اسلام آباد: سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ نائن الیون کے 25 برس بعد امریکا کمزور ہو کر ابھرا ہے، چین کے لیے گنجائش پیدا ہوئی ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں مسلم درمیانی طاقتیں بدلتی ہوئی دنیا میں زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں معروف تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) کے زیر اہتمام ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نائن الیون سے پہلے امریکا کو واحد سپر پاور سمجھا جاتا تھا، مگر اب صورتحال ویسی نہیں رہی۔
سینیٹر مشاہد حسین نے اپنی تفصیلی پریزنٹیشن میں ’’9/11 in 25، وہ تاریخ جس نے دنیا بدل دی‘‘ کے عنوان سے ایک فیکٹ شیٹ پیش کی۔ اس فیکٹ شیٹ میں براؤن یونیورسٹی کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ امریکا نے نائن الیون کے بعد 20 برس میں 8 ٹریلین ڈالر ضائع کیے، جس کے نتیجے میں 3 کروڑ 80 لاکھ افراد بے گھر ہوئے، تقریباً 50 لاکھ براہِ راست یا بالواسطہ اموات ہوئیں، جبکہ افغانستان، پاکستان کے سابق فاٹا، عراق، شام، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، یمن اور لبنان جیسے جنگ زدہ محاذوں پر 3 لاکھ 24 ہزار ڈرونز، بم اور میزائل استعمال کیے گئے۔
انہوں نے امریکی ذرائع کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ نائن الیون کے صرف 9 دن بعد پینٹاگون نے سات مسلم ملکوں کے خلاف جنگیں شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جن میں عراق، شام، لبنان، لیبیا، صومالیہ اور سوڈان شامل تھے۔
سینیٹر مشاہد حسین نے معروف امریکی صحافی ٹام فریڈمین کا حوالہ بھی دیا، جنہوں نے 8 مئی 2003 کو نیویارک ٹائمز میں لکھا تھا کہ اگر وائٹ ہاؤس کے قریب کام کرنے والے 25 افراد کو کسی جزیرے پر جلاوطن کر دیا جاتا تو عراق جنگ نہ ہوتی۔ ان کے مطابق اس سے مراد یہ تھی کہ عراق جنگ کو اسرائیل نواز لابی سے وابستہ بااثر افراد اور صحافیوں کے ایک منتخب گروہ نے آگے بڑھایا اور فروغ دیا۔
انہوں نے برطانوی مصنف کی کتاب ’’Lawless World‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عراق پر امریکی حملے سے قبل امریکی صدر بش نے وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ یہ منصوبہ شیئر کیا تھا کہ جوہری پھیلاؤ کے ظاہری جواز کے تحت پاکستان اور سعودی عرب کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
افغانستان کے حوالے سے سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ نائن الیون کے بعد ایک بڑی غلطی دسمبر 2001 میں بون اجلاس کے دوران ہوئی، جب شکست خوردہ افغان طالبان کے ساتھ مفاہمت کا موقع بھی ضائع کیا گیا اور افغان بادشاہت کی بحالی کا امکان بھی ہاتھ سے نکل گیا، جو جدید افغان ریاست کے لیے مرکزِ ثقل کی حیثیت رکھتی تھی۔
انہوں نے اس صورتحال کا موازنہ کمبوڈیا سے کیا، جہاں تباہ کن خانہ جنگی کے بعد بادشاہت کی واپسی نے ریاست میں استحکام پیدا کیا، جبکہ افغانستان میں اس کے برعکس عمل ہوا اور ایک ایسی ’’جمہوریہ‘‘ قائم ہوئی جو امریکی فوجی انخلا کے ساتھ ہی بکھر گئی۔
پاکستان پر نائن الیون کے اثرات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دیگر مسلم ملکوں کے مقابلے میں پاکستان نے پڑوس میں افغانستان پر امریکی یلغار کے اثرات کے باوجود خود کو سنبھالا، تاہم پاکستان کو شدید عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر سابق فاٹا میں، جس کے نتیجے میں 2007 میں ٹی ٹی پی وجود میں آئی۔ انہوں نے کہا کہ اسی دور میں پاکستان کی افغان پالیسی ناکام ہوئی اور امریکی فوجی قبضے کی آڑ میں افغانستان میں بھارتی رسائی کو روکنے میں پاکستان ناکام رہا۔
عالمی نتائج پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ نائن الیون جدید تاریخ کا ایک بڑا موڑ تھا، جس نے امریکا کے زوال اور چین کے عروج کا آغاز کیا، اور ان کے بقول دونوں عمل ناقابلِ واپسی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں ایک کثیر القطبی دنیا سامنے آئی، جس میں روس کی واپسی، پاکستان جیسی بڑی مسلم درمیانی طاقتوں کا ابھار، اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس جیسی نئی علاقائی تنظیموں کی تشکیل شامل ہے۔
انہوں نے نائن الیون کے ایک اور اہم نتیجے کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیشتر مغربی ملکوں میں اسلاموفوبیا اور دائیں بازو کی نسل پرستی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے اسلام اور مغرب کے درمیان خلیج مزید وسیع ہوئی۔ ان کے مطابق یہ محاذ آرائی امریکا کی ’’اسرائیل فرسٹ‘‘ خارجہ پالیسی کے تحت گریٹر اسرائیل کی حمایت کے باعث بھی پھیلی ہے۔
