سربراہان ریاستی اداروں کے فوائد دو ارب روپے سے زائد

4 Min Read
سینیٹ کی خزانہ کمیٹی نے ریاستی اداروں کے سربراہان کے مبینہ دو ارب سے زائد فوائد کی تفصیلات طلب کر دیں اور بروقت جواب مانگا۔

سرکاری اداروں کے سربراہان کی مراعات 2 ارب روپے سے تجاوز کرنے کا انکشاف، سینیٹ کمیٹی برہم

مکمل تفصیلات نہ دینے پر استحقاق کی تحریک لانے کی وارننگ

ندیم تنولی

اسلام آباد: وزارتِ خزانہ و محصولات کے ماتحت سرکاری اداروں، ریگولیٹری باڈیز، منسلک محکموں اور ذیلی دفاتر کے سربراہان کو دی جانے والی مراعات اور سہولیات مبینہ طور پر 2 ارب روپے سے تجاوز کر جانے کے انکشاف پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے مطلوبہ تفصیلات فراہم کرنے میں تاخیر پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر مکمل اور تسلی بخش جواب جمع نہ کرایا گیا تو استحقاق کی تحریک لائی جا سکتی ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وزارتِ خزانہ کے ماتحت سرکاری اداروں اور ریگولیٹری اتھارٹیز کے سربراہان کے نام، ڈومیسائل، تقرری کے طریقہ کار، مدتِ ملازمت، تنخواہوں، الاؤنسز اور دیگر مراعات سے متعلق سوال زیر غور آیا۔

کمیٹی اراکین نے استفسار کیا کہ طلب کردہ معلومات مکمل اور بروقت کیوں فراہم نہیں کی گئیں۔ اجلاس کے دوران سب سے اہم معاملہ ان اداروں کے سربراہان کو دی جانے والی مبینہ بھاری مراعات اور سہولیات کا تھا، جن کی مجموعی مالیت 2 ارب روپے سے زائد بتائی گئی۔ اراکین نے اس صورتحال پر شفافیت، احتساب اور عوامی وسائل کے استعمال کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھائے۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے وزارتِ خزانہ کو ہدایت کی کہ تمام تفصیلات مکمل اور تسلی بخش انداز میں پیش کی جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطلوبہ معلومات فراہم نہ کی گئیں تو متعلقہ رکن استحقاق کی تحریک پیش کر سکتا ہے۔

اجلاس میں سرکاری ملکیتی اداروں کی کارکردگی، اخراجات اور گورننس سے متعلق وسیع تر خدشات بھی زیر بحث آئے۔ اراکین نے سوال اٹھایا کہ عوامی فنڈز سے چلنے والے اداروں میں اعلیٰ حکام کو اربوں روپے کی مراعات کس بنیاد پر دی جا رہی ہیں اور ان پر مؤثر نگرانی کیوں موجود نہیں۔

کمیٹی نے پاکستان سوورین ویلتھ فنڈ ترمیمی بل کا بھی جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق مجوزہ ترامیم کا مقصد سرکاری اداروں کی گورننس، انتظامی کارکردگی اور نظم و نسق کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم اراکین نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان ترامیم کے نتیجے میں ترقیاتی فنڈز یا سرکاری اداروں کی کارکردگی مزید متاثر نہ ہو۔

چیئرمین کمیٹی نے مجوزہ ترامیم کے وقت اور ان کے ممکنہ اثرات پر سوال اٹھاتے ہوئے بل پر مزید غور مؤخر کر دیا اور وزارت کو ہدایت کی کہ ہر ترمیم کی شق وار وجوہات اور اثرات پر مبنی تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔

حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ مجوزہ ترامیم کے تحت پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں کو سرکاری اداروں کی کارکردگی پر لازمی بریفنگ دی جائے گی۔ اراکین نے اسے شفافیت کے لیے اہم قرار دیا، تاہم اس بات پر زور دیا کہ وزارت پہلے ہر ترمیم کی مکمل وضاحت اور اس کے عملی اثرات واضح کرے۔

Copied From: SOE heads’ benefits reportedly cross Rs2 billion as Finance Panel questions delayed disclosure

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے