اسلام آباد میں عالمی یوم خواندگی کی 60ویں سالگرہ، پاکستان بھر میں تعلیم کے مواقع بڑھانے پر زور

newsdesk
9 Min Read
اسلام آباد میں عالمی یومِ خواندگی کی 60ویں سالگرہ کی تقریب میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، اقوامِ متحدہ کے اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور تعلیمی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اسلام آباد، 8 ستمبر 2026: وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے تحت یونیسکو، نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ (این سی ایچ ڈی)، یونیسف اور جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کے اشتراک سے عالمی یومِ خواندگی کی 60ویں سالگرہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں منائی گئی۔ تقریب کا عنوان ’’لوگوں، کرۂ ارض اور خوشحالی کے لیے خواندگی‘‘ رکھا گیا تھا۔

یہ تقریب این سی ایچ ڈی نے یونیسکو، یونیسف اور جائیکا کے تعاون سے منعقد کی، جس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، اقوامِ متحدہ کے اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور تعلیمی شعبے سے وابستہ 200 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران خواندگی کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ خواندگی کو افراد کے لیے بہتر مواقع، پائیدار ترقی اور جامع خوشحالی کے فروغ کا مؤثر ذریعہ کیسے بنایا جا سکتا ہے۔

سال 2026 کے موضوع ’’لوگوں، کرۂ ارض اور خوشحالی کے لیے خواندگی‘‘ کے ذریعے اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ خواندگی انسانی زندگیوں میں بہتری، جامع اور پائیدار معاشروں کی تشکیل، روزگار کے مواقع اور معاشی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ عالمی یومِ خواندگی کی 60ویں سالگرہ کو اس موقع کے طور پر بھی دیکھا گیا کہ خواندگی کے شعبے کی کامیابیوں کو تسلیم کیا جائے، باقی رہ جانے والے چیلنجز کا جائزہ لیا جائے اور سب کے لیے خواندگی کے فروغ کے لیے شراکت داریوں کو مزید مضبوط کیا جائے۔

تقریب سے وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، پاکستان میں یونیسکو کے نمائندے اور سربراہِ دفتر فواد پاشایف، یونیسف کی ڈپٹی نمائندہ برائے پروگرامز شرمیلا رسول، جائیکا پاکستان آفس کے ڈپٹی چیف تاکایوکی سوگوارا، اور رکن قومی اسمبلی و چیئرمین نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ افتخار صادق نے خطاب کیا۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزارت اسکول سے باہر بچوں اور ناخواندگی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کوئی بچہ، نوجوان یا بالغ تعلیم اور سیکھنے کے مواقع سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔

یونیسکو کے نمائندے فواد پاشایف نے خواندگی کو بنیادی انسانی حق اور پائیدار ترقی کی اساس قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خواندگی صرف پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت نہیں بلکہ وقار، مواقع اور پائیدار ترقی کی مضبوط بنیاد ہے۔ ان کے مطابق عالمی یومِ خواندگی کی 60ویں سالگرہ کے موقع پر اجتماعی عزم کی تجدید ضروری ہے تاکہ ہر بچہ بنیادی مہارتیں حاصل کرے، ہر اسکول سے باہر بچے کو تعلیم کے دائرے میں لایا جائے اور ہر نوجوان و بالغ کو زندگی بھر سیکھنے کے مواقع دستیاب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یونیسکو حکومتِ پاکستان اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر لوگوں، کرۂ ارض اور خوشحالی کے لیے خواندگی کے فروغ میں تعاون جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

جائیکا پاکستان آفس کے ڈپٹی چیف تاکایوکی سوگوارا نے پاکستان میں خواندگی اور غیر رسمی تعلیم کے فروغ کے لیے جائیکا کے دیرینہ تعاون کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسکول سے باہر بچوں، نوجوانوں اور بالغ افراد کے لیے معیاری تعلیمی مواقع بڑھانے کے لیے مسلسل تعاون اہم ہے۔ انہوں نے ایڈوانسنگ کوالٹی آلٹرنیٹو لرننگ (AQAL) منصوبے کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت وفاقی و صوبائی حکومتوں اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر معیاری متبادل تعلیمی مواقع تک رسائی بڑھانے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔

این سی ایچ ڈی کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی افتخار صادق نے خواندگی اور غیر رسمی تعلیم میں ادارے کے دیرینہ کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ این سی ایچ ڈی کم سہولیات رکھنے والی آبادیوں کے لیے سیکھنے کے مواقع کو وسعت دینے میں قومی سطح پر قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔

افتخار صادق کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران این سی ایچ ڈی نے کمیونٹی پر مبنی بالغ خواندگی مراکز اور غیر رسمی بنیادی تعلیمی اسکولوں کے نیٹ ورک کے ذریعے پالیسی اور کمیونٹی ضروریات کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ اس عمل میں خواتین، دیہی آبادی اور محروم طبقات کو خاص اہمیت دی گئی۔ انہوں نے مقامی ضروریات کے مطابق تعلیمی مواد کی تیاری، اساتذہ کی تربیت اور نچلی سطح کی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔

یونیسف کی ڈپٹی نمائندہ برائے پروگرامز شرمیلا رسول نے تعلیم میں اصلاحات کے مرکز میں خواندگی اور بنیادی تعلیم کو رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خواندگی ہر بچے کو دی جانے والی مضبوط ترین بنیادوں میں سے ایک ہے، جو بچوں کو سیکھنے، اپنی برادریوں میں حصہ لینے اور اپنے مستقبل کی تشکیل کے قابل بناتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں اب بھی بہت سے بچے کامیابی کے لیے درکار بنیادی مہارتیں حاصل نہیں کر پا رہے۔

شرمیلا رسول نے کہا کہ خواندگی اور بنیادی تعلیم کو تعلیمی اصلاحات کا مرکزی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے اساتذہ، معیاری تعلیمی ماحول اور ایسے طریقہ ہائے کار میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا جو محروم بچوں تک مؤثر رسائی ممکن بنا سکیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات اس لیے ضروری ہیں کہ ہر بچے کو سیکھنے، آگے بڑھنے اور اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع مل سکے۔

تقریب کا ایک نمایاں پہلو این سی ایچ ڈی کی تیار کردہ ’’Each One, Teach One‘‘ موبائل ایپلی کیشن کا اجرا تھا۔ یہ ایپ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے خواندگی کو فروغ دینے کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس کا مقصد خواندگی کی تعلیم کو زیادہ قابلِ رسائی بنانا اور ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال سے کمیونٹی سطح کے خواندگی اقدامات کو تقویت دینا ہے۔

وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور ملک بھر میں خواندگی اور زندگی بھر سیکھنے کے مواقع کو مضبوط بنانے کے لیے حکومتِ پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ شرکاء نے زور دیا کہ معاشرے کے تمام طبقات، خصوصاً ان بچوں، نوجوانوں اور بالغ افراد تک خواندگی اور بنیادی تعلیمی مہارتیں پہنچانے کے لیے مستقل سرمایہ کاری، مضبوط شراکت داریوں اور جدید طریقوں کی ضرورت ہے جو اب بھی محروم ہیں۔

عالمی یومِ خواندگی کا اعلان یونیسکو نے 1966 میں کیا تھا اور یہ دن پہلی بار 1967 میں منایا گیا۔ ہر سال 8 ستمبر کو اس دن کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ جامع اور پائیدار معاشروں کی بنیاد کے طور پر خواندگی کی اہمیت اجاگر کی جا سکے۔ اسلام آباد میں 60ویں سالگرہ کی تقریب نے حکومتِ پاکستان، اقوامِ متحدہ کے اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور تعلیمی شعبے کے درمیان اجتماعی عمل کی ضرورت کو دوبارہ نمایاں کیا۔

عالمی یومِ خواندگی کی 60ویں سالگرہ کی عالمی تقریبات 8 اور 9 ستمبر 2026 کو حکومتِ میکسیکو کے تعاون سے منعقد کی جا رہی ہیں۔

Share This Article