سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا، عطا اللہ تارڑ

newsdesk
4 Min Read
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں خصوصی رپورٹ کے اجرا کے موقع پر سیمینار منعقد ہوا۔

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ (نشانِ امتیاز) نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کی دفعات کسی بھی فریق کو اسے یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے، ختم کرنے، منسوخ کرنے یا معطل رکھنے کی اجازت نہیں دیتیں۔

وہ انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں خصوصی رپورٹ “Weaponising Waters: Historical, Legal, and Strategic Dimensions of IWT Suspension” کے اجرا کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ معاہدے میں اختلافات اور تنازعات کے حل کے لیے باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے، اس لیے پاکستان اور بھارت کو کسی بھی اختلاف کو یکطرفہ اقدامات کے بجائے اسی قانونی فریم ورک کے اندر حل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ معاہدہ طے پایا تھا تو اس کے دستخط کنندگان نے یہ تصور نہیں کیا تھا کہ چند دہائیوں بعد بھارت میں حالات اس حد تک بگڑ جائیں گے کہ وہاں قانونی فہم کا فقدان، اخلاقی دیوالیہ پن اور اصولوں سے محرومی نمایاں ہو جائے گی۔

وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اس معاملے کو سفارتی اور قانونی ذرائع سے آگے بڑھاتا رہے گا اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے بنیادی آبی حقوق کا دفاع کرے گا۔

سابق وفاقی وزیر خارجہ و دفاع انجینئر خرم دستگیر خان (ہلالِ امتیاز) نے بھارت کی بدلتی ہوئی آبی حکمت عملی کو حقیقی اور منظم خطرہ قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف انفرادی یا بڑے پن بجلی منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی آبی سلامتی پر ایک منظم حملے کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مغربی دریاؤں اور ان پر انحصار کرنے والے تقریباً 20 کروڑ افراد کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کو محض سفارتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے پاکستان کے تزویراتی استحکام کے لیے سنگین چیلنج کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کی فیکلٹی آف کنٹیمپرری اسٹڈیز کی ڈین پروفیسر ڈاکٹر عرشی سلیم ہاشمی نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک وقت میں کامیاب آبی سفارت کاری کی نصابی مثال سمجھا جاتا تھا، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگوں اور شدید سیاسی کشیدگی کے باوجود برقرار رہا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی طور پر پانی کے انتظام کو دونوں ملکوں کے سیاسی اور علاقائی تنازعات سے الگ رکھا گیا۔

ڈاکٹر عرشی سلیم ہاشمی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے فیصلے کے بعد ایسے اقدامات، جو انسانی کمزوریوں میں اضافہ کرتے ہیں، پاکستان کی زراعت، غذائی سلامتی، امن اور علاقائی استحکام کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔

مقررین نے آئی ایس ایس آئی کے انڈیا اسٹڈی سینٹر کی جانب سے اس بروقت اور مفید کاوش کو سراہا اور کہا کہ تیار کی گئی جامع رپورٹ میں سندھ طاس معاہدے کا تاریخی، قانونی، تکنیکی اور تزویراتی پہلوؤں سے جائزہ لیا گیا ہے۔

Share This Article