اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم بنیادی طور پر کم آمدنی والے شہریوں کو سہولت دینے کے لیے تیار کی گئی ہے، جن میں ڈیلیوری رائیڈرز، رکشہ ڈرائیورز اور وہ خاندان شامل ہیں جو موٹرسائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں پر انحصار کرتے ہیں۔
منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے بتایا کہ اہل موٹرسائیکل صارفین کو ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے ریلیف دیا جائے گا، یوں انہیں زیادہ سے زیادہ 2 ہزار روپے ماہانہ سہولت مل سکے گی۔ اسی طرح چھوٹی گاڑیوں کے صارفین 30 لیٹر تک رعایت کے اہل ہوں گے، جس کے تحت انہیں ماہانہ 3 ہزار روپے تک ریلیف ملے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو ان لوگوں کے لیے کم کرنا ہے جو روزگار اور روزمرہ ضروری سفر کے لیے موٹرسائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ڈیلیوری رائیڈرز پر پیٹرول کی بلند قیمتوں کا خاص طور پر اثر پڑا ہے، کیونکہ وہ کھانے پینے کی اشیا اور دیگر سامان پہنچانے کے لیے پہلے جتنا ہی سفر کرتے ہیں مگر ان کے ایندھن کے اخراجات نمایاں طور پر بڑھ چکے ہیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک کے مطابق 2 ہزار روپے کا ریلیف کم آمدنی والے ڈیلیوری رائیڈر کے گھر کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے خوراک، دودھ اور انڈوں جیسی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے ایک خاتون کی مثال بھی دی جو اپنے خاندان کی کفالت کے لیے چنگ چی رکشہ چلاتی ہیں، اور کہا کہ ماہانہ 2 ہزار روپے کا فیول ریلیف ان کے بچے کی اسکول فیس ادا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے ایک اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک مستحق شخص 800 سی سی گاڑی میں فیکٹری جاتا ہے، جبکہ اس کی اہلیہ اسی گاڑی میں بچوں کو اسکول چھوڑتی ہیں۔ ایسے صارف کو 30 لیٹر تک پیٹرول پر رعایت ملے گی، جس کی مالیت ماہانہ 3 ہزار روپے تک ہو گی۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ حکومت نے تمام صارفین کے لیے پیٹرول کی قیمت کم کرنے کے بجائے ہدفی ریلیف کا راستہ اختیار کیا ہے، کیونکہ ملک کو معاشی حدود کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ اضافہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بڑھنے سے منسلک ہے، جہاں قیمت تقریباً 55 سے 65 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر ایران، اسرائیل اور امریکا سے متعلق جاری تنازع کے دوران 100 ڈالر سے اوپر جا چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا، “تیل کی قیمت کم نہیں ہوئی اور جنگ بند نہیں ہوئی۔”
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت معاشرے کے کمزور طبقات کو تحفظ دینے کے لیے بیرونی معاشی دباؤ کا ایک حصہ خود برداشت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پیٹرولیم لیوی 80 روپے فی لیٹر اور کاربن لیوی 5 روپے ہے، اس طرح مجموعی رقم 85 روپے بنتی ہے، جبکہ اسکیم کے تحت اعلان کردہ ریلیف 100 روپے فی لیٹر ہے۔ ان کے مطابق یہ ریلیف بلند قیمتوں کے اثرات کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کافی نہیں، تاہم یہ اتنا بوجھ ہے جتنا قومی معیشت اس وقت برداشت کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اسکیم اسلام آباد میں شروع کر دی گئی ہے اور آئندہ چند روز میں اسے چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان تک بڑھا دیا جائے گا۔ اسکیم کے تحت موٹرسائیکل صارفین کو ہر ہفتے 5 لیٹر سبسڈی والا پیٹرول ملے گا، جبکہ کار صارفین ہر 10 دن بعد 10 لیٹر کے حق دار ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ اہل صارفین سب سے پہلے ایس ایم ایس کے ذریعے رجسٹریشن کرائیں گے، جس کے لیے 9771 پر پیغام بھیجنا ہو گا۔ رجسٹریشن کے بعد انہیں اگلے ایس ایم ایس عمل کے ذریعے ٹوکن موصول ہو گا، جسے پیٹرول پمپ پر دکھا کر رعایتی نرخ پر پیٹرول حاصل کیا جا سکے گا۔ شہریوں کی رجسٹریشن میں مدد اور اسکیم سے متعلق مشکلات کے حل کے لیے مختلف مقامات پر معلوماتی اسٹالز بھی قائم کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی ترجیح کم آمدنی والے شہریوں کو بیرونی معاشی جھٹکوں سے بچانا اور ملک کے دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے انہیں زیادہ سے زیادہ ممکنہ ریلیف فراہم کرنا ہے۔
