محمد فاروق چودھری نے وفاقی حکومت کی جانب سے چھوٹے تاجروں کے لیے متعارف کرائی گئی فکس ٹیکس اسکیم کو کاروباری ماحول کے لیے مثبت قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ٹیکس نظام کو سادہ، شفاف اور تاجروں کے لیے آسان بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس اسکیم کا نفاذ تاجروں کی نمائندہ تنظیموں اور مارکیٹ ایسوسی ایشنز کے ساتھ مشاورت کے بعد قابلِ تحسین ہے اور یہ لاکھوں چھوٹے کاروباری مالکوں کے سامنے موجود پیچیدگیاں کم کرنے میں مدد دے گا۔ اس سے خود اختیاری طریقے سے ٹیکس نیٹ میں شمولیت کی ترغیب ملے گی اور ٹیکس کی ادائیگی میں شفافیت بڑھے گی۔محمد فاروق چودھری نے بتایا کہ اسکیم کے تحت سالانہ فروخت بیس کروڑ روپے تک کے کاروباروں کے لیے ایک فیصد فکس ٹیکس مقرر کیا گیا ہے جبکہ ٹیکس ریٹرن کو ایک صفحے تک محدود رکھنے کی تجویز کاروباری برادری کے لیے نمایاں سہولت ثابت ہوگی۔ انہوں نے اس بات کی بھی حمایت کی کہ سابقہ ادا شدہ اور کٹے ہوئے ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دی جا رہی ہے، جو تاجروں کو نقد روانی بہتر رکھنے میں مدد دے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اگر ٹیکس نظام کو مزید آسان اور شفاف بنائے تو نہ صرف ٹیکس وصولی میں بہتری آئے گی بلکہ معیشت کی دستاویزی صورتحال بھی بہتر ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ ٹیکس پالیسیز کی تیاری میں تاجروں کی تنظیمیں اور متعلقہ شعبہ جات کے نمائندوں کو باقاعدگی سے مشاورت میں شامل رکھا جائے۔انہوں نے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کی ٹیکس اصلاحات کے عزم کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ فکس ٹیکس اسکیم کاروباری ماحول کو بہتر بنا کر ملک بھر میں سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دے گی۔
