راولپنڈی میں سماجی رہنما اور ترقی پسند فلاحی تنظیم کے صدر محمد عامر صدیقی نے کہا ہے کہ غربت اور مہنگائی عصر حاضر کے سب سے بڑے مسائل بن چکے ہیں، مہنگائی کا خاتمہ اور معاشی استحکام باہمی اتفاق و اتحاد کے بغیر ممکن نہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو مہنگائی کے سونامی کے آگے بند باندھنا ہوگا۔ ان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بجائے اضافہ عوام کے ساتھ ظلم و ناانصافی ہے، کیونکہ مہنگائی کے باعث عام آدمی کے لیے جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
عامر صدیقی نے کہا کہ بداعتمادی اور بے یقینی کی فضا کے باعث جمہوری نظام مضبوط نہیں ہو پا رہا۔ سیاسی قیادت کو ایک دوسرے کو گرانے کے بجائے سہارا بننا چاہیے اور سیاست کے بجائے ریاست کے استحکام کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دنیا بھر میں امن و ترقی کے لیے عملی کوششیں، اس کے مثالی کردار کا سراہا جانا اور سفیر امن فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کا ابھرنا قوم کے لیے فخر کا مقام ہے۔ ان کے بقول پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت ملک دشمن عناصر کے لیے قابل برداشت نہیں، جس کا واضح ثبوت بلوچستان میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائی ہے۔
عامر صدیقی نے کہا کہ ملک دشمن عناصر اور دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنانے کے لیے قوم کو متحد ہو کر عملی اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کے استحکام سے ہی ملکی استحکام، ترقی اور خوشحالی وابستہ ہے۔ فوج ایک منظم، مضبوط اور ذمہ دار ادارہ ہے، افواج پاکستان ہماری سرحدوں کی محافظ ہیں اور مشکل کی ہر گھڑی، چاہے زلزلہ ہو یا سیلاب، قوم کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان میں امن و ترقی کے لیے افواج پاکستان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، قوم کو اپنے غازیوں اور شہدا پر فخر ہے۔
عامر صدیقی نے مزید کہا کہ پاکستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ عوام نے اپنے نمائندوں کو غربت، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل کے حل کا مینڈیٹ دے رکھا ہے، اس لیے سیاسی قیادت کو اپنے رویوں میں تبدیلی لاتے ہوئے ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ قوم کی خدمت اور بہتری کے فیصلے سڑکوں اور میدانوں کے بجائے منتخب ایوانوں میں ہونے چاہئیں تاکہ عوام جمہوری ثمرات سے مستفید ہو سکیں، تعمیر و ترقی کا سفر آگے بڑھے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ عزم عالیشان، سب سے پہلے پاکستان۔
