اسلام آباد کے لیے منتخب شہری حکومت ناگزیر ہے، نصراللہ رندھاوا

newsdesk
4 Min Read
امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینیئر نصراللہ رندھاوا نے اسلام آباد گورننس کنونشن 2026 سے خطاب کیا۔

اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینیئر نصراللہ رندھاوا نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کو درپیش بحرانی مسائل کا پائیدار حل فوری بلدیاتی انتخابات اور شہری حکومت کی بحالی ہے۔ ان کے مطابق اختیارات کی تقسیم اور اداروں کے منتشر نظام نے اسلام آباد کے مسائل کو سنگین بنایا ہے، اس لیے نئے نظام کی بات کرنے والوں کو پہلے شہریوں کو منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت کا حق دینا ہوگا۔

انجینیئر نصراللہ رندھاوا نے یہ بات گزشتہ روز اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز میں منعقدہ ’’اسلام آباد گورننس کنونشن 2026‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کنونشن میں مسلم لیگ (ن) کے طارق فضل چوہدری اور انجم عقیل، پیپلز پارٹی کے سید نیئر حسین بخاری، بیوروکریٹس، کاروباری شخصیات اور بار ایسوسی ایشنز کے ذمہ داران بھی شریک تھے۔

امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نے کہا کہ سی ڈی اے، آئی سی ٹی انتظامیہ اور ایم سی آئی کو ایک شخص کے ماتحت رکھ کر گڈ گورننس ممکن نہیں بنائی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے اب ایک ’’ہاتھی‘‘ بن چکا ہے جبکہ بیڈ گورننس اسلام آباد کا بنیادی مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں شہری حکومت کی بحالی کے بغیر مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں۔

انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں شہری سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ شہر کو روزانہ 283 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے، مگر صرف 62 ملین گیلن پانی دستیاب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کے تقریباً پچاس فیصد علاقے بغیر منصوبہ بندی کے غیر منظم آبادیوں پر مشتمل ہیں، جبکہ پورے پاکستان اور اسلام آباد کے مریضوں کے لیے عملاً صرف ایک سرکاری ہسپتال موجود ہے۔

انجینیئر نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ دارالحکومت کا ڈرینج اور سیوریج نظام شدید بحران کا شکار ہے، جبکہ زمینوں کے ریکارڈ کے لیے آج بھی فرسودہ پٹوار سسٹم رائج ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ ضرور بنایا جائے، لیکن اصل ضرورت اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ہے۔ ان کے مطابق جب تک شہری حکومت بحال نہیں ہوتی، اختیارات منتقل نہیں کیے جاتے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن فعال نہیں ہوتی، اسلام آباد کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نے مطالبہ کیا کہ وفاقی دارالحکومت میں فوری بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں، سی ڈی اے میں ادارہ جاتی اصلاحات کی جائیں اور اسے مالی طور پر خودمختار بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم نچلی سطح تک یقینی بنانا ہوگی۔

انہوں نے ڈیجیٹلائزیشن، ڈیموکریسی اور ڈویلپمنٹ کے تین نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو تھری ڈی ماڈل پر لانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق مالی خودمختاری، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور طویل المیعاد منصوبہ بندی کے ذریعے پاکستان کے دارالحکومت کو دنیا کے ماڈل شہروں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

Share This Article