اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے اُن طلبہ کے لیے چھ ماہ کی غیر ملکی ریسرچ فیلوشپ کے لیے درخواستیں کھول دی ہیں جو پاکستان کی کسی تسلیم شدہ جامعہ میں فل ٹائم پی ایچ ڈی پروگرام میں زیر تعلیم ہیں۔ انٹرنیشنل ریسرچ سپورٹ انیشی ایٹو پروگرام (IRSIP) کے تحت منتخب اسکالرز بیرونِ ملک جامعات اور تحقیقی اداروں میں تحقیق اور تربیت حاصل کر سکیں گے۔ درخواستیں یکم اکتوبر سے 30 اکتوبر 2026 تک جمع کرائی جا سکیں گی۔
ایچ ای سی کے مطابق اس پروگرام کا مقصد پاکستان میں ڈاکٹریٹ سطح کی تحقیق کے معیار کو بہتر بنانا، اعلیٰ تربیت یافتہ محققین کی تعداد میں اضافہ کرنا اور سائنسی و تکنیکی علم کی پاکستان منتقلی میں مدد دینا ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے پی ایچ ڈی طلبہ کو جدید تحقیقی لیبارٹریوں تک رسائی، غیر ملکی سائنس دانوں کے ساتھ کام کرنے اور پاکستانی و غیر ملکی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان روابط قائم کرنے کا موقع ملے گا۔
پروگرام کے لیے پاکستانی اور آزاد جموں و کشمیر کے شہری اہل ہوں گے جو پاکستان کی کسی تسلیم شدہ یونیورسٹی میں فل ٹائم پی ایچ ڈی کر رہے ہوں۔ درخواست گزار کے لیے لازم ہے کہ وہ پی ایچ ڈی کورس ورک کے کم از کم 18 کریڈٹ آورز مکمل کر چکا ہو۔ درخواست کے وقت پی ایچ ڈی میں داخلے کو کم از کم 18 ماہ ہو چکے ہوں جبکہ مدت ساڑھے تین سال سے زیادہ نہ ہو۔ بیچ 60 کے لیے پی ایچ ڈی میں داخلے کی تاریخ بہار 2023 سے بہار 2025 کے درمیان ہونی چاہیے۔
درخواست گزار کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلے کے وقت اس نے مقامی GAT سبجیکٹ ٹیسٹ یا یونیورسٹی داخلہ ٹیسٹ پاس کیا ہو۔ اس کا پی ایچ ڈی تحقیقی موضوع اور synopsis بورڈ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ، ڈائریکٹوریٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ یا یونیورسٹی کے کسی باضابطہ طور پر تسلیم شدہ متعلقہ ادارے سے منظور شدہ ہونا چاہیے۔
بیرونِ ملک تحقیق کے لیے کسی غیر ملکی یونیورسٹی یا تحقیقی ادارے کی باضابطہ منظوری بھی لازمی ہو گی۔ میزبان ادارہ کسی ترقی یافتہ ملک میں ہونا چاہیے اور ٹائمز ہائر ایجوکیشن یا کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز کے مطابق مجموعی طور پر یا متعلقہ شعبے میں اعلیٰ درجے کی جامعات میں شامل ہونا ضروری ہے۔
مجوزہ غیر ملکی سپروائزر کا فل ٹائم فیکلٹی ممبر ہونا اور کم از کم اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر ہونا لازم ہے۔ غیر ملکی سپروائزر درخواست گزار کے مقامی پی ایچ ڈی سپروائزر کا سابق سپروائزر نہیں ہو سکتا۔ ایچ ای سی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایک ہی مقامی سپروائزر کے زیر نگرانی کام کرنے والے دو یا زیادہ درخواست گزاروں کو مختلف غیر ملکی سپروائزرز یا مختلف غیر ملکی جامعات کا انتخاب کرنا ہو گا۔
وہ طلبہ جو پہلے ہی ایچ ای سی کی کسی دوسری اسکالرشپ سے مستفید ہو رہے ہیں، وہ بھی درخواست دے سکتے ہیں، تاہم انہیں متعلقہ ایچ ای سی افسر سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہو گا۔
ایچ ای سی نے اہل طلبہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ آن لائن اسکالرشپ پورٹل کے ذریعے درخواست دیں۔ درخواست گزاروں سے کہا گیا ہے کہ فارم احتیاط سے مکمل کریں اور تمام مطلوبہ دستاویزات 30 اکتوبر کی آخری تاریخ سے پہلے اپ لوڈ کریں۔ ایچ ای سی صرف وہی درخواستیں زیر غور لائے گا جن کا اسٹیٹس “Submitted” ہو گا۔ “Saved” اسٹیٹس میں رہ جانے والی درخواستیں نامکمل تصور ہوں گی اور ان پر کارروائی نہیں کی جائے گی۔
درخواست کے ساتھ غیر ملکی یونیورسٹی، تحقیقی ادارے یا لیبارٹری کا سرکاری acceptance یا invitation letter جمع کرانا ہو گا۔ اس کے علاوہ مجوزہ غیر ملکی سپروائزر کے دستخط شدہ ایچ ای سی فارم، سپروائزر کا تازہ سی وی اور اس بات کا ثبوت بھی دینا ہو گا کہ سپروائزر کم از کم اسسٹنٹ پروفیسر ہے۔
دیگر مطلوبہ دستاویزات میں متعلقہ یونیورسٹی باڈی کی جانب سے پی ایچ ڈی تحقیقی موضوع اور synopsis کی منظوری، منظور شدہ research synopsis کی مکمل نقل، مقامی پی ایچ ڈی سپروائزر کا سفارشی خط، مقامی سپروائزر کا سی وی، اور اگر درخواست گزار پہلے سے ایچ ای سی کی کسی اسکالرشپ پر ہے تو ایچ ای سی کا نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ شامل ہے۔ جو ملازم یا طالب علم اسٹڈی لیو پر ہو، اسے اپنے محکمے یا ادارے سے بھی نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ دینا ہو گا۔
درخواست گزار کو اپنا تازہ سی وی، درست پاسپورٹ یا پاسپورٹ ٹوکن سلپ، بیچلرز ڈگری سے آگے کے تعلیمی ریکارڈ، اور پی ایچ ڈی کورس ورک ٹرانسکرپٹ بھی جمع کرانا ہو گا جس میں مکمل کیے گئے کورسز، کریڈٹ آورز اور گریڈز درج ہوں۔ پی ایچ ڈی داخلے کے وقت دیے گئے GAT سبجیکٹ ٹیسٹ یا یونیورسٹی داخلہ ٹیسٹ کا ثبوت بھی لازمی ہے۔
ایچ ای سی نے غیر ملکی acceptance letter کے لیے بھی تفصیلی شرائط رکھی ہیں۔ یہ خط ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ، سینئر پروفیسر یا ایسوسی ایٹ کی جانب سے جاری ہونا چاہیے۔ لیکچرر، لیبارٹری انسٹرکٹر یا ایکسپرٹ کی جانب سے جاری کردہ خطوط قبول نہیں کیے جائیں گے۔ خط میں مجوزہ تحقیقی کام، دستیاب تحقیقی سہولتوں، منصوبہ بند سرگرمیوں، دورے کی مدت اور اگر کوئی bench fee درکار ہو تو اس کی تفصیل شامل ہونی چاہیے۔
acceptance letter میں دعوت کی شرائط و ضوابط، جہاں قابل اطلاق ہوں، کے ساتھ غیر ملکی پروفیسر کا مکمل پتہ اور رابطہ تفصیلات بھی درج ہونا ضروری ہیں۔ غیر ملکی سپروائزر کو acceptance letter کے ساتھ ایچ ای سی کا proforma بھی مکمل کرنا ہو گا۔
منتخب اسکالرز کو ایچ ای سی کے ساتھ ایک بانڈ پر دستخط کرنا ہوں گے جس کے تحت وہ پاکستان واپس آنے اور اپنی parent یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے پابند ہوں گے۔ اسکالرز کو award letter کے اجرا کے چھ ماہ کے اندر یا ایچ ای سی کی مقرر کردہ کسی دوسری مدت میں فیلوشپ استعمال کرنا ہو گی۔ ایچ ای سی نے یہ حق بھی محفوظ رکھا ہے کہ اگر دستاویزات جعلی پائی جائیں یا کوئی سنگین ابہام سامنے آئے تو کسی بھی مرحلے پر award منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
فیلوشپ کے تحت بیرونِ ملک تحقیقی دورے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ ایچ ای سی ایک بار واپسی کا اکانومی کلاس فضائی ٹکٹ دے گا جس کی حد 1,300 ڈالر تک ہو گی، اور ٹکٹ کا انتظام ایچ ای سی خود کرے گا۔
ماہانہ رہائشی الاؤنس کا انحصار اس ملک پر ہو گا جہاں اسکالر تحقیق کرے گا۔ برطانیہ جانے والے اسکالرز کو ماہانہ 750 پاؤنڈ دیے جائیں گے۔ آسٹریا، جرمنی یا نیدرلینڈز جانے والوں کے لیے الاؤنس 975 یورو ماہانہ ہو گا جبکہ باقی یورپ کے لیے 900 یورو مقرر کیے گئے ہیں۔ امریکا جانے والے اسکالرز کو 1,500 ڈالر ماہانہ ملیں گے۔ کوریا، چین اور ملائیشیا کے لیے الاؤنس 800 ڈالر جبکہ باقی دنیا کے لیے 1,200 ڈالر ہو گا۔
اگر غیر ملکی ادارہ bench fee کا تقاضا کرے تو ایچ ای سی اس مد میں بھی معاونت فراہم کرے گا۔ زیادہ سے زیادہ حد امریکی ڈالر کے لیے 3,500 ڈالر، برطانوی پاؤنڈ کے لیے 1,750 پاؤنڈ، یورو کے لیے 2,550 یورو، آسٹریلوی ڈالر کے لیے 4,100 ڈالر اور کینیڈین ڈالر کے لیے 3,700 ڈالر مقرر ہے۔
bench fee صرف اسی صورت ادا کی جائے گی جب یہ انتخاب کے وقت اصل acceptance letter میں واضح طور پر درج ہو۔ اسکالر کے انتخاب کے بعد bench fee کا نیا مطالبہ ایچ ای سی قبول نہیں کرے گا۔ اسکالر پہلے فیس ادا کرے گا اور ایچ ای سی paid invoice موصول ہونے کے بعد رقم واپس کرے گا۔ invoice میں اسکالر کا نام، دورے کا مقصد اور مدت، اور غیر ملکی یونیورسٹی کی تفصیلات شامل ہونا ضروری ہیں۔ ایچ ای سی نے اسکالرز کو جہاں ممکن ہو bench fee معاف کرانے کی کوشش کرنے کی بھی ترغیب دی ہے۔
پاکستان واپسی کے بعد اسکالرز کو IRSIP feedback form، غیر ملکی سپروائزر کے comments یا progress report، اپنی parent institution کے ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ سے endorsed joining report، اور پاسپورٹ کے متعلقہ صفحات جمع کرانا ہوں گے جن سے exit اور entry ظاہر ہو۔ Indigenous scholars کو یہی دستاویزات Indigenous Section میں بھی جمع کرانا ہوں گی۔
ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام پاکستان میں ڈاکٹریٹ تحقیق کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ ایچ ای سی کے اعداد و شمار کے مطابق Arts، Humanities اور Social Sciences میں اسکالرشپس کی تعداد کم رہی ہے کیونکہ ان شعبوں سے درخواستیں نسبتاً کم موصول ہوتی ہیں۔ ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ وہ social science researchers کو درخواست دینے کی ترغیب دینے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ Agriculture، Biological Sciences، Mathematics، Chemistry، Physics اور Computer Sciences میں awards کا حصہ مضبوط ہے، جبکہ Engineering اور Business میں PhD students یا applications کی کم تعداد کے باعث awards کم رہے ہیں۔

