کراچی، 24 اکتوبر 2026 — ایس او سی فلمز نے دو مرتبہ اکیڈمی ایوارڈ جیتنے والی فلم ساز شرمین عبید چنائے کی قیادت میں عالمی یومِ پولیو کے موقع پر نئی دستاویزی فلم ’’Across Every Doorway‘‘ پیش کر دی ہے۔ فلم پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم سے وابستہ ان خواتین کی کہانیاں سامنے لاتی ہے جو مشکل حالات کے باوجود بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔
یہ دستاویزی فلم کراچی، راولپنڈی، پشاور اور اسلام آباد میں کام کرنے والی چار خواتین کے گرد گھومتی ہے۔ فلم میں کمیونٹیز کے اندر ویکسینیشن کے عمل، مہمات کی نگرانی اور لیبارٹری ٹیسٹنگ کے ذریعے اس جدوجہد کو دکھایا گیا ہے جس کے تحت ویکسین سے انکار، غلط معلومات، عدم اعتماد اور وائرس کی نگرانی جیسے چیلنجز کا سامنا کیا جاتا ہے۔
شرمین عبید چنائے، بانی اور چیف ایگزیکٹو ایس او سی فلمز، نے کہا کہ ہر دروازے کے پیچھے ایک خاندان، ایک گفتگو اور ایک ایسا بچہ ہوتا ہے جس کا مستقبل تحفظ کا حق رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ’’Across Every Doorway‘‘ ان غیر معمولی خواتین کی کہانیاں بیان کرتی ہے جو بچوں کو پولیو سے بچانے کے لیے انتھک محنت کرتی ہیں اور اکثر بڑے چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلیزوں سے کمیونٹیز اور لیبارٹریوں تک، ان خواتین کا عزم ہی اس کوشش کو آگے بڑھاتا ہے۔ فلم کے ذریعے ان کی ہمت کو خراجِ تحسین پیش کرنا، ان کے عموماً نظر نہ آنے والے کام کو نمایاں کرنا اور دنیا کو یہ یاد دلانا مقصود ہے کہ ہر بچے کے تحفظ کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔
کراچی میں فلم فوزیہ احمد کی پیروی کرتی ہے، جو ڈبلیو ایچ او پولیو پروگرام کے ساتھ یونین کونسل ایریا سپروائزر ہیں۔ وہ ویکسینیشن ٹیموں کی تیاری، مقامی حکام سے رابطے اور ان گھروں کے دورے کرتی ہیں جہاں والدین بچوں کو ویکسین پلانے سے ہچکچاتے ہیں۔ خود ایک ماں ہونے کے ناتے فوزیہ اپنے کام میں پیشہ ورانہ عزم کے ساتھ ذاتی یقین بھی شامل کرتی ہیں۔ وہ ان ساتھیوں کی بھی مدد کرتی ہیں جنہیں توہین آمیز رویوں، غلط معلومات اور اپنی سلامتی سے متعلق خدشات کا سامنا رہتا ہے۔
راولپنڈی میں ڈاکٹر شمائلہ اکبر، جو ڈبلیو ایچ او پولیو پروگرام میں ایریا کوآرڈینیٹر ہیں، پولیو مہمات کی نگرانی، معیار کی تصدیق اور خامیوں کی نشاندہی کے ذریعے ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کی کہانی اس عزم کو بھی ظاہر کرتی ہے جو خواتین کے کردار سے متعلق سماجی توقعات کے باوجود غیر معمولی اوقات میں کام کرنے اور ذمہ داریوں کے لیے سفر کرنے کے لیے درکار ہوتا ہے۔
پشاور میں یونین کونسل لاہوری کی کمیونٹی ہیلتھ ورکر لائبہ اعجاز اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتی ہیں کہ کوئی بچہ نظر انداز نہ ہو، جن میں نومولود بچے اور وہ بچے بھی شامل ہیں جن کے خاندان حال ہی میں علاقے میں منتقل ہوئے ہیں۔ والد کے بیمار ہونے اور بعد ازاں انتقال کے بعد لائبہ نے اپنے خاندان کی مدد کے لیے تعلیم چھوڑ دی تھی۔ فلم دکھاتی ہے کہ ضرورت کے تحت شروع ہونے والا کام کس طرح اپنی کمیونٹی کی خدمت کے عزم میں بدل گیا۔
اسلام آباد میں ڈاکٹر رقبہ اختر، وائرولوجی اینڈ امیونولوجی لیبارٹری سائنس دان، ماحولیاتی اور انسانی نمونوں میں پولیو وائرس کے آثار جانچنے کا عمل دکھاتی ہیں۔ ان کا کام سائنسی نگرانی کو میدان میں ہونے والی کارروائی سے جوڑتا ہے اور ان کے نتائج مہمات کی نگرانی اور پولیو کے خاتمے کی وسیع تر کوششوں میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
دستاویزی فلم یہ بھی دکھاتی ہے کہ عدم اعتماد، آن لائن افواہیں، سماجی دباؤ اور عملی مشکلات ویکسینیشن مہمات کے ردِعمل کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔ فلم میں ڈاکٹروں، مذہبی رہنماؤں اور مقامی حکام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کی جانے والی محنت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، اور بتایا گیا ہے کہ مسلسل مکالمہ لوگوں کی رائے بدلنے اور بند دروازے کھولنے میں مدد دے سکتا ہے۔
عالمی یومِ پولیو پر اعلان کی گئی ’’Across Every Doorway‘‘ ان خواتین کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جو اس مہم کو آگے بڑھا رہی ہیں، اور ناظرین کو ہر بچے کے تحفظ کے پیچھے موجود انسانی محنت پر غور کی دعوت دیتی ہے۔ فلم کا اختتامی پیغام اس یقین کو سمیٹتا ہے جو اس کی تمام کرداروں کو جوڑتا ہے: ’’ہر قطرہ اہم ہے۔ ہر بچہ اہم ہے۔ اسی لیے ہم آگے بڑھتے رہتے ہیں۔‘‘
