پمز نرسری آتشزدگی: قومی اسمبلی کمیٹی نے انکوائری رپورٹ پر مزید شواہد طلب کر لیے

newsdesk
7 Min Read
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے پمز نرسری آتشزدگی کی انکوائری رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اسلام آباد، 31 اگست 2026: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں پیش آنے والے آتشزدگی کے افسوسناک واقعے سے متعلق انکوائری رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے متعدد امور پر مزید وضاحت اور شواہد طلب کر لیے۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس آج پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم نمبر 5 میں منعقد ہوا، جس میں پمز نرسری فائر واقعے، اس کے اسباب، ذمہ داری کے تعین، ہسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات، عملے کی تعیناتی، ایمرجنسی رسپانس کی صلاحیت اور متعلقہ ایس او پیز پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران ارکان نے انکوائری رپورٹ پر اہم سوالات اٹھائے اور کہا کہ واقعے کے اصل ماخذ اور آگ لگنے کی حتمی وجہ کا تعین ابھی تک واضح طور پر سامنے نہیں آیا۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ذمہ داری کے تعین کے لیے نرسری کے اندر کی سی سی ٹی وی فوٹیج انتہائی اہم ہے، کیونکہ اسی سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ واقعے کے وقت اندر کیا صورتحال تھی اور آگ لگنے کے بعد عملے نے کیا اقدامات کیے۔

چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ واقعے کے وقت نرسری کے اندر عملہ موجود تھا یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب معلومات کے مطابق تین نرسیں نرسری کے باہر دکھائی دیتی ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس وقت نرسری کے اندر کون موجود تھا۔ کمیٹی نے اس معاملے کی مکمل وضاحت اور متعلقہ سی سی ٹی وی ریکارڈ فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

کمیٹی نے پمز کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے اس بیان پر بھی عدم اطمینان ظاہر کیا کہ آگ کمپریسر پھٹنے سے لگی۔ ارکان نے استفسار کیا کہ جب آگ لگنے کا حتمی ماخذ ابھی طے نہیں ہوا تو کمپریسر کو واقعے کی وجہ قرار دینے کی بنیاد کیا تھی۔

اجلاس میں بایومیڈیکل انجینئرز، ایچ وی اے سی سسٹم اور ہسپتال کے تکنیکی و مینٹیننس انتظامات بھی زیر بحث آئے۔ کمیٹی نے ایچ وی اے سی سسٹم کے درست طور پر کام نہ کرنے سے متعلق رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا اور پوچھا کہ متعلقہ تکنیکی عملے نے آلات اور نظام کی بروقت جانچ اور دیکھ بھال کیوں یقینی نہیں بنائی۔

ارکان نے نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں فائر سیفٹی اور ہنگامی ردعمل کے انتظامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے سوال کیا کہ کیا ہسپتال میں باقاعدگی سے فائر ڈرلز ہوتی تھیں اور کیا نرسری جیسے حساس شعبے میں تعینات عملے کو آگ لگنے کی صورت میں فوری اور مؤثر کارروائی کی تربیت دی گئی تھی۔

کمیٹی نے کہا کہ کسی بھی ہسپتال میں مؤثر اور فعال فائر سیفٹی سسٹم بنیادی ضرورت ہے۔ ارکان نے استفسار کیا کہ پمز کی نرسری اور دیگر حساس شعبوں میں فائر الارم، فائر ڈیٹیکشن، فائر فائٹنگ آلات اور ایمرجنسی رسپانس کا مناسب اور فعال نظام موجود تھا یا نہیں۔

اجلاس میں اسٹاف کی کمی اور بھرتیوں کے معاملے پر بھی وضاحت طلب کی گئی۔ کمیٹی نے پوچھا کہ اہم اور حساس شعبوں میں ضرورت کے مطابق عملہ دستیاب تھا یا نہیں۔

اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی (آئی ایچ آر اے) کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ فائر سیفٹی سے متعلق احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانا متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی ذمہ داری ہے، تاہم اس معاملے میں ضروری اقدامات پر مؤثر عملدرآمد دکھائی نہیں دیا۔

کمیٹی نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ قائمہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی ماضی میں فائر سیفٹی اور حفاظتی اقدامات سے متعلق سفارشات دے چکی تھی، لیکن وزارت کی جانب سے ان سفارشات پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی نے واضح کیا کہ اس افسوسناک سانحے پر پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ کسی ایک ادارے یا فرد تک محدود نہیں بلکہ ایک قومی مسئلہ ہے، اور بحیثیت قوم ہم اس سانحے پر رنجیدہ ہیں۔ ان کے مطابق معصوم نومولود بچوں کی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے، اور مقصد کسی کو بلاوجہ مورد الزام ٹھہرانا نہیں بلکہ حقائق سامنے لانا، ذمہ داری کا تعین کرنا اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنانا ہے۔

چیئرمین نے کہا کہ پمز نرسری آتشزدگی کو ملک بھر کے ہسپتالوں کے لیے ویک اَپ کال سمجھا جانا چاہیے۔ تمام ہسپتالوں، خصوصاً نوزائیدہ بچوں کے شعبوں میں فائر سیفٹی کے مکمل اور فعال نظام، تربیت یافتہ عملے، باقاعدہ فائر ڈرلز، درست ایچ وی اے سی اور بجلی کے نظام، بروقت تکنیکی معائنوں اور حفاظتی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد ناگزیر ہے۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ واقعے کے اصل ماخذ، سی سی ٹی وی فوٹیج، نرسری میں عملے کی تعیناتی، فائر سیفٹی انتظامات، فائر ڈرلز، ایچ وی اے سی سسٹم، بایومیڈیکل انجینئرنگ معائنوں، اسٹاف کی دستیابی، آئی ایچ آر اے کی جانب سے حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد اور قائمہ کمیٹی کی سابقہ سفارشات پر عملدرآمد سے متعلق مزید معلومات اور شواہد حاصل کیے جائیں گے۔

قائمہ کمیٹی نے عزم ظاہر کیا کہ حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا اور مستقبل میں ایسے المناک واقعات سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جائیں گے۔

Share This Article