قدرتی وسائل کے بہتر استعمال میں صوبائی اخراجاتی اختیار اہم قرار

12 Min Read
تحقیق کے مطابق اخراجات کی غیر مرکزیت قدرتی وسائل کے بہتر انتظام میں مددگار ہو سکتی ہے۔

اسلام آباد: پاکستان کے قدرتی وسائل سے متعلق ایک تحقیقی مطالعے میں کہا گیا ہے کہ صوبائی اور مقامی حکومتوں کو اخراجات کی زیادہ ذمہ داری دینے سے طویل مدت میں قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کے بہتر انتظام میں مدد مل سکتی ہے، تاہم کمزور حکمرانی، آمدنی کے ضیاع اور ادارہ جاتی کمزوریوں کے باعث ملک تیل، گیس، معدنیات، کوئلے اور جنگلات کی دولت سے مکمل فائدہ نہیں اٹھا پا رہا۔

مطالعے میں 1983 سے 2023 تک پاکستان میں مالی اختیارات کی تقسیم، عالمگیریت اور قدرتی وسائل کی آمدنی کے تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ دستیاب نتائج کے مطابق اخراجات کی غیر مرکزیت، یعنی صوبائی اور مقامی حکومتوں کو خرچ کرنے کی زیادہ ذمہ داری دینا، قدرتی وسائل کی آمدنی پر طویل مدت میں نمایاں مثبت اثر رکھتی ہے۔ محققین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی سطح پر بہتر بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری وسائل کے بہتر استعمال میں معاون ہو سکتی ہے۔

یہ تحقیق 18ویں آئینی ترمیم کے بعد پاکستان کے لیے ایک اہم پالیسی سوال اٹھاتی ہے کہ آیا صوبوں کو زیادہ مالی اختیارات دینے سے قدرتی وسائل پائیدار ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں یا کمزور حکمرانی کے باعث وسائل سے جڑے مسائل وفاقی سطح سے صوبائی سطح تک منتقل ہو سکتے ہیں۔

مالی غیر مرکزیت سے مراد وفاقی حکومت سے صوبوں اور مقامی حکومتوں کو مالی ذمہ داریوں اور فیصلہ سازی کے بعض اختیارات منتقل کرنا ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر حکومتیں مالی وسائل کو مؤثر انداز میں سنبھالیں تو عوامی خدمات، مقامی ترقی اور وسائل کے شعبے میں بہتری آ سکتی ہے۔ قدرتی وسائل کے تناظر میں اس میں رائلٹی، ٹیکس، ڈیوٹیز اور دیگر متعلقہ محصولات کے انتظام میں مقامی کردار بھی شامل ہے۔

مطالعے میں عالمگیریت کے پہلو کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق تجارت، سرمایہ کاری، سرمائے، معلومات اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعلق اس بات پر اثر انداز ہو سکتا ہے کہ پاکستان اپنے قدرتی وسائل سے کتنی معاشی قدر حاصل کرتا ہے۔ اسی تناظر میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور عالمی روابط کے ممکنہ کردار کا بھی جائزہ لیا گیا۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں قدرتی وسائل کا شعبہ اہمیت کا حامل ہے، مگر انتظامی اور حکمرانی کے مسائل کے باعث ملک اس دولت سے پوری معاشی افادیت حاصل نہیں کر سکا۔ مطالعے کے مطابق معدنیات کا شعبہ جی ڈی پی میں تقریباً 3.0 سے 3.2 فیصد حصہ ڈالتا ہے، جبکہ تیل، گیس، کوئلے، معدنیات اور جنگلات سے مجموعی قدرتی وسائل کی آمدنی جی ڈی پی کے تقریباً 1.44 فیصد کے برابر ہے۔

محققین کے مطابق وسائل کے شعبے کو حکمرانی کی ناکامیوں، رینٹ سیکنگ اور آمدنی کے رساؤ جیسے مسائل درپیش ہیں۔ اس کے نتیجے میں قیمتی قدرتی وسائل موجود ہونے کے باوجود ان سے حاصل ہونے والی ممکنہ آمدنی کا ایک حصہ بہتر ترقی اور عوامی فائدے میں تبدیل نہیں ہو پاتا۔

مطالعے میں صوبوں کے درمیان فرق کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ سندھ پاکستان کا بڑا گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہے اور وسائل سے خاطر خواہ آمدنی پیدا کرتا ہے۔ دوسری جانب بلوچستان بڑے معدنی ذخائر رکھنے کے باوجود ادارہ جاتی کمزوریوں کے باعث اپنی قدرتی دولت کو مقامی ترقی میں بدلنے میں مشکلات کا شکار رہا ہے۔

تحقیق کے مطابق قدرتی وسائل کی موجودگی بذات خود ترقی کی ضمانت نہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وسائل کا انتظام کیسے کیا جاتا ہے، سرکاری ادارے کس حد تک مؤثر ہیں اور حاصل ہونے والی رقم کس انداز میں خرچ کی جاتی ہے۔ یہی عوامل طے کرتے ہیں کہ قدرتی دولت معاشی فائدہ بنے گی یا وہ کیفیت پیدا کرے گی جسے معاشیات میں وسائل کی لعنت کہا جاتا ہے۔

وسائل کی لعنت اس صورتحال کو کہا جاتا ہے جس میں قدرتی وسائل سے مالا مال ممالک یا علاقے اپنی دولت کے مطابق معاشی ترقی حاصل نہیں کر پاتے۔ تحقیق کے مطابق وسائل کی آمدنی کا ناقص انتظام کمزور معاشی کارکردگی، ادارہ جاتی تنازع، غیر یقینی صورتحال اور حکمرانی کی ناکامیوں سے جڑ سکتا ہے۔

مطالعے میں پاکستان کی صورتحال کا موازنہ ان ممالک سے بھی کیا گیا ہے جنہوں نے قدرتی وسائل سے نسبتاً بہتر فائدہ اٹھایا۔ تحقیق میں کینیڈا، ناروے، چین اور امریکا کا حوالہ دیا گیا ہے، جبکہ افریقہ، مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکا کے کئی وسائل سے مالا مال خطوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ اسی سطح کا معاشی فائدہ حاصل نہیں کر سکے۔ محققین کے مطابق یہ فرق مضبوط اداروں اور موزوں حکومتی پالیسیوں کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

تحقیق نے مالی غیر مرکزیت کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے: آمدنی کی غیر مرکزیت اور اخراجات کی غیر مرکزیت۔ یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ صوبوں کو خرچ کرنے کا اختیار دینا ان نتائج سے مختلف ہو سکتا ہے جو انہیں آمدنی جمع کرنے اور سنبھالنے کے زیادہ اختیارات دینے سے سامنے آئیں۔

محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ صوبائی حکومتیں ترقیاتی اخراجات کی زیادہ ذمہ داری ملنے پر بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں یا آمدنی کے انتظام کے زیادہ اختیارات بہتر نتائج دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا گیا کہ عالمگیریت اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ان مالی انتظامات کے ساتھ کس طرح تعامل کرتی ہیں۔

تجزیاتی مطالعے میں اے آر ڈی ایل طریقہ استعمال کیا گیا اور قدرتی وسائل کی آمدنی سے متعلق کئی عوامل کا جائزہ لیا گیا۔ ان عوامل میں آمدنی کی غیر مرکزیت، اخراجات کی غیر مرکزیت، کے او ایف عالمگیریت اشاریہ، انسانی سرمایہ، جی ڈی پی اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری شامل ہیں۔

تحقیق میں مجموعی معاشی نمو کے بجائے قدرتی وسائل کی آمدنی کو مرکزی نتیجے کے طور پر لیا گیا۔ مطالعے کا نظریاتی ڈھانچہ ماحولیاتی معاشیات اور قدرتی سرمائے کے نظریے پر مبنی ہے، جس کے تحت قدرتی وسائل کو محدود سرمایہ سمجھا جاتا ہے جو معاشی سرگرمی اور طویل مدتی ترقی کو سہارا دیتا ہے۔

اعداد و شمار کے ابتدائی نتائج کے مطابق آمدنی کی غیر مرکزیت، عالمگیریت اور اخراجات کی غیر مرکزیت کی اوسط سطح نسبتاً بلند رہی، تاہم ان میں اتار چڑھاؤ بھی موجود تھا۔ زیر مطالعہ مدت کے دوران قدرتی وسائل کی آمدنی میں درمیانے درجے کی تبدیلی دیکھی گئی۔

دستیاب تحقیقی متن کا سب سے نمایاں نکتہ مالی غیر مرکزیت کی دونوں اقسام کے درمیان فرق ہے۔ اخراجات کی غیر مرکزیت کا قدرتی وسائل کی آمدنی کے ساتھ طویل مدت میں مثبت اور نمایاں تعلق سامنے آیا۔ محققین کے مطابق یہ نتیجہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ صوبائی اور مقامی حکومتیں بنیادی ڈھانچے میں بہتر سرمایہ کاری کے ذریعے وسائل کے انتظام کو بہتر بنا سکتی ہیں۔

بنیادی ڈھانچہ قدرتی وسائل کی تلاش، ترسیل، پروسیسنگ اور انہیں رسمی معیشت میں شامل کرنے کے عمل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی لیے تحقیق میں اشارہ دیا گیا ہے کہ اگر غیر مرکزیت مؤثر عوامی اخراجات کے ساتھ منسلک ہو تو وسائل کے شعبے کے لیے اس کے فوائد محض مالی اختیار کی منتقلی سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔

مطالعے کے مطابق وفاقی حکومت اور صوبوں کے سامنے اہم پالیسی سوال یہ ہے کہ وسائل کی آمدنی پر اختیار کس سطح پر ہو اور اس رقم کو کس طریقے سے خرچ کیا جائے۔ محققین کا کہنا ہے کہ شماریاتی شواہد کو ادارہ جاتی اصلاحات، ضابطہ جاتی تبدیلیوں، انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری اور مضبوط عالمی روابط کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔

تحقیق کا وسیع مقصد یہ جانچنا ہے کہ پاکستان کے قدرتی وسائل ملک کے لیے نعمت ثابت ہو سکتے ہیں یا بدانتظامی کی صورت میں بوجھ بن سکتے ہیں۔ محققین ایسی پالیسیوں کی نشاندہی چاہتے ہیں جو وسائل سے فائدہ بڑھائیں اور مالی غیر مرکزیت اور عالمگیریت سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹ سکیں۔

18ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ موضوع مزید اہم ہو گیا ہے کیونکہ صوبائی حکومتوں کو وسائل کی رائلٹی اور ٹیکسوں پر زیادہ اختیار حاصل ہے۔ تحقیق کے مطابق صوبوں کے نتائج یکساں نہیں، اس لیے غیر مرکزیت کا ڈھانچہ اور اس پر عمل درآمد دونوں اہم ہیں۔

مطالعے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے کردار کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔ تحقیق یہ دیکھتی ہے کہ عالمی سرمایہ کاری اور عالمگیریت پاکستان کے وسائل کے شعبے کو کس طرح ترقی دے سکتی ہیں اور قدرتی وسائل سے پیدا ہونے والی معاشی قدر کا زیادہ حصہ ملک کے فائدے میں کیسے آ سکتا ہے۔

تاہم دستیاب تحقیقی متن میں ہر متغیر کے مکمل شماریاتی نتائج یا تمام حتمی پالیسی سفارشات شامل نہیں۔ اس لیے دستیاب مواد کی بنیاد پر واضح اور قابل اعتماد نتیجہ یہی ہے کہ اخراجات کی غیر مرکزیت اور قدرتی وسائل کی آمدنی کے درمیان طویل مدت میں مثبت اور نمایاں تعلق موجود ہے۔ آمدنی کی غیر مرکزیت، انسانی سرمایہ، جی ڈی پی یا براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے مخصوص اثرات کے بارے میں مکمل نتائج کے بغیر دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

مجموعی طور پر تحقیق پاکستان کے قدرتی وسائل کے مسئلے کو صرف تیل، گیس یا معدنی ذخائر کی مقدار کا معاملہ قرار نہیں دیتی بلکہ اسے اداروں کی کارکردگی، آمدنی کی وصولی، صوبائی اخراجات، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور وسائل کو وسیع معیشت سے جوڑنے کا مسئلہ قرار دیتی ہے۔

Link: https://www.sciencedirect.com/science/article/abs/pii/S0161893826000876

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، اوورسیز پاکستانیوں، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔