نوجوان نسل کے تحفظ کیلئے تمباکو تشہیر پر مکمل پابندی اور 85 فیصد وارننگز کا مطالبہ

newsdesk
7 Min Read
سپارک کے زیر اہتمام سیشن میں مقررین نے نوجوانوں کو تمباکو کے نقصانات سے بچانے کے لیے TAPS قوانین مضبوط بنانے اور 85 فیصد گرافک وارننگز پر زور دیا۔

اسلام آباد، 16 ستمبر 2026: سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (سپارک) کے زیر اہتمام ایک اہم سیشن میں مقررین نے تمباکو کے استعمال میں کمی، نوجوانوں کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کو تمباکو کے نقصانات سے بچانے کے لیے سگریٹ پیکٹس پر گرافک ہیلتھ وارننگز کا حجم کم از کم 85 فیصد کرنے اور تمباکو ایڈورٹائزنگ، پروموشن اینڈ اسپانسرشپ (TAPS) پر جامع پابندی کا مطالبہ کیا۔

سیشن کا عنوان “Strengthening TAPS Regulations and increasing Graphic health warnings on Cigarette packs” تھا، جس میں تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کے لیے گرافک ہیلتھ وارننگز کو مؤثر اور کم خرچ اقدامات میں سے ایک قرار دیا گیا۔

تقریب کے مہمان خصوصی صدرِ پاکستان کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمباکو آج بھی انسانی جانیں لے رہا ہے، اور اگر اس کے خلاف کوششوں کو تیز نہ کیا گیا تو قیمتی جانوں کا ضیاع جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو کی تشہیر، فروغ اور اسپانسرشپ پر پابندی اور گرافک ہیلتھ وارننگز کے حجم میں اضافہ جیسے جرات مندانہ اقدامات ناگزیر ہیں۔

مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ دنیا بھر میں تمباکو ہر سال 80 لاکھ سے زائد افراد کی موت کا سبب بنتا ہے۔ ان کے مطابق اگر پاکستان تمباکو سے پاک نسل کی بنیاد رکھنا چاہتا ہے تو TAPS قوانین کو مضبوط بنانا اور سگریٹ پیکٹس پر گرافک ہیلتھ وارننگز کی کوریج کم از کم 85 فیصد تک بڑھانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات تمباکو مصنوعات کی کشش اور نمائش کو کم کرنے، خاص طور پر نوجوانوں کو ان سے دور رکھنے، اور موجودہ و آئندہ نسلوں کی صحت و فلاح کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

رکن قومی اسمبلی حمیرا اختر چغتائی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان صرف براہ راست اشتہارات سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ پرکشش پیکجنگ، تقریبات کی اسپانسرشپ اور آن لائن مواد جیسے بالواسطہ تشہیری طریقے بھی ان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ذرائع کے ذریعے تمباکو کو کم نقصان دہ یا پرکشش انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے، جو نوجوانوں کے لیے خطرناک رجحان ہے۔

حمیرا اختر چغتائی نے کہا کہ پاکستان نے تمباکو کنٹرول کے شعبے میں قابل ذکر پیش رفت کی ہے، تاہم ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ موجودہ ضوابط کے باوجود Tobacco Advertising, Promotion and Sponsorship کی مختلف صورتیں اب بھی نظر آتی ہیں، جن سے جامع انداز میں نمٹنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سپارک کی کوششوں کو سراہتے ہوئے TAPS قوانین کو مضبوط بنانے اور گرافک ہیلتھ وارننگز کو 85 فیصد تک بڑھانے کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔

سپارک کے پروگرام مینیجر ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نے کہا کہ موجودہ پابندیوں کے باوجود تمباکو کی تشہیری سرگرمیاں مختلف لطیف اور بالواسطہ طریقوں سے صارفین کے رویوں کو متاثر کرتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن ممالک نے TAPS کی تمام شکلوں پر مکمل پابندی نافذ کی ہے، وہاں تمباکو کے استعمال میں نمایاں کمی دیکھی گئی، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں میں۔

ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر کے مطابق پاکستان نے تمباکو کنٹرول کے حوالے سے پیش رفت ضرور کی ہے، لیکن موجودہ خلا ختم کرنے اور قوانین کے یکساں نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ تمباکو کی براہ راست اور بالواسطہ تمام تشہیری صورتوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مضبوط اور وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کی جانے والی گرافک ہیلتھ وارننگز ثابت شدہ اور زندگی بچانے والی مداخلتیں ہیں، جو سگریٹ نوشی کرنے والوں کو تمباکو چھوڑنے کی ترغیب دیتی ہیں اور غیر تمباکو نوش افراد، خاص طور پر نوجوانوں، کو تمباکو شروع کرنے سے روکنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔

سی ٹی ایف کے کنٹری نمائندہ انیس سکھیرہ نے کہا کہ تمباکو ایڈورٹائزنگ، پروموشن اور اسپانسرشپ کی مختلف شکلیں نوجوانوں پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان TAPS قوانین اور ان کے نفاذ میں موجود خلا بند کر کے اور گرافک ہیلتھ وارننگز کو 85 فیصد تک مضبوط بنا کر اپنے نوجوانوں کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ان اقدامات سے نوجوانوں کے لیے زیادہ محفوظ اور صحت مند ماحول قائم کرنے میں مدد ملے گی اور موجودہ و آنے والی نسلوں کے لیے تمباکو سے پاک مستقبل کی راہ ہموار ہو گی۔

ہیلتھ سائنسز اکیڈمی میں الائیڈ ہیلتھ سائنسز، پھیپھڑوں کی بیماریوں اور تمباکو کنٹرول کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر مطیع الرحمن نے کہا کہ تمباکو صرف شہریوں کی صحت کو متاثر نہیں کرتا بلکہ صحت کے نظام اور معیشت پر بھی بڑا بوجھ ڈالتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو کنٹرول اقدامات کو تسلیم کرتے ہوئے یہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسی ثقافت کو فروغ دیا جائے جو صحت، فلاح و بہبود اور قومی خوشحالی کو ترجیح دے۔

سیشن میں ڈی جی آپریشنز براڈ کاسٹ پیمرا سجاد احمد، وزیراعظم یوتھ پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر وقار، ٹوبیکو کنٹرول سیل کے محمد آفتاب احمد، دیگر فیصلہ سازوں، سرکاری حکام، صحافیوں، سول سوسائٹی کے ارکان، ماہرین تعلیم، میڈیا پروفیشنلز اور یوتھ ایمبیسیڈرز نے شرکت کی۔

اجلاس میں بحث کا مرکز گرافک ہیلتھ وارننگز کو 85 فیصد تک نافذ کرنا اور Tobacco Advertising, Promotion and Sponsorship کے ضوابط پر مؤثر عملدرآمد تھا، تاکہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کو تمباکو سے متعلق نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

Share This Article