اسلام آباد: سہ ملکی ون ڈے سیریز میں ناقابل شکست پاکستان منگل 27 اکتوبر کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں سری لنکا کے خلاف پانچواں میچ کھیلے گا۔
پاکستان نے اب تک ٹورنامنٹ میں تین میچز کھیلے ہیں، جن میں دو مقابلے انگلینڈ اور ایک سری لنکا کے خلاف تھا۔ میزبان ٹیم تینوں میچز جیت کر پہلے ہی فائنل میں جگہ بنا چکی ہے۔ فائنل ہفتہ 31 اکتوبر کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔
اسی ٹورنامنٹ میں سری لنکا کے خلاف گزشتہ مقابلے میں پاکستان نے 37 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس میچ میں سلمان علی آغا نے 90 گیندوں پر 107 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں نو چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ بولنگ میں کپتان شاہین شاہ آفریدی نے نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔
شاہین شاہ آفریدی اب تک اس ٹورنامنٹ کے تین میچز میں سات وکٹیں لے چکے ہیں۔ اتوار کو انگلینڈ کے خلاف میچ کے پہلے اوور میں ٹام بینٹن کو آؤٹ کر کے وہ ون ڈے کرکٹ میں 150 وکٹیں مکمل کرنے والے پاکستان کے تیز ترین فاسٹ بولر بن گئے۔
قذافی اسٹیڈیم میں شاہین شاہ آفریدی کی کارکردگی بھی قابل ذکر رہی ہے۔ وہ اس میدان پر سات ون ڈے میچز میں 20 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں، جن میں دو مرتبہ چار وکٹوں کی کارکردگی شامل ہے۔ انہیں اس وینیو پر ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والا بولر بننے کے لیے مزید چار وکٹیں درکار ہیں۔ اس وقت سابق فاسٹ بولر وسیم اکرم نے قذافی اسٹیڈیم میں 18 میچز میں 23 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔
منگل کا میچ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان 162واں ون ڈے ہوگا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک کھیلے گئے 161 میچز میں پاکستان نے 97 فتوحات حاصل کی ہیں، جبکہ سری لنکا 59 مرتبہ کامیاب رہا۔ ایک میچ ٹائی ہوا اور چار میچز بے نتیجہ رہے۔
اتوار کی شام پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف ایک سنسنی خیز مقابلے میں ایک وکٹ سے کامیابی حاصل کی۔ اس جیت میں شاداب خان کی پہلی ون ڈے سنچری نے اہم کردار ادا کیا۔ شاداب خان 96 گیندوں پر 113 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، ان کی اننگز میں 13 چوکے اور پانچ چھکے شامل تھے۔ انہوں نے حارث رؤف کے ساتھ دسویں وکٹ کے لیے 89 رنز کی ناقابل شکست ریکارڈ شراکت قائم کی۔ حارث رؤف 19 گیندوں پر سات رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، ان کی اننگز میں ایک چوکا شامل تھا۔
کامیابی کے بعد شاداب خان اور حارث رؤف نے پی سی بی ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو میں اپنی میچ وننگ شراکت اور اس یقین کا ذکر کیا جس نے پاکستان کو یادگار فتح تک پہنچایا۔
شاداب خان نے کہا: "دباؤ یقیناً بہت زیادہ تھا، لیکن ہم ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے رہے اور ماحول کو ہلکا رکھنے کی کوشش کی۔ ایک سینئر کھلاڑی کے طور پر ٹیم مینجمنٹ اور سلیکٹرز کی حمایت اور اعتماد بہت اہمیت رکھتا ہے۔ میں شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد برقرار رکھا اور میں اس اعتماد کا جواب دے سکا۔"
حارث رؤف نے کہا: "مجھے شروع ہی سے یقین تھا کہ ہم میچ جیت سکتے ہیں۔ میں شاداب سے کہتا رہا کہ یقین رکھو اور پُراعتماد رہو۔ آخر میں میں نے اسے کہا کہ میں خود میچ ختم کروں گا اور اللہ کا شکر ہے کہ ہم پاکستان کو جیت دلانے میں کامیاب رہے۔
"ہم پاکستان کے لیے ایک یادگار فتح حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اتنے قریبی مقابلے میں کامیابی خاص احساس دیتی ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ ہم پاکستان کے عوام کے لیے خوشی لے کر آئے۔"
سہ ملکی سیریز کے لیے پاکستان کا اپ ڈیٹ اسکواڈ:
شاہین شاہ آفریدی (کپتان)، ابرار احمد، سلمان علی آغا، عرفات منہاس، بابر اعظم، فہیم اشرف، فخر زمان، معاذ صداقت، محمد غازی غوری (وکٹ کیپر)، حارث رؤف، حسن نواز، نسیم شاہ، رضاع اللہ، سعد بیگ (وکٹ کیپر)، صاحبزادہ فرحان اور شاداب خان۔
