اسلام آباد: کنزیومر کورٹ اسلام آباد نے انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان کی شکایت جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے لیپرڈ کورئیر سروس اور اس کے متعلقہ حکام کو 13 کنسائنمنٹس درست طور پر منزل تک نہ پہنچانے پر آئی پی او پاکستان کو 30 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ جب کورئیر کمپنی نے سامان ترسیل کے لیے وصول کرلیا اور اس کے عوض رقم بھی لی تو وہ محض بعد میں کسٹمز حکام کی جانب سے سامان ضبط ہونے کا حوالہ دے کر اپنی ذمہ داری سے الگ نہیں ہوسکتی۔ عدالت کے مطابق کمپنی پر لازم تھا کہ وہ سامان کو مناسب احتیاط کے ساتھ منزل تک پہنچاتی اور مسئلہ پیش آنے کی صورت میں صارف کو بروقت آگاہ کرتی۔
یہ فیصلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اور کنزیومر کورٹ جج ویسٹ اسلام آباد راجہ آصف محمود نے شکایت نمبر 157862 آف 2025 میں سنایا۔ حکم 22 ستمبر 2026 کو جاری کیا گیا۔ شکایت انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان نے اپنے چیئرمین کے ذریعے لیپرڈ کورئیر سروس اسلام آباد کے زونل منیجر راجہ محمد ضیاء الرحمٰن، بزنس ڈویلپمنٹ منیجر حسیب اقبال اور چیف ایگزیکٹو آفیسر رضوان سعادت کے خلاف دائر کی تھی۔
آئی پی او پاکستان نے مجموعی طور پر 17,933,400 روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس دعوے میں سامان کے نقصان، دفتری امور میں خلل، انتظامی مشکلات، مالی نقصان، ادارے کی ساکھ متاثر ہونے، سفری اخراجات، مقدمہ بازی کے اخراجات اور ادارے کو پیش آنے والی زحمت کو شامل کیا گیا تھا۔
مقدمے کے مطابق آئی پی او پاکستان نے اسلام آباد میں اپنے ہیڈ آفس سے کراچی میں ٹریڈ مارکس رجسٹری اور پیٹنٹ آفس کے لیے 13 کنسائنمنٹس لیپرڈ کورئیر کے حوالے کیں۔ ان میں لیپ ٹاپ، ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز اور ایل سی ڈیز شامل تھیں۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ سامان قانونی طور پر خریدا گیا تھا اور آئی پی او پاکستان کی ملکیت تھا۔
ریکارڈ کے مطابق لیپرڈ کورئیر نے کنسائنمنٹس وصول کیں مگر وہ مقررہ مقام تک نہ پہنچ سکیں۔ آئی پی او پاکستان نے بار بار کمپنی سے رابطہ کیا اور 12 فروری 2025 کو تحریری طور پر معلومات بھی طلب کیں کہ سامان کہاں ہے اور اس کے ساتھ کیا ہوا۔
بعد ازاں کورئیر کمپنی نے 18 جون 2025 کے جواب میں آئی پی او پاکستان کو بتایا کہ کنسائنمنٹس کراچی میں پاکستان کوسٹ گارڈز نے کسٹمز ایکٹ 1969 کی مبینہ خلاف ورزی کے شبہ میں روک کر ضبط کرلی تھیں۔ اس معاملے میں ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز نے 28 فروری 2025 کو ضبطی کا حکم جاری کیا۔ آئی پی او پاکستان نے اس حکم کو کراچی میں کسٹمز اپیلیٹ ٹریبونل کے روبرو اپیل نمبر K 1563 آف 2025 کے ذریعے چیلنج کیا۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ آئی پی او پاکستان کو کسٹمز حکام کے سامنے کارروائی کے بارے میں بروقت اطلاع نہیں دی گئی، جس کے نتیجے میں ادارے کو اپنی ملکیت کے تحفظ اور بازیابی کے لیے اضافی اقدامات کرنا پڑے۔ اس سلسلے میں کراچی کا سفر، قانونی کارروائی اور دیگر متعلقہ اخراجات بھی برداشت کرنا پڑے۔
کنزیومر شکایت 26 نومبر 2025 کو باقاعدہ طور پر دائر کی گئی۔ جواب دہندگان وکیل کے ذریعے پیش ہوئے اور تحریری جواب جمع کرایا۔ ان کا مؤقف تھا کہ سامان اس لیے ضبط ہوا کیونکہ آئی پی او پاکستان مبینہ طور پر قانونی ملکیت اور کسٹمز ڈیوٹی و ٹیکسوں کی ادائیگی کے ثبوت فراہم نہ کرسکا۔ جواب دہندگان نے یہ بھی کہا کہ ان کے نمائندے نے مطلوبہ دستاویزات کے لیے آئی پی او پاکستان سے بارہا رابطہ کیا۔
لیپرڈ کورئیر کے مؤقف کے مطابق کمپنی نے سامان کے ساتھ کوئی غلط سلوک نہیں کیا، بلکہ ترسیل کے لیے میان کوچ سروس کے ساتھ انتظام کیا تھا۔ جواب دہندگان نے شکایت کو جھوٹی، غیر سنجیدہ اور بلا وجہ قرار دیتے ہوئے اسے خارج کرنے کی استدعا کی۔
آئی پی او پاکستان کی جانب سے مجید رشید خان ایڈووکیٹ پیش ہوئے، جبکہ جواب دہندگان کی نمائندگی ملک ایس خرم بشیر نے کی۔ آئی پی او پاکستان کا مؤقف تھا کہ لیپرڈ کورئیر نے معاوضہ لے کر سامان کی ترسیل قبول کی مگر وہ سروس فراہم کرنے میں ناکام رہی جس کے لیے اسے مقرر کیا گیا تھا۔ جواب دہندگان نے کہا کہ عدم ترسیل کی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہوتی اور ان کی جانب سے سروس میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔
عدالت نے پہلے اس اعتراض کا جائزہ لیا کہ آیا آئی پی او پاکستان اسلام آباد کنزیومرز پروٹیکشن ایکٹ 1995 کے تحت شکایت دائر کرسکتا ہے یا نہیں۔ جواب دہندگان نے شکایت کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا تھا۔ عدالت نے یہ اعتراض مسترد کردیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اسلام آباد کنزیومرز پروٹیکشن ایکٹ کی دفعہ 8 صارف کو خدمات سے متعلق شکایت دائر کرنے کا حق دیتی ہے، جبکہ قانون میں خدمات کی تعریف اتنی وسیع ہے کہ ٹرانسپورٹ اور کورئیر سروس بھی اس کے دائرے میں آتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ غیر منصفانہ تجارتی طرز عمل، غلط نمائندگی یا وعدہ کردہ معیار کے مطابق سروس فراہم نہ کرنا صارف کے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
عدالت کے مطابق آئی پی او پاکستان اور لیپرڈ کورئیر کے درمیان سروس کا تعلق واضح تھا۔ کنسائنمنٹس رقم کے عوض کراچی پہنچانے کے لیے بک اور قبول کی گئیں، اور جواب دہندگان نے بھی اس سروس تعلق کو سنجیدگی سے متنازع نہیں بنایا۔
عدالت کے سامنے اہم سوال یہ تھا کہ لیپرڈ کورئیر کے سامان وصول کرنے کے بعد ان کنسائنمنٹس کے ساتھ کیا ہوا۔ ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ سامان کراچی میں مطلوبہ مقام تک نہیں پہنچا اور بعد میں پاکستان کوسٹ گارڈز نے اسے دوران ترسیل روک کر ضبط کیا۔
جواب دہندگان نے ذمہ داری آئی پی او پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی اور کہا کہ ادارہ ملکیت اور ڈیوٹی و ٹیکسوں کی ادائیگی کے ثبوت پیش نہ کرسکا۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ مؤقف کورئیر کمپنی کو بطور سروس فراہم کنندہ اپنی ذمہ داری سے آزاد کرنے کے لیے کافی نہیں۔
عدالت نے کہا کہ جب لیپرڈ کورئیر نے معاوضہ وصول کرکے سامان ترسیل کے لیے قبول کیا تو اس پر لازم تھا کہ وہ معاہدہ شدہ خدمت کے مطابق سامان کی دیکھ بھال اور ترسیل مناسب احتیاط سے کرتی۔ عدالت کو ایسا کوئی مواد نہیں ملا جس سے ثابت ہو کہ بکنگ کے وقت آئی پی او پاکستان کو بتایا گیا تھا کہ مخصوص دستاویزات سامان قبول کرنے اور منتقل کرنے کے لیے لازمی ہیں، یا ان دستاویزات کی عدم موجودگی پر کمپنی نے سامان کی ترسیل سے انکار کیا تھا۔
عدالت نے اس بات کو بھی اہم قرار دیا کہ آئی پی او پاکستان نے 12 فروری 2025 کو معلومات طلب کیں مگر جواب دہندگان نے تقریباً چار ماہ بعد 18 جون 2025 کو پاکستان کوسٹ گارڈز کی جانب سے سامان روکے جانے اور ضبطی سے متعلق اطلاع دی۔ عدالت کے مطابق یہ تاخیر غیر اہم نہیں تھی کیونکہ اطلاع ملنے تک سامان کافی عرصہ پہلے روکا جا چکا تھا۔
فیصلے میں ضبطی کے ریکارڈ کیس نمبر 1038 آف 2024 کا بھی حوالہ دیا گیا، جس کے مطابق میان ٹرانسپورٹ کوچ کی گاڑی نمبر JB 4311 کو کراچی کے علاقے کورنگی میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی تھرڈ بٹالین لیاقت نے روکا تھا۔ عدالت نے کہا کہ چونکہ سامان کی ترسیل کی ذمہ داری کورئیر کمپنی کے پاس تھی، اس لیے اسے مناسب طور پر وضاحت دینا چاہیے تھی کہ سامان کس طرح ہینڈل ہوا اور دوران سفر کس مرحلے پر روکا گیا۔
عدالت نے عدم ترسیل، کنسائنمنٹس کے روکے جانے اور صارف کو اطلاع دینے میں تاخیر کو سامنے رکھتے ہوئے قرار دیا کہ جواب دہندگان کی سروس میں کمی ثابت ہوتی ہے۔ عدالت کے مطابق اس طرز عمل سے آئی پی او پاکستان کو نقصان، تکلیف اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جو اسلام آباد کنزیومرز پروٹیکشن ایکٹ کے تحفظ کے دائرے میں آتا ہے۔
عدالت نے وضاحت کی کہ قانون کی دفعہ 9(3) کے تحت صارف کو غیر منصفانہ تجارتی عمل یا ناقص سروس کے نتیجے میں نقصان پہنچنے پر معاوضہ دیا جاسکتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ معاوضے کا مقصد صرف ادا شدہ رقم واپس کرنا نہیں بلکہ متاثرہ فریق کو اس حد تک ازالہ فراہم کرنا ہے جس حد تک مالی ادائیگی سے ممکن ہو۔
تاہم عدالت نے آئی پی او پاکستان کا مکمل دعویٰ منظور نہیں کیا۔ عدالت کے مطابق محض مختلف مدات میں رقم لکھ دینے سے پورا دعویٰ قابل قبول نہیں ہوجاتا، بلکہ ہر نقصان کو ایسے ثبوت سے جوڑنا ضروری ہے جس سے ظاہر ہو کہ وہ ناقص یا غیر منصفانہ سروس کا نتیجہ تھا۔
عدالت نے یہ حقیقت بھی مدنظر رکھی کہ سامان کراچی میں ٹریڈ مارکس رجسٹری اور پیٹنٹ آفس کے سرکاری کام کے لیے بھیجا گیا تھا۔ سامان نہ پہنچنے سے سرکاری کام متاثر اور تاخیر کا شکار ہوا۔ آئی پی او پاکستان کو کسٹمز معاملے سے نمٹنے کے لیے کراچی جانا پڑا، جس سے سفری اخراجات، انتظامی محنت اور سرکاری وقت کا نقصان ہوا۔
عدالت نے طویل تنازع کے باعث پیدا ہونے والی پریشانی، زحمت اور ایک عوامی قانونی ادارے کے معمول کے کام میں خلل کو بھی نظر انداز نہ کرنے کے قابل قرار دیا۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ 17,933,400 روپے کا پورا دعویٰ دینے کے لیے ریکارڈ پر کافی بنیاد موجود نہیں، خصوصاً ساکھ کو پہنچنے والے نقصان اور بعض انتظامی و عملی نقصانات کی ہر الگ مد ثابت نہیں کی گئی۔
تمام حالات، سروس کی نوعیت، تنازع کی مدت، سامان کی عدم ترسیل، آئی پی او پاکستان کے اخراجات، سرکاری وقت کے نقصان اور دستیاب ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے عدالت نے 30 لاکھ روپے کو مجموعی اور مناسب معاوضہ قرار دیا۔
عدالت نے اسلام آباد کنزیومرز پروٹیکشن ایکٹ 1995 کی دفعہ 9(3) کے تحت آئی پی او پاکستان کے حق میں 3,000,000 روپے بطور مجموعی معاوضہ منظور کیا۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ یہ رقم دعوے کی ہر انفرادی مد کو خودکار طور پر تسلیم کرنے کے بجائے ثابت شدہ نقصان، زحمت اور اخراجات کو مجموعی طور پر مدنظر رکھ کر مقرر کی گئی ہے۔
عدالت نے مستقبل کے مارک اپ کا دعویٰ مسترد کردیا۔ اسی طرح ساکھ کو نقصان پہنچنے کی مد میں الگ سے مانگے گئے 50 لاکھ روپے بھی منظور نہیں کیے گئے کیونکہ ان کے لیے کافی آزاد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ مقدمہ بازی کے اخراجات کے لیے بھی الگ رقم نہیں دی گئی، کیونکہ مجموعی معاوضے میں قانونی کارروائی سے متعلق اخراجات اور زحمت کو شامل سمجھا گیا۔
عدالت نے شکایت جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے جواب دہندگان کو مشترکہ اور انفرادی طور پر آئی پی او پاکستان کو 30 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا۔ یہ رقم فیصلے کی تاریخ سے 30 روز کے اندر ادا کی جانی ہے۔ عدم ادائیگی کی صورت میں آئی پی او پاکستان قانون کے مطابق فیصلے کے نفاذ اور عملدرآمد کے لیے رجوع کرسکتا ہے۔
22 ستمبر 2026 کے اس فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ کورئیر اور ٹرانسپورٹ کمپنیاں صارفین کے تحفظ کے قانون کے تحت جواب دہ ہوسکتی ہیں، خاص طور پر اس وقت جب وہ رقم وصول کرکے سامان کی ترسیل قبول کریں مگر اسے مناسب احتیاط کے ساتھ منزل تک نہ پہنچائیں اور کسی سنگین مسئلے کی صورت میں صارف کو بروقت اطلاع بھی نہ دیں۔
