اسلام آباد: پاکستانی مریضوں پر ایک سالہ تحقیق میں شوگر کنٹرول کرنے اور وزن گھٹانے والی مقامی دواؤں کے نتائج غیر ملکی دوا جیسے سامنے آئے ہیں، جبکہ ان کی قیمت غیر ملکی دوا کے مقابلے میں تقریباً ایک چوتھائی ہے۔
ماہرین امراض ذیابیطس نے مقامی تحقیق کے نتائج اتوار کو پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کی 24ویں سالانہ کانفرنس، پیس کون 2026 کے اختتامی روز پیش کیے۔ کانفرنس 9 سے 11 اکتوبر تک اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ہوئی۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بہت سے مریض مہنگی غیر ملکی ادویات خرید نہیں سکتے، اس لیے پاکستانی کمپنیوں کی کم قیمت متبادل ادویات ان کا علاج جاری رکھنے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔ شوگر اور موٹاپے کے مریضوں کو مسلسل علاج کی ضرورت ہوتی ہے اور دواؤں کی قیمت ان کی پہنچ میں ہونی چاہیے۔
ماہر امراض ہارمون ڈاکٹر نعمان نیاز نے یہ تحقیق پیش کی، جو انہوں نے ماہر امراض ذیابیطس و موٹاپا ڈاکٹر محمد عمر وہاب کے ساتھ مل کر کی۔ تحقیق میں ایک ہزار پاکستانی مریضوں کا 52 ہفتے تک جائزہ لیا گیا۔
ان میں سے 500 مریضوں نے پاکستانی دوا اور باقی 500 نے اسی نوعیت کی غیر ملکی اصل دوا استعمال کی۔ دونوں گروہوں میں شوگر کنٹرول ہونے اور وزن کم ہونے کے نتائج تقریباً یکساں رہے۔
پیش کردہ نتائج کے مطابق ایک سال میں شوگر کے اوسط ٹیسٹ میں جو کمی ریکارڈ ہوئی، اس کا تقریباً 97 فیصد پہلے چھ ماہ میں حاصل ہو گیا تھا۔ بعد میں بھی یہ بہتری برقرار رہی۔
دونوں گروہوں کے مریضوں کا وزن اوسطاً 5.4 کلوگرام کم ہوا۔ پاکستانی دوا لینے والے 63.4 فیصد اور غیر ملکی دوا لینے والے 61.7 فیصد مریضوں کا وزن کم از کم پانچ فیصد کم ہوا۔
محققین کے مطابق دونوں ادویات کے استعمال کے دوران سامنے آنے والے مضر اثرات بھی ملتے جلتے تھے۔ ایک سال بعد 92.9 فیصد مریض علاج جاری رکھے ہوئے تھے۔
یہ تحقیق مریضوں کے معمول کے علاج کے دوران ہوئی، جس میں ایک پاکستانی دوا کا موازنہ اس کی غیر ملکی اصل دوا سے کیا گیا۔ ماہرین نے کہا کہ پاکستانی مریضوں کے یہ نتائج معالجین کو علاج کا فیصلہ کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
ڈاکٹر نعمان نیاز نے پاکستان کو ذیابیطس کا عالمی مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیشتر مریض جدید علاج کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔ ان کی پیشکش کے مطابق ملک میں تین کروڑ 45 لاکھ بالغ افراد کو ذیابیطس ہے اور بالغ آبادی میں بیماری کی شرح 31.4 فیصد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوا مؤثر ہونے کے ساتھ اتنی سستی بھی ہونی چاہیے کہ مریض اسے باقاعدگی سے خرید سکے۔ کم قیمت ادویات سے مریضوں کے لیے علاج کا سلسلہ برقرار رکھنا آسان ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے گیٹز فارما کا بھی حوالہ دیا، جو پاکستان میں شوگر کے علاج کی جدید ادویات فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معالج کے مشورے سے کم قیمت متبادل استعمال کرنے سے کم آمدن والے مریضوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
معروف ماہر امراض ہارمون ڈاکٹر ایس عباس رضا نے ایسے مریض کو مہنگی دوا تجویز کرنا گناہ قرار دیا جو اسے خرید نہ سکے۔ انہوں نے ایسا انتظام کرنے پر زور دیا جس سے مریضوں کو ضروری ادویات مسلسل ملتی رہیں۔
پروفیسر سعید اے مہر نے پاکستانی مریضوں پر ہونے والی تحقیق کو سراہتے ہوئے مزید مقامی تحقیق کی ضرورت بیان کی۔ پروفیسر خورشید احمد خان نے کم قیمت متبادل ادویات متعارف کرانے پر پاکستانی کمپنیوں کی تعریف کی اور کہا کہ اس سے غریب مریضوں کو علاج جاری رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
