نومولود بچوں میں ایم پاکس: سندھ کے 34 کیسز پر تحقیق نے نظامِ صحت کی کمزوریاں دکھا دیں

newsdesk
12 Min Read
تحقیق کے مطابق سندھ میں 2026 کے دوران ایم پاکس کے 34 مصدقہ کیسز سامنے آئے، جن میں 8 نومولود بھی شامل تھے۔

اسلام آباد: سندھ میں ایم پاکس کے 34 کیسز اور 8 نومولود بچوں میں بیماری کی تشخیص نے پاکستان کے صحت کے نظام میں انفیکشن سے بچاؤ، اسپتالوں کی حفاظتی  اور بیماریوں کی نگرانی میں سنگین خامیوں کو بے نقاب کردیا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق خیرپور میں سامنے آنے والا ایم پاکس کلاڈ آئی بی کا پھیلاؤ محض ایک نئے وائرس کی آمد نہیں بلکہ صحت کے نظام میں موجود پرانی کمزوریوں کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سندھ میں جنوری سے اپریل 2026 کے دوران ایم پاکس کے 34 کیسز کی تصدیق ہوئی، جن میں 26 کیسز خیرپور اور سکھر جبکہ 8 کراچی میں سامنے آئے۔ خیرپور کے نصف کیسز چھ ماہ سے کم عمر بچوں میں تھے، جن میں 8 نومولود شامل تھے۔ بالغ مریضوں میں 8 میں سے 7 خواتین تھیں۔

تحقیق کے مطابق خیرپور میں وبا کا آغاز فروری 2026 میں پیدا ہونے والی ایک بچی سے ہوا معلوم ہوتا ہے۔ بچی کے جسم پر دانے نکلنے کے بعد اسے مختلف طبی مراکز لے جایا گیا لیکن ایم پاکس کا ٹیسٹ نہ ہوسکا اور بعد ازاں بچی انتقال کرگئی۔

بعد میں انہی طبی مراکز میں داخل ہونے والے بچوں میں ایم پاکس کی تصدیق ہوئی جس سے ممکنہ وبائی تعلق سامنے آیا۔ عالمی ادارہ صحت کے مشترکہ مشن کے مطابق وائرس ممکنہ طور پر متاثرہ نومولود بچوں کے ذریعے صحت کے مراکز میں داخل ہوا اور وہاں مزید پھیلا، جس کے بعد گھروں میں ماؤں اور دیگر خواتین رشتہ داروں کے ذریعے منتقلی ہوئی۔

تحقیق میں کراچی کے کلسٹر کو خیرپور سے مختلف قرار دیا گیا ہے۔ کراچی میں 6 بالغ افراد، ایک 13 سالہ بچہ اور ایک 8 روزہ نومولود متاثر ہوئے۔ محققین کے مطابق ایک مریض حال ہی میں وسطی افریقہ سے واپس آیا تھا اور اس کے بعد بیماری دو دیگر افراد تک پہنچی۔ تحقیق میں اسے پاکستان میں ایم پاکس کلاڈ آئی بی کی انسان سے انسان منتقلی کے مسلسل سلسلے کا پہلا ثبوت قرار دیا گیا ہے۔

تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ خیرپور کے کیسز کو کسی پوشیدہ جنسی منتقلی سے جوڑنے کی ضرورت نہیں۔ محققین کے مطابق ممکنہ وجوہات میں متاثرہ حاملہ خواتین کی بروقت تشخیص نہ ہونا، زچگی اور بچوں کے مراکز میں انفیکشن سے بچاؤ کے کمزور انتظامات اور نومولود بچوں میں ایم پاکس سے نمٹنے کے لیے واضح طبی نظام کا نہ ہونا شامل ہیں۔

محققین نے ایم پاکس کے حالیہ پھیلاؤ کو پاکستان میں ماضی کے دیگر وبائی واقعات سے بھی جوڑا ہے۔ تحقیق کے مطابق 2019 میں سندھ کے علاقے رتوڈیرو میں 1500 سے زائد بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ 2024 میں میرپورخاص میں 150 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے دوران پنجاب کے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال تونسہ میں بار بار سرنج استعمال کیے جانے سے 331 بچوں میں ایچ آئی وی کی اطلاع ملی اور 9 بچے جاں بحق ہوئے۔ کراچی کے کلثوم بائی ولیکا سوشل سکیورٹی اسپتال میں بھی 2026 کے آغاز تک 95 بچوں اور 9 بالغ افراد میں ایچ آئی وی یا ایڈز کے کیسز رپورٹ ہوئے۔

تحقیق میں کریمین کانگو ہیمرجک فیور یعنی سی سی ایچ ایف کو بھی صحت کے نظام کی کمزوریوں کی ایک مثال قرار دیا گیا ہے۔ محققین کے مطابق عیدالاضحیٰ کے موقع پر مویشیوں، چیچڑوں اور متاثرہ خون سے رابطہ بڑھنے کے باعث اس بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ شدید مریضوں کے اسپتال پہنچنے کے بعد طبی عملے میں بھی بیماری پھیل سکتی ہے۔

محققین کے مطابق ایم پاکس، ایچ آئی وی اور سی سی ایچ ایف مختلف وائرسز سے پیدا ہونے والی بیماریاں ہیں اور ان کے پھیلنے کے طریقے بھی مختلف ہیں، تاہم ان سب میں ایک بنیادی مسئلہ مشترک نظر آتا ہے، یعنی غیر محفوظ طبی طریقے اور ایسے صحت کے نظام کی موجودگی جس میں حفاظتی اصول کاغذوں پر تو موجود ہیں لیکن ان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوتا۔

تحقیق میں 2019 سے 2026 تک پاکستان میں سامنے آنے والی 6 متعدی بیماریوں کی وباؤں کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے سائنسی مطالعات، وبائی رپورٹس، قومی نگرانی کے اعداد و شمار اور بین الاقوامی صحت سے متعلق دستاویزات کا جائزہ لیا اور انہیں بین الاقوامی صحت ضوابط 2005 اور ون ہیلتھ کے اصولوں سے جوڑا۔

مطالعے کے مطابق ان 6 وباؤں میں 2019 سے 2026 کے دوران 2050 سے زائد بچے متاثر ہوئے۔ محققین کے مطابق خیرپور میں 34 ایم پاکس کیسز میں 8 نومولود بچوں کی موجودگی ماں سے بچے میں منتقلی اور طبی مراکز کے اندر بیماری پھیلنے کے امکان کو ظاہر کرتی ہے۔

تحقیق میں پاکستان کے ہوائی اڈوں اور دیگر داخلی راستوں پر بیماریوں کی نگرانی کے نظام پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ محققین کے مطابق ماضی میں ایم پاکس کے زیادہ تر کیسز خلیجی ممالک اور سعودی عرب سے واپس آنے والے مسافروں میں سامنے آئے اور زیادہ تر کلاڈ ٹو بی سے متعلق تھے، جبکہ کلاڈ آئی بی کے نئے پھیلاؤ کا بروقت سراغ لگانے کے لیے موجودہ نظام کافی نہیں تھا۔

تحقیق کے مطابق پاکستان نے بین الاقوامی صحت ضوابط کی توثیق کر رکھی ہے لیکن بیماریوں کی نگرانی، داخلی راستوں، اسپتالوں میں انفیکشن سے بچاؤ اور عوامی آگاہی کے شعبوں میں اب بھی کمزوریاں موجود ہیں۔

محققین نے سندھ کے لیے خیرپور اور قریبی اضلاع کے زچگی اور بچوں کے طبی مراکز کا فوری انفیکشن پریوینشن آڈٹ کرانے کی سفارش کی ہے۔ غیر رجسٹرڈ طبی پریکٹیشنرز کے خلاف بھی سخت کارروائی کی تجویز دی گئی ہے۔

وفاقی سطح پر تحقیق میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کو ایچ آئی وی، ایم پاکس، سی سی ایچ ایف اور غیر محفوظ انجیکشن سے پھیلنے والی بیماریوں کی نگرانی کا مشترکہ جائزہ لینے کی سفارش کی گئی ہے۔ ایم پاکس کی نگرانی کو جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کی معمول کی طبی خدمات سے جوڑنے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ بیماری کی بروقت تشخیص ہوسکے۔

ہوائی اڈوں اور دیگر داخلی راستوں پر صرف علامات دیکھنے کے بجائے جینیاتی اور مالیکیولر ٹیسٹنگ شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ایم پاکس کی نئی اقسام اور منتقلی کے نئے راستوں کا بروقت پتا چل سکے۔

سی سی ایچ ایف کے حوالے سے محققین نے عیدالاضحیٰ سے پہلے نگرانی اور حفاظتی سامان کی تیاری کو معمول بنانے کی سفارش کی ہے۔ عوام کو سڑکوں اور گھروں کے اندر جانور ذبح کرنے سے روکنے اور شہروں میں سرکاری مذبح خانے دستیاب رکھنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں انفیکشن سے بچاؤ کے قومی منصوبے، رہنما اصول اور تربیتی پروگرام پہلے سے موجود ہیں، تاہم اسپتالوں میں ان پر عملدرآمد کمزور ہے۔ محققین نے ہر مریض کے لیے بنیادی حفاظتی اقدامات، الگ بجٹ، ٹرائیج اور آئسولیشن سہولیات، تربیت یافتہ عملے اور انتظامی نگرانی کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔

محققین نے غیر رجسٹرڈ طبی پریکٹس پر پابندی، سرنج کے دوبارہ استعمال کی سختی سے روک تھام اور تمام چھوٹے بڑے طبی مراکز کی باقاعدہ رجسٹریشن اور انسپیکشن کی بھی سفارش کی ہے۔

تحقیق میں حاملہ خواتین اور نومولود بچوں میں ایم پاکس کے لیے قومی طبی نظام بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ متاثرہ اضلاع میں حاملہ خواتین کی اسکریننگ، زچگی کے دوران انفیکشن سے بچاؤ کے اقدامات، متاثرہ نومولود بچوں کے لیے آئسولیشن، متاثرہ اضلاع کے طبی عملے کے لیے ویکسین اور سندھی، سرائیکی سمیت مقامی زبانوں میں آگاہی مہم چلانے کی تجویز دی گئی ہے۔

تحقیق میں ایم پاکس کے علاج کے لیے ادویات کی عدم دستیابی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مطالعے کے مطابق ایم پاکس کے لیے مخصوص اینٹی وائرل دوا پاکستان میں رجسٹرڈ یا ذخیرہ شدہ نہیں۔ ٹیکوویریمیٹ بھی قومی ضروری ادویات کی فہرست یا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے ایمرجنسی اسٹاک میں دستیاب نہیں، جبکہ برنسیڈوفوویر اور سیڈوفوویر کی دستیابی بھی نہیں۔

محققین کے مطابق ادویات کی عدم دستیابی کے باعث شدید مریضوں کا علاج بڑی حد تک علامات کم کرنے اور معاون طبی نگہداشت تک محدود رہ جاتا ہے۔ تحقیق میں ہنگامی بنیادوں پر ادویات تک رسائی کا نظام اور مستقبل کے لیے ویکسین ذخیرہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

مطالعے میں متاثرہ نومولود اور بچوں کی باقاعدہ نگرانی، آر ٹی پی سی آر ٹیسٹنگ، متاثرہ ماؤں اور بچوں کو فوری الگ رکھنے، حفاظتی سامان کے استعمال اور ہاتھوں کی بار بار صفائی پر بھی زور دیا گیا ہے۔

تحقیق کے اختتام پر محققین نے کہا کہ 2026 میں ایم پاکس سے پاکستانی نومولود بچوں کی اموات کو صرف ایک نئے وائرس کی آمد کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ انفیکشن سے بچاؤ اور صحت کے نظام میں موجود کمزوریوں کے بارے میں ایک اہم انتباہ ہے۔

محققین کے مطابق رتوڈیرو، میرپورخاص، تونسہ اور اسپتالوں میں سی سی ایچ ایف کے پھیلاؤ کے دوران سامنے آنے والی کمزوریوں کو مکمل طور پر دور نہیں کیا جاسکا اور ایم پاکس نے ایک بار پھر انہی مسائل کو سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

تحقیق میں زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کو بیماریوں کی نگرانی، اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول، تربیت یافتہ عملے، باقاعدہ انسپیکشن اور بروقت کارروائی کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ چھوٹے وبائی واقعات بڑے صحت کے بحران میں تبدیل نہ ہوں۔

Share This Article