لمز میں خدیجہ پروگرام کا سیشن، خواتین کاروباری صلاحیتوں کے فروغ پر زور

newsdesk
6 Min Read
پاکستان سنگل ونڈو اور لمز سینٹر فار انٹرپرینیورشپ کے اشتراک سے خدیجہ پروگرام کا سیشن منعقد ہوا۔

پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) نے لمز سینٹر فار انٹرپرینیورشپ (ایل سی ای) کے اشتراک سے اپنے فلیگ شپ خدیجہ ویمن انٹرپرینیورشپ پروگرام کے تحت خواتین کے لیے رہنمائی اور استعدادِ کار میں اضافے کا خصوصی سیشن منعقد کیا۔ یہ نشست لمز کیمپس میں ایل سی ای آڈیٹوریم میں ہوئی، جس میں کاروبار شروع کرنے کی خواہش رکھنے والی خواتین، تعلیمی شعبے کی قیادت اور صنعت سے وابستہ تجربہ کار شخصیات نے شرکت کی۔

سیشن میں خواتین کی کاروباری ترقی، ڈیجیٹل تجارت میں شمولیت اور خواتین کی سربراہی میں قائم اداروں کو وسعت دینے کے لیے عملی رہنمائی کی اہمیت پر توجہ دی گئی۔ پروگرام کا بنیادی مقصد تعلیمی سوچ کو عملی کاروباری عمل سے جوڑنا اور خواتین کو مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق رہنمائی فراہم کرنا تھا۔

اس موقع پر نمایاں کاروباری رہنماؤں اور ماہرین نے شرکا کو عملی مشورے دیے۔ لاما کی بانی اور ڈائریکٹر آسیہ سائل خان، پرونٹو اسپیسز کی بانی صولت صلاح الدین اور ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری لاہور کی بانی شہلا جاوید اکرم نے کلیدی مینٹرز کے طور پر شرکت کی۔ لمز میں انٹرپرینیورشپ اینڈ انوویشن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شہریار شاہد نے کاروباری تربیت کے خصوصی حصے کی قیادت کی۔

سیشن میں لمز سینٹر فار انٹرپرینیورشپ کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا، خاص طور پر نئے کاروباری منصوبوں کی تشکیل، تعلیمی انکیوبیشن اور منظم رہنمائی کے ذریعے ابتدائی مرحلے کے اسٹارٹ اپس کی تیز رفتار ترقی کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔

مقررین نے مارکیٹ کی پیچیدگیوں کو سمجھنے، مضبوط اور پائیدار برانڈ شناخت قائم کرنے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے مؤثر استعمال اور کاروبار کی مستقل بنیادوں پر توسیع سے متعلق اپنے تجربات بیان کیے۔ ان کی گفتگو میں پاکستان کے بدلتے ہوئے معاشی ماحول میں عملی رکاوٹوں سے نمٹنے اور جدید کاروباری منصوبوں کو آگے بڑھانے کے پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

پی ایس ڈبلیو کے مطابق تجارت میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کے مشن کے تحت خدیجہ پروگرام اہم تعلیمی اداروں اور صنعتی مراکز تک اپنا دائرہ وسیع کر رہا ہے۔ اس اقدام کو تجارت میں صنفی مساوات کے لیے ڈبلیو ٹی او گلوبل ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ پروگرام میں تجارتی سہولت کاری کو عملی رہنمائی کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے تاکہ خواتین بانیان کو عالمی سطح پر کامیابی کے لیے درکار تکنیکی معلومات، ضابطہ جاتی سمجھ بوجھ اور ڈیجیٹل مہارتیں فراہم کی جا سکیں۔

جامعات کے باصلاحیت نوجوانوں کو صنعت کی تجربہ کار شخصیات سے جوڑ کر یہ پروگرام ایسا ماحول پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے جہاں نئے خیالات قابلِ عمل، قابلِ توسیع اور تجارتی لحاظ سے مضبوط کاروباری اداروں میں ڈھل سکیں۔

پی ایس ڈبلیو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید آفتاب حیدر نے نوجوان خواتین بانیان کے لیے رہنمائی کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا، "خواتین کاروباری رہنماؤں کی نئی نسل کو بااختیار بنانے کے لیے صرف تکنیکی تجارتی آلات کافی نہیں، بلکہ بامعنی رہنمائی اور صنعت کا عملی نقطہ نظر بھی ضروری ہے۔ خدیجہ پروگرام کے تحت لمز میں ہماری شمولیت پی ایس ڈبلیو کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ ابھرتی ہوئی خواتین رہنماؤں کو تجربہ کار پیش رو شخصیات سے جوڑ کر کاروباری ترقی کو فروغ دیا جائے۔ طلبہ کو مارکیٹ کا عملی علم فراہم کر کے ہم پاکستان کے تجارتی نظام کے لیے ایک جامع اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنیاد قائم کر رہے ہیں۔"

ایل سی ای کے ڈائریکٹر جاذب ظہیر نے کاروباری اقدامات کے ذریعے جامع معاشی ترقی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا، "خدیجہ پروگرام کے لیے پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ یہ شراکت داری ہمارے لیے اہم ہے کیونکہ یہ ہمارے نصاب میں عملی عناصر کو شامل کرنے کی کوششوں میں ایک نئی جہت کا اضافہ کرتی ہے۔ کاروباری سوچ، ڈیجیٹل مہارتیں، پروڈکٹ مارکیٹ فٹ اور وسعت کے لیے تیاری جدید کام کی دنیا میں کامیابی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ کاروباری رہنماؤں اور انٹرپرینیورشپ ماہرین سے یہ رابطہ خواتین کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ یہ مہارتیں پیدا کریں اور اپنے خیالات کو آگے بڑھائیں۔"

پاکستان سنگل ونڈو تعلیمی مراکز اور صنعتی قیادت کے ساتھ مسلسل شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں خواتین کی انٹرپرینیورشپ کے لیے معاون ڈھانچے کو مستحکم کر رہا ہے۔ عملی رہنمائی، ڈیجیٹل تجارت کی آگاہی اور قیادت کی تربیت کو اپنی سرگرمیوں کا حصہ بنا کر خدیجہ پروگرام جامع معاشی ترقی اور پیپر لیس تجارت کی تبدیلی میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

Share This Article