اسلام آباد: پاکستان۔مالدیپ پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا اجلاس 22 ستمبر 2026 کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کی دوسری منزل پر واقع کانسٹی ٹیوشن روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کنوینر محترمہ شائستہ خان، رکن قومی اسمبلی، نے کی جبکہ جمہوریہ مالدیپ کے دورے پر آئے ہوئے پارلیمانی وفد نے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں قومی اسمبلی کے ارکان سیدہ نوشین افتخار، محترمہ سبین غوری، محترمہ اختر بی بی، محترمہ آسیہ ناز تنولی، محترمہ ماہ جبین خان عباسی، جناب اسفن یار ایم بھنڈارا اور جناب سنجے پروانی بھی شریک ہوئے۔ ملاقات میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی تعاون، معاشی روابط، رابطہ کاری، سیاحت اور عوامی سطح کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مالدیپ کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے محترمہ شائستہ خان نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور قریبی عوامی روابط پر قائم دیرینہ اور خوشگوار تعلقات ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلسل پارلیمانی روابط دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور دونوں جانب قانون سازی و پارلیمانی تجربات سے سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کنوینر نے پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے طریقہ کار کو باقاعدہ ادارہ جاتی روابط برقرار رکھنے کا ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے ارکان پارلیمان کے درمیان زیادہ تواتر سے رابطوں، باہمی دوروں اور ورچوئل ملاقاتوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وسیع تر عوامی روابط اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مالدیپ کی جانب سے پاکستان کی قومی اسمبلی کی طرف سے گرمجوش استقبال اور مہمان نوازی کو سراہا گیا۔ وفد نے پاکستان اور مالدیپ کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کیا اور کہا کہ پارلیمانی، ادارہ جاتی اور عوامی سطح کے رابطوں میں اضافے کے ذریعے دونوں ممالک کے عوام کو مزید قریب لانے کی ضرورت ہے۔
مالدیپ کے وفد نے طبی خدمات، خوراک، تعمیرات، سیاحت، ماہی گیری اور دیگر شعبوں میں وسیع تعاون کے امکانات کی نشاندہی کی۔ وفد کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی قربت اور مہارت کے باعث عملی تعاون کے کئی مواقع موجود ہیں۔
اجلاس میں پاکستان اور مالدیپ کے درمیان براہِ راست فضائی رابطے کی اہمیت پر بھی خصوصی زور دیا گیا۔ مالدیپ کے وفد نے کہا کہ سیاحت، کاروبار، علاج معالجے کے سفر اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے براہِ راست پروازیں اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔ شرکا کے مطابق بہتر رابطہ کاری دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں اور شہریوں کو باہمی تعامل کے زیادہ مواقع فراہم کر سکتی ہے اور مفید روابط کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ مالدیپ کی جانب سے مالدیپ کے صدر کے آئندہ دورہ پاکستان کا حوالہ بھی دیا گیا اور اسے دوطرفہ تعلقات کو مزید تقویت دینے کا اہم موقع قرار دیا گیا۔
پاکستان۔مالدیپ پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے ارکان نے بھی دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کے مختلف امکانات پر اپنی آرا پیش کیں۔ ارکان نے تجارت و سرمایہ کاری، صحت، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ہنرمندی کے فروغ، زراعت، سیاحت اور بزنس ٹو بزنس روابط کو اہم شعبے قرار دیا۔
ارکان نے کہا کہ پاکستان کی مہارت اور افرادی قوت کی صلاحیتیں مالدیپ کے ترجیحی شعبوں، خصوصاً صحت اور ہنرمندی کے فروغ، میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے زرعی، تجارتی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے مواقع پر بھی زور دیا۔ پاکستانی جانب سے بھی براہِ راست فضائی رابطے کو سیاحت، تجارت، طبی سفر اور وسیع عوامی روابط کے لیے کلیدی ذریعہ قرار دیا گیا۔ ارکان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں اور اداروں کو جوڑ کر موجودہ خیرسگالی کو عملی تعاون میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
اجلاس کے شرکا نے پارلیمانی سفارت کاری، اعلیٰ سطح کے تبادلوں، رابطہ کاری اور عوامی سطح کے تعلقات کو پاکستان۔مالدیپ تعلقات کے مزید استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پارلیمانی فرینڈشپ گروپس اور دیگر موزوں ذرائع کے ذریعے باقاعدہ روابط برقرار رکھے جائیں گے اور دونوں ممالک کے باہمی مفاد کے لیے تعاون کی نئی راہیں تلاش کی جائیں گی۔
