لاہور: گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ سولر سسٹمز کی مقامی تیاری کے فروغ کے لیے پالیسی فریم ورک ناگزیر ہے، کیونکہ پاکستان مقامی سولر صنعت کو ترقی دے کر لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا کر سکتا ہے، صاف اور کم لاگت توانائی حاصل کر سکتا ہے اور قیمتی زرمبادلہ بھی کما سکتا ہے۔
وہ جمعہ کو مقامی ہوٹل میں انرجی اپ ڈیٹ کے زیر اہتمام پاکستان سولر ایسوسی ایشن، رینیوایبل انرجی ایسوسی ایشن آف پاکستان اور پاکستان آلٹرنیٹو انرجی ایسوسی ایشن کے اشتراک سے منعقدہ تیسرے انٹرنیشنل سولر پاور کانکلیو اینڈ سولر ٹیکنالوجی ایکسی لینس ایوارڈز 2026 سے خطاب کر رہے تھے۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ یہ افسوس ناک ہے کہ حکومتی پالیسی نہ ہونے کے باعث سولر سسٹمز کی مینوفیکچرنگ نہیں ہو رہی۔ ان کے مطابق بجلی کی بلند قیمتوں نے عام پاکستانیوں کے لیے شمسی توانائی کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ انہوں نے سورج کی روشنی کو اللہ تعالیٰ کا تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے بجلی کے بلوں کا بوجھ کم کرنے اور ماحول کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ اگر سولر مینوفیکچرنگ انڈسٹری قائم کر لی جائے تو اس سے لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، صاف اور گرین توانائی دستیاب ہو گی، جو صارفین کی جیب پر بھی کم بوجھ ڈالے گی اور ماحول کے لیے بھی بہتر ہو گی۔
انہوں نے سولر کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ حکومتی پالیسی کے غیر معینہ انتظار کے بجائے خود پہل کرے اور سولر سسٹمز کی مقامی سطح پر تیاری شروع کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی صنعت پہلے بھی کسی بڑی حکومتی معاونت کے بغیر سولر ٹیکنالوجی پاکستان میں لے کر آئی، اب اسی طرز پر مقامی مینوفیکچرنگ کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ مقامی پیداوار کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنی بڑھتی ہوئی طلب پوری کر سکے گا بلکہ سولر سسٹمز برآمد کر کے ضروری زرمبادلہ بھی حاصل کر سکے گا۔ انہوں نے ملک بھر میں سولر پینلز کے تیزی سے پھیلاؤ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اوپر سے دیکھا جائے تو شہروں میں تقریباً 90 فیصد چھتیں سولر پینلز سے ڈھکی نظر آتی ہیں۔
سردار سلیم حیدر خان نے شمسی توانائی تک رسائی بڑھانے کے لیے حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے لائیو اسٹاک فارمرز اور سیلاب متاثرہ کمیونٹیز میں لاکھوں سولر پینلز مفت تقسیم کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں وافر دھوپ عطا کی ہے، جسے عوام کے مفاد کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے خطے میں جنگ کے باعث توانائی کی سپلائی چین میں آنے والی حالیہ رکاوٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ایل این جی کنٹینرز نہ پہنچ سکے تو بجلی کی لوڈشیڈنگ بڑھ گئی۔ تاہم شمسی توانائی کی بڑھتی دستیابی آخرکار گھریلو صارفین کے لیے مہنگی گرڈ بجلی کی اہمیت کم کر سکتی ہے۔
پنجاب کے وزیر توانائی فیصل ایوب نے کہا کہ پاکستان کو 2009-10 سے بدترین بجلی لوڈشیڈنگ بحران کا سامنا رہا، جس پر مسلم لیگ ن کی 2013 سے 2018 کی حکومت کے دوران قابو پایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اس وقت کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے بجلی کی قلت دور کرنے کے لیے پاور پلانٹس لگائے، تاہم آج ملک کو ایک مختلف چیلنج یعنی مہنگی بجلی کا سامنا ہے۔
فیصل ایوب نے کہا کہ اگرچہ یہ وفاقی معاملہ ہے، تاہم مہنگی بجلی کے چیلنج پر قابو پانے کے لیے پنجاب حکومت سولر انرجی سیکٹر کو تعاون فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق حکومتیں سولر انرجی کو فروغ دیں یا نہ دیں، صارفین اور صنعت بالآخر شمسی توانائی کی طرف ہی جائیں گے، کیونکہ سولر پاور کی معاشیات یہی تقاضا کرتی ہے۔ اس لیے حکومت کو اپنی پالیسیوں کو اس تبدیلی سے ہم آہنگ کرنا ہو گا۔
وزیر توانائی نے سولر سیکٹر کو پنجاب حکومت کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ صوبائی حکومت وفاقی وزیر توانائی سے رابطہ کرے گی اور پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو ساتھ ملا کر ایسی پالیسی بنانے کی کوشش کرے گی جو پاکستان میں سولر انرجی کے پھیلاؤ میں سہولت دے۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے کے فروغ کے لیے توانائی ماہرین کی تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
فیصل ایوب نے خبردار کیا کہ اس مرحلے پر سولر سیکٹر کی حمایت نہ کرنا پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سولر انڈسٹری کے لیے دوستانہ پالیسی نہ صرف قابل تجدید توانائی سے وابستہ کاروباروں بلکہ پورے ملک کے لیے خوشحالی کا سبب بن سکتی ہے۔
پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے صدر عادل محمود نے کہا کہ شمسی توانائی پاکستان کی انرجی سپلائی میں پہلے ہی 40 ہزار میگاواٹ تک حصہ ڈال رہی ہے، اور اگر یہ حصہ موجود نہ ہوتا تو ملک میں روزانہ پانچ سے سات گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت فی یونٹ چار پیسے چارج کر رہی ہے، جو ان کے مطابق تقریباً 15 لاکھ روپے فی میگاواٹ ماہانہ لاگت بنتی ہے، اسے ختم کیا جانا چاہیے۔ عادل محمود نے کہا کہ جب سولر پینلز پر ٹیکس نہیں تھا تو سولر مارکیٹ نے تیزی سے ترقی کی، لیکن بعد کے اقدامات نے صنعت کے لیے رکاوٹیں پیدا کیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیٹ میٹرنگ اب ختم کر دی گئی ہے، جس سے سولر انرجی کے مزید فروغ میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔
عادل محمود نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بیٹریوں پر ڈیوٹیز اور سیلز ٹیکس ختم کیا جائے۔ انہوں نے مقامی سطح پر لیتھیم بیٹری مینوفیکچرنگ پلانٹس کے قیام کی تجویز بھی دی، جو مستقبل میں برآمد کے لیے بھی بیٹریاں تیار کر سکتے ہیں۔
انرجی اپ ڈیٹ کے منیجنگ ایڈیٹر نعیم قریشی نے کہا کہ ان کا ادارہ 2006 میں پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے فروغ کے مقصد سے شروع کیا گیا تھا اور اب اپنی 20ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انرجی اپ ڈیٹ اب تک قابل تجدید توانائی کے فروغ کے لیے تقریباً 180 سیمینارز، تربیتی ورکشاپس، پالیسی مباحثے اور بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد کر چکا ہے۔
نعیم قریشی نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے ابتدائی برسوں میں ادارے کو خاصی مشکلات کا سامنا رہا، کیونکہ روایتی بجلی سولر انرجی کے مقابلے میں سستی تھی۔ تاہم اب صورتحال بدل چکی ہے اور بجلی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ پاکستان میں سولر انرجی کے عروج کا مناسب وقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سولر انرجی کا استعمال 40 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر چکا ہے، جس سے پاکستان کو تقریباً 6 ارب ڈالر کی بچت ہوئی، جبکہ ملک چین سے انتہائی مسابقتی نرخوں پر سولر سسٹمز درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحول دوست توانائی کے شعبے نے پاکستان میں 20 لاکھ تک روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔
نعیم قریشی نے ونڈ انرجی کے امکانات پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سندھ کے ونڈ کوریڈور میں تقریباً 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے، جبکہ موجودہ ونڈ انرجی پیداوار 1800 سے 2300 میگاواٹ کے درمیان ہے۔
اس سے قبل ایک پینل مباحثے میں لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نوید ارشد، نیشنل گرڈ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر الطاف حسین، گرو واٹ پاکستان کے ٹیکنیکل ہیڈ زوہیب الحق اور ٹی بی ای اے سینٹرل اینڈ ساؤتھ ایشیا کے ریجنل ہیڈ میاں فہد نے توانائی ذخیرہ کرنے اور پاکستان کے بدلتے ہوئے قابل تجدید توانائی منظرنامے پر گفتگو کی۔
پینلسٹس نے کہا کہ پاکستان 25 فیصد سولر کلب کا ایک نایاب رکن بن چکا ہے، اور یہ پیش رفت زیادہ تر جامع حکومتی پالیسی کے بجائے قدرتی طور پر ہوئی۔ انہوں نے سولر انرجی کی تیز رفتار ترقی کو روس یوکرین جنگ کے بعد بدلتے ہوئے مارکیٹ حالات سے جوڑا۔
ڈاکٹر نوید ارشد نے بیٹری اسٹوریج کو توانائی کے شعبے کے لیے ایک نئی اے آئی قرار دیا اور کہا کہ 2035 تک پاکستان کی انرجی ٹرانزیشن موجودہ ڈسٹری بیوٹڈ انرجی ماڈل سے آگے بڑھ کر پانچ نئی جہتوں میں داخل ہو گی، جن میں ڈسٹری بیوٹڈ اسٹوریج، مائیکرو گرڈز اور ورٹیکل پاور پلانٹس، اے آئی اور ڈیٹا اینالیٹکس، توانائی کی کارکردگی اور بچت، اور سرکولیریٹی شامل ہیں۔
اس موقع پر انوریکس سولر انرجی کے چیف ایگزیکٹو ایم ذاکر علی نے بھی خطاب کیا۔
دوسرے پینل مباحثے کی نظامت اشور انٹرنیشنل کی ڈائریکٹر سسٹین ایبلٹی ڈاکٹر جواریہ شکیل نے کی، جس میں فوٹو وولٹک سسٹمز اور سولر بیٹریوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا گیا۔ مباحثے میں دیوان انٹرنیشنل کے حسین دیوان، سی اینڈ آئی انرجی اسٹوریج پاکستان کے ڈائریکٹر جوزف چو، پاور ہائی وے کے چیف ایگزیکٹو محمد فرحان، پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر حسنت خان اور اے ای ایس ایل کے معروف احمد زبیری نے شرکت کی۔
ڈاکٹر جواریہ نے صنعت سے وابستہ افراد کو مشورہ دیا کہ سولر پر منتقلی کا فیصلہ کرتے وقت وقت اور دستیاب گنجائش کو مدنظر رکھ کر احتیاط سے تعین کیا جائے۔ محمد فرحان نے بنگلہ دیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 5 سے 10 کلو واٹ نصب صلاحیت رکھنے والے گھریلو صارفین اضافی توانائی اپنے پڑوسیوں کو بھی فروخت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سولر آلات کا بیمہ ہونا چاہیے۔
بعد ازاں مہمان خصوصی گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے پاکستان کے سولر اور قابل تجدید توانائی شعبے میں خدمات پر نمایاں شرکا کو اعزازات دیے۔ تقریب میں تقریباً 30 معروف کمپنیوں کو تیسرے سولر ٹیکنالوجی ایکسی لینس ایوارڈز 2026 سے نوازا گیا۔
