اسلام آباد، 16 اکتوبر: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان اور جرمنی گرین انٹرپرینیورشپ، پائیدار جدت اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دے کر موسمیاتی مسائل کے ماحول دوست حل تلاش کر سکتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
جرمن اتحاد کے دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان جرمنی کے مضبوط اختراعی نظام سے فائدہ اٹھا کر گرین اسٹارٹ اپس کو فروغ دینا چاہتا ہے اور ایسے پائیدار حل تیار کرنے کا خواہاں ہے جو نہ صرف ملک کے اندر مفید ہوں بلکہ عالمی سطح پر بھی قابل اطلاق بن سکیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ماحول دوست اور پائیدار کاروبار کے لیے ایک اسٹارٹ اپ انقلاب کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ محققین اور نوجوان جدت پسندوں کو اس قابل بنایا جانا چاہیے کہ وہ اپنے خیالات کو صرف گرانٹس تک محدود رکھنے کے بجائے قابل عمل کاروبار میں تبدیل کریں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو سیلاب سمیت ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے ایسے اختراعی حل ناگزیر ہیں جو ملکی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی توسیع کے مواقع پیدا کر سکیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ جرمنی کے تحقیقی اور اختراعی اداروں کے ساتھ اشتراک پاکستان میں گرین اسٹارٹ اپس کا مضبوط نظام قائم کرنے میں مدد دے گا، نوجوان کاروباری افراد کے لیے مواقع پیدا ہوں گے اور پائیدار ترقی کے عمل کو تقویت ملے گی۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے جرمنی کو پاکستان کے قریبی شراکت داروں میں سے ایک اور سب سے بڑا تجارتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جی ایس پی پلس حیثیت برقرار رکھنے کے لیے درکار تقاضے پورے کرنے کے لیے پرعزم ہے اور رعایتیں مانگنے کے بجائے متعلقہ معیارات پر عمل درآمد دکھانا چاہتا ہے۔
جرمن اتحاد کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ جرمنی کے دونوں حصوں کا دوبارہ ملنا عوامی ارادے، محبت اور یکجہتی کی طاقت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیواریں کھڑی کی جا سکتی ہیں، مگر دیواریں گرائی اور توڑی بھی جا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق باہمی احترام اور مشترکہ انسانیت پر مبنی اتحاد زبان، ثقافت یا مذہب کی بنیاد پر قائم تقسیم سے زیادہ پائیدار ہوتا ہے۔
انہوں نے پاکستان اور جرمنی کے تاریخی اور ثقافتی روابط کا ذکر کرتے ہوئے علامہ محمد اقبال کی ہائیڈل برگ سے وابستگی اور جرمن شاعر یوہان وولف گانگ فان گوئٹے کے افکار سے ان کی دلچسپی کا حوالہ دیا۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے جرمنی کی جانب سے علامہ اقبال کے نام سے سڑک منسوب کرنے کو بھی سراہا۔
وفاقی وزیر نے جرمن نژاد ڈاکٹر رتھ فاؤ کی انسانی خدمات کو بھی یاد کیا، جنہوں نے پاکستان میں رہ کر جذام کے خلاف جدوجہد اور متاثرہ طبقات کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر رتھ فاؤ کی خدمات دونوں ملکوں کے درمیان انسانی ہمدردی کے دیرینہ رشتوں کی روشن مثال ہیں۔
وزیراعظم کی جانب سے جرمنی کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے ملک کے پرامن اتحاد کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 15 اکتوبر پاکستان اور جرمنی کے تعلقات کی 75ویں سالگرہ کا موقع تھا، جو دوستی، انسانی تعاون اور پائیداری کے مشترکہ عزم کی تجدید کا اہم مرحلہ ہے۔
وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ جدت، تحقیق اور گرین انٹرپرینیورشپ میں قریبی تعاون پاک جرمن تعلقات کو نئی توانائی دے گا اور دونوں ممالک میں پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہوگا۔
