابطہ طور پر معلومات کے حصول کی درخواست دی تھی۔ اس درخواست کو خیبر پختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کی دفعہ 10، دفعہ 11 کے ساتھ ملا کر، نمٹایا جانا تھا۔ تاہم محکمہ نے درخواست کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق پراسیس نہیں کیا، جس کے بعد شہری نے انفارمیشن کمیشن سے رجوع کیا۔
کمیشن نے اپنے حکم میں کہا کہ پبلک باڈی کو متعدد مواقع پر ہدایات جاری کی گئیں کہ مکمل مطلوبہ معلومات فراہم کی جائیں، مگر اس کے باوجود معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ کمیشن کے مطابق ہدایات پر عمل نہ ہونے کے باعث قانون کی دفعہ 26 کے تحت سماعت ضروری ہو گئی تھی۔
اس کے بعد کمیشن نے متعلقہ محکمہ کے پبلک انفارمیشن آفیسر کو 16 ستمبر 2026 کو طلب کیا تاکہ شکایت کا فیصلہ مزید تاخیر کے بغیر میرٹ پر کیا جا سکے۔
سماعت کے دوران KPCIP کے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن آفیسر عمیر حسین خٹک محکمہ کی جانب سے پیش ہوئے۔ انہوں نے کمیشن کو یقین دہانی کرائی کہ مطلوبہ معلومات مناسب مدت کے اندر فراہم کر دی جائیں گی۔
محکمہ کے نمائندے کو سننے کے بعد کمیشن نے پبلک انفارمیشن آفیسر کو ہدایت دی کہ درخواست کردہ معلومات پانچ ورکنگ دنوں میں کمیشن کے سامنے جمع کرائی جائیں۔ حکم میں واضح کیا گیا کہ معلومات مقررہ مدت کے اندر فراہم کرنا لازم ہے۔
یہ معاملہ عوامی فنڈز سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق معلومات تک شہریوں کی رسائی کے اہم سوال کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ قانون کے تحت شہریوں کو سرکاری اداروں سے معلومات طلب کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ سرکاری محکموں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسی درخواستوں کو قانون کے مطابق نمٹائیں۔
مردان میں 10 ارب روپے مالیت کے منصوبے کے حوالے سے ریکارڈ تک رسائی اس لیے اہم ہے کہ اس سے فنڈز کی تقسیم، منصوبے کے تحت جاری سرگرمیوں اور عوامی وسائل کے استعمال کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ کمیشن کے حکم میں KPCIP کے خلاف کسی مالی بے ضابطگی کا تعین نہیں کیا گیا، تاہم یہ ضرور ریکارڈ کیا گیا کہ سابقہ ہدایات کے باوجود مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
کمیشن کے فیصلے نے محکمہ کو ریکارڈ جمع کرانے کے لیے واضح ڈیڈ لائن دے دی ہے اور شہری کی شکایت کو قانونی عمل کے تحت آگے بڑھانے کی راہ فراہم کی ہے۔ اب اس معاملے میں اگلا مرحلہ اس بات پر منحصر ہو گا کہ آیا KPCIP پانچ ورکنگ دنوں کے اندر حکم پر عمل کرتا ہے یا نہیں۔
حکم نامے پر چیف انفارمیشن کمشنر اور کمشنر ون کے دستخط موجود ہیں۔ اس کی نقول KPCIP پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر، عمیر حسین خٹک، متعلقہ محکمہ اور خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ارسال کی گئیں تاکہ اسے کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع کیا جا سکے۔
یہ کیس اس کردار کو نمایاں کرتا ہے جو انفارمیشن کمیشن سرکاری محکموں کو قانونی معلوماتی درخواستوں کا جواب دینے کا پابند بنانے اور شہریوں کو عوامی منصوبوں اور اخراجات سے متعلق جوابات تک رسائی دلانے میں ادا کرتا ہے۔
