سائبر کرائم انکوائری ریکارڈ کیس: این سی سی آئی اے سربراہ کو عدم پیشی پر شوکاز

newsdesk
7 Min Read

اسلام آباد: پاکستان انفارمیشن کمیشن نے سائبر کرائم کی ایک پرانی انکوائری سے متعلق ریکارڈ کی فراہمی کے معاملے میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے تحریری جواب نہ دینے اور سماعت میں نمائندہ پیش نہ کرنے پر ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے۔

کمیشن نے این سی سی آئی اے کے سربراہ سے جواب طلب کیا ہے کہ رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 20(1)(f) کے تحت ان کے خلاف کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے اور کمیشن کے روبرو پیش نہ ہونے پر جرمانہ کیوں نہ عائد کیا جائے۔ کمیشن کی کارروائی میں یہ وضاحت بھی اہم ہے کہ شوکاز نوٹس کا مطلب یہ نہیں کہ جرمانہ عائد کردیا گیا ہے یا ڈائریکٹر جنرل کو کسی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے؛ انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔

پاکستان انفارمیشن کمیشن کے 7 اکتوبر 2026 کے حکم نامے کے مطابق اپیل نمبر 5995-08 آف 2026 کی سماعت کے موقع پر این سی سی آئی اے کی جانب سے کوئی نمائندہ حاضر نہیں ہوا۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ ڈائریکٹر جنرل کو 9 ستمبر اور 24 ستمبر کو دو نوٹسز جاری کیے گئے تھے، تاہم ادارے کی طرف سے کوئی تحریری جواب بھی کمیشن کو موصول نہیں ہوا۔

کمیشن کے مطابق رجسٹرار آفس نے نامزد پبلک افسر سے رابطہ کیا تو انہوں نے مبینہ طور پر بتایا کہ وہ اجلاس میں مصروف ہیں اور سماعت میں شریک نہیں ہوسکتے۔ کمیشن نے اس جواز کو موجودہ حالات میں قابل قبول نہیں سمجھا، خاص طور پر اس بنا پر کہ ادارہ تحریری جواب جمع کرانے میں بھی ناکام رہا تھا۔

حکم نامے میں کمیشن نے نشاندہی کی کہ رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ کی دفعہ 17 کے تحت اپیلوں کا فیصلہ 60 روز کے اندر کیا جانا ضروری ہے۔ کمیشن کے مطابق جواب نہ آنے اور نمائندہ پیش نہ ہونے سے اپیل کو مقررہ مدت میں نمٹانے میں تاخیر ہورہی ہے۔

8 اکتوبر 2026 کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹس میں این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت کی گئی کہ وہ وضاحت پیش کریں کہ عدم حاضری پر قانون کی دفعہ 20(1)(f) کے تحت کارروائی کیوں نہ کی جائے اور جرمانہ کیوں نہ عائد کیا جائے۔ ادارے کو یہ بھی کہا گیا کہ اگلی سماعت سے قبل تحریری جواب داخل کرے یا اگر درخواست پر اعتراض نہیں تو مطلوبہ معلومات فراہم کردے۔ آئندہ سماعت 5 نومبر 2026 کو صبح 11 بج کر 30 منٹ پر مقرر ہے۔

یہ معاملہ انکوائری نمبر RE 490 آف 2023 کے سرکاری ریکارڈ سے متعلق ہے۔ یہ انکوائری پہلے سابق ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کے پاس تھی اور اب این سی سی آئی اے سے منسلک ہے۔

درخواست گزار کی جانب سے ہائی کورٹ کے وکیل منیر احمد نے معلومات کی فراہمی کی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں آئین کے آرٹیکل 19-A کا حوالہ دیا گیا، جو عوامی اہمیت کے امور میں معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے، جبکہ رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کو بھی بنیاد بنایا گیا۔

درخواست گزار نے مکمل انکوائری رپورٹ، اس کے ضمیمہ جات اور اس اتھارٹی یا مجاز افسر کی تفصیلات طلب کیں جس نے انکوائری شروع کرنے کی منظوری دی تھی۔ درخواست میں یہ بھی پوچھا گیا کہ کوئی شخص کسی دوسرے فرد کی جانب سے شکایت کن قوانین، قواعد یا ضوابط کے تحت درج کرا سکتا ہے۔

درخواست گزار نے یہ وضاحت بھی مانگی کہ کیا ایسا شخص، جس کا معاملے سے براہ راست تعلق نہ ہو یا جو ذاتی طور پر متاثر نہ ہوا ہو، قانونی طور پر این سی سی آئی اے یا سابق ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کرا سکتا ہے۔ اگر ایسا ممکن ہے تو اس کی متعلقہ قانونی دفعات فراہم کرنے کی استدعا کی گئی۔

درخواست میں انکوائری افسر کے جمع کردہ تمام شواہد، شکایت کنندہ طیب بن طاہر کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے جاری کیے گئے نوٹسز، اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت انکوائری افسر کے سامنے ریکارڈ کیے گئے طیب بن طاہر کے بیان کی نقل بھی مانگی گئی۔

درخواست گزار نے سابق ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل میں جمع کرایا گیا اپنا بیان بھی طلب کیا اور یہ وضاحت چاہی کہ انہیں کیوں طلب کیا گیا تھا، جبکہ درخواست کے مطابق طیب بن طاہر کی شکایت میں ان کا نام شامل نہیں تھا۔

ریکارڈ کی درخواست میں مبینہ پیغامات سے متعلق تکنیکی مواد بھی شامل تھا۔ درخواست گزار نے ان موبائل فونز کی فرانزک رپورٹ طلب کی جن کے ذریعے مبینہ طور پر پیغامات بھیجے گئے، جبکہ متعلقہ سم کارڈز اور موبائل فونز کی ملکیت کی تفصیلات بھی مانگی گئیں۔

درخواست گزار نے معلومات 10 روز میں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور جواب نہ ملنے کی صورت میں پاکستان انفارمیشن کمیشن میں اپیل دائر کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

اب یہ معاملہ کمیشن کے سامنے زیر کارروائی ہے، جہاں این سی سی آئی اے کے سربراہ سے جواب نہ دینے اور سماعت میں عدم پیشی پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔ اگلی سماعت پر ادارے کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور زیر التوا معلوماتی درخواست پر جواب دینے کا موقع ملے گا۔

Share This Article