لاہور قلندرز کے پانچ نوجوان بولرز زمبابوے ڈومیسٹک سیزن کھیلیں گے

newsdesk
7 Min Read
چیئرمین پی سی بی سید محسن رضا نقوی نے لاہور قلندرز پلیئر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت منتخب بولرز کی تقریب میں شرکت کی۔

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین سید محسن رضا نقوی نے لاہور قلندرز کے پلیئر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت زمبابوے کے لیے منتخب کھلاڑیوں کے اعلان کی تقریب میں شرکت کی۔ چیئرمین پی سی بی کے اس وژن کے مطابق کہ نوجوانوں کو کرکٹ کے ذریعے بااختیار بنایا جائے، لاہور قلندرز نے زمبابوے کرکٹ کے ساتھ اپنی بین الاقوامی شراکت کو مزید مضبوط کرتے ہوئے ابھرتے ہوئے پاکستانی ٹیلنٹ کو پیشہ ورانہ تجربہ حاصل کرنے اور اعلیٰ سطح پر مقابلہ کرنے کے مواقع فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

اسی جاری تعاون کے تحت لاہور قلندرز پانچ بولرز کو زمبابوے بھیج رہا ہے جہاں وہ مکمل ڈومیسٹک کرکٹ سیزن میں حصہ لیں گے۔ یہ سیزن ریڈ بال اور وائٹ بال دونوں فارمیٹس پر مشتمل ہوگا۔ منتخب کھلاڑیوں میں تین فاسٹ بولرز ابو بکر، احد عزیز اور فضل الرحمٰن شامل ہیں، جبکہ دو اسپنرز عبدالعلی اور فیاض الرحمٰن بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔

پانچوں کھلاڑی مختلف ٹیلنٹ تلاش کرنے کے مراحل سے گزر کر منتخب ہوئے ہیں، جو لاہور قلندرز کی اس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت کرکٹرز کو سامنے لا کر ان کی تربیت کی جائے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ ابو بکر اور مریدکے کے 21 سالہ احد عزیز کو 2025 میں لاہور قلندرز پلیئر ڈویلپمنٹ پروگرام کے ٹرائلز کے ذریعے منتخب کیا گیا۔ گوجرانوالہ کے 22 سالہ عبدالعلی اور ضلع اوکاڑہ کے 23 سالہ فیاض الرحمٰن 2025 کے پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے ذریعے سامنے آئے، جس کے تحت لاہور قلندرز نے ملک بھر کے 28 شہروں میں خواہشمند کرکٹرز کے ٹرائلز کیے۔ 21 سالہ فضل الرحمٰن نے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی ہدایات کے مطابق منعقدہ پنڈی ٹائیگرز ٹرائلز کے ذریعے اپنی جگہ بنائی۔

یہ اقدام اس گزشتہ تبادلے کی کامیابی کو آگے بڑھاتا ہے جس میں لاہور قلندرز نے 2023-24 کے زمبابوے ڈومیسٹک سیزن کے لیے پانچ بولرز سلمان مرزا، جلات خان، مامون ریاض، محمد عادل اور حمزہ سجاد کو بھیجا تھا۔ اس سیزن میں سلمان مرزا اور جلات خان نمایاں وکٹ لینے والے بولرز میں شامل رہے، جس سے یہ ثابت ہوا کہ بین الاقوامی سطح کا تجربہ کھلاڑی کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سلمان مرزا کی پیش رفت اس پروگرام کے اثرات کی ایک اہم مثال قرار دی جا رہی ہے۔ زمبابوے ڈومیسٹک کرکٹ کے تجربے کے بعد وہ پی ایس ایل 10 میں لاہور قلندرز کے ساتھ ٹائٹل جیتنے والی ٹیم کا حصہ بنے اور پاکستان کی قومی ٹیم میں بھی طلب کیے گئے۔ جلات خان اور حمزہ سجاد نے بھی بالترتیب پنڈیز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی فرنچائزز کے لیے پاکستان سپر لیگ میں کھیلنے تک ترقی کی، جبکہ مامون ریاض اور محمد عادل باقاعدگی سے ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہے ہیں۔

چیئرمین پی سی بی سید محسن رضا نقوی نے لاہور قلندرز کے اس اقدام کو سراہا اور دیگر فرنچائزز پر بھی زور دیا کہ وہ کرکٹ کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ اس وقت ترقی کرے گی جب تمام فرنچائزز گراس روٹس کرکٹ کی بہتری اور ترقی کے لیے مل کر کام کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کی ترقی کے لیے کام کرنے والی فرنچائزز میں لاہور قلندرز کا نام سرفہرست ہے۔ انہوں نے لاہور قلندرز کے ہائی پرفارمنس سینٹرز میں قائم سہولیات کی بھی تعریف کی۔

لاہور قلندرز کے مالک اور ٹیم ڈائریکٹر ثمین رانا نے کہا کہ پلیئر ڈویلپمنٹ کا اصل اثر اس وقت سامنے آتا ہے جب نوجوان کرکٹرز کو آگے بڑھنے، مقابلہ کرنے اور اپنی صلاحیت ثابت کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ زمبابوے کرکٹ کے ساتھ تعاون کے ذریعے ان پانچ بولرز کو ایک مختلف کرکٹ ماحول اور مکمل ڈومیسٹک سیزن کا قیمتی تجربہ دیا جا رہا ہے۔

ثمین رانا نے چیئرمین پی سی بی سید محسن رضا نقوی کی موجودگی اور اس اقدام کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کے مطابق یہ لاہور قلندرز کی گیارہ سالہ محنت کا اعتراف ہے اور اس سے انہیں مزید محنت کرنے اور چیئرمین کے وژن میں حصہ ڈالنے کی ترغیب ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور قلندرز ایسا نظام بنانے کے لیے پرعزم ہے جو صرف ٹیلنٹ کی شناخت تک محدود نہ ہو بلکہ کھلاڑیوں کو ان کی پیشہ ورانہ کرکٹ میں آگے بڑھنے کے لیے درکار مہارت، اعتماد اور تجربہ بھی فراہم کرے۔

لاہور قلندرز کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے کرکٹ ٹیلنٹ کی منظم تربیت، بین الاقوامی ایکسپوژر اور مسابقتی مواقع کے ذریعے ترقی کے عزم کا ایک اور قدم ہے۔ نوجوان بولرز کو زمبابوے میں مکمل ڈومیسٹک سیزن کھیلنے کا موقع دے کر پروگرام کا مقصد ان کی تکنیکی صلاحیتوں، حکمت عملی کی سمجھ اور پروفیشنل کرکٹ کے لیے تیاری کو بہتر بنانا ہے۔

زمبابوے کرکٹ کے ساتھ مسلسل تعاون کے ذریعے لاہور قلندرز ابھرتے ہوئے کرکٹرز کے لیے پائیدار راستے بنانے کے عزم کا اعادہ کر رہا ہے۔ فرنچائز کا مؤقف ہے کہ درست مواقع اور مناسب ایکسپوژر فراہم کر کے باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کو مستقبل میں پاکستان کرکٹ کے لیے کارآمد کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

Share This Article