حج پالیسی پر پارلیمانی نگرانی ناگزیر، قومی اسمبلی کمیٹی کا واضح مؤقف

newsdesk
8 Min Read
پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اسلام آباد، 12 اگست 2026: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے زور دیا ہے کہ حج پالیسی 2027-2030 کو عازمینِ حج کی سہولت، شفافیت، مالی احتیاط اور پاکستانی عازمین کی بدلتی ضروریات کے مطابق رکھا جائے، جبکہ اس عمل میں مؤثر پارلیمانی نگرانی اور جوابدہی کو بھی یقینی بنایا جائے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں کمیٹی کا اجلاس رکن قومی اسمبلی محترمہ شگفتہ جمانی کی زیر صدارت ہوا، جس میں حج آپریشن 2026 کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور حج 2027-2030 کی تیاریوں اور مجوزہ پالیسی فریم ورک پر غور کیا گیا۔

کمیٹی نے مجوزہ حج پالیسی 2027-2030 کا تفصیلی جائزہ لینے اور طویل مدت کے لیے پالیسی کو مزید بہتر اور مضبوط بنانے کی سفارشات تیار کرنے کے لیے رکن قومی اسمبلی محمد اعجاز الحق کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی قائم کر دی۔ ذیلی کمیٹی میں محترمہ شگفتہ جمانی، احمد سلیم صدیقی اور محترمہ نعیمہ کشور کو ارکان نامزد کیا گیا۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اور وفاقی سیکرٹری نے کمیٹی کو مجوزہ حج پالیسی اور پلان 2027-2030 کے اہم نکات پر بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ پالیسی میں سعودی حج تقاضوں کے مطابق تسلسل، پیش بینی اور طویل المدتی آپریشنل منصوبہ بندی پر توجہ دی گئی ہے۔ وزیر نے کہا کہ پالیسی کا مقصد پاکستانی عازمین کے لیے خدمات بہتر بنانا، شفافیت اور احتساب کو مضبوط کرنا، خریداری اور آپریشنل اخراجات کم کرنا، ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنا اور عازمین کی فلاح و بہبود کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ مجوزہ پالیسی کے اہم اقدامات میں مسلسل رجسٹریشن، ترجیحی ویٹنگ لسٹ کا طریقہ کار، پسندیدہ حج انتظامات کے پیشگی انتخاب کی سہولت، 10 فیصد رجسٹریشن ڈپازٹ، شریعت کے مطابق حج سیونگز اسکیم اور کثیر سالہ خریداری و سروس کنٹریکٹس شامل ہیں۔ پالیسی میں 60 فیصد سرکاری اور 40 فیصد نجی حج کوٹہ، طویل اور مختصر دورانیے کے حج پیکجز، نجی حج آپریٹرز کی بہتر نگرانی، ویلفیئر اسٹاف کا میرٹ پر انتخاب، تکافل تحفظ اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو مضبوط بنانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

کمیٹی نے حج پالیسی 2027 کو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش کیے بغیر وفاقی کابینہ کی منظوری کے لیے بھجوانے پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔ چیئرپرسن اور ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ منتخب نمائندوں کی آرا اور سفارشات لیے بغیر ایسا کرنا پارلیمنٹ کے آئینی کردار کو کمزور کرتا ہے اور عوامی اہمیت کے ایسے معاملات میں کمیٹی کے نگرانی کے اختیار کو متاثر کرتا ہے جن کا براہ راست تعلق پاکستانی عازمین حج کی فلاح سے ہے۔

وفاقی وزیر نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ تمام پالیسیاں وفاقی کابینہ کو بھجوانے سے قبل قائمہ کمیٹی کے سامنے تفصیلی غور، مشاورت اور تجاویز کے لیے پیش کی جائیں گی تاکہ پالیسی سازی میں بامعنی پارلیمانی نگرانی اور شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں متروکہ وقف املاک بورڈ کی گورننس، مالیاتی نظم و نسق اور کارکردگی پر بھی جامع بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو گوردواروں، مندروں اور دیگر مذہبی و تاریخی املاک کے انتظام اور تحفظ، بورڈ کے ذرائع آمدن، سالانہ بجٹ، آڈٹ نظام اور جاری ترقیاتی و تحفظاتی منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

کمیٹی نے متروکہ وقف املاک کے انتظام و ترقی کے لیے پیدا اور مختص ہونے والے خطیر فنڈز کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے ان کے استعمال، مالیاتی کنٹرول، شفافیت اور نگرانی کے نظام سے متعلق تفصیلی وضاحت طلب کی۔ ارکان نے سوال اٹھایا کہ ترقیاتی اور تحفظاتی منصوبوں پر کیے گئے اخراجات زمین پر ہونے والی حقیقی پیش رفت اور کام کے معیار سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔

اقلیتی ترقیاتی فنڈ کے جائزے کے دوران کمیٹی نے منظور شدہ فنڈز کے استعمال اور عملدرآمد کی رفتار پر سوالات اٹھائے، خاص طور پر ان صورتوں میں جہاں نمایاں رقوم استعمال نہیں ہو سکیں۔ کمیٹی نے منصوبہ وار مختص رقوم، جاری شدہ فنڈز، اخراجات، جسمانی پیش رفت، تکمیل کی مدت، تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ اور کوالٹی ایشورنس کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کیں۔

کمیٹی نے گوردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب کے 883.834 ملین روپے کے رہائشی بلاک پر بھی سنگین تحفظات ظاہر کیے، جس کی جسمانی پیش رفت مبینہ طور پر صرف 60 فیصد ہے۔ کمیٹی نے منصوبے کی سست رفتاری، لاگت میں اضافے، کنٹریکٹ انتظامات اور متوقع تاریخ تکمیل سے متعلق واضح وضاحت مانگ لی۔

کمیٹی نے وزارت مذہبی امور اور متروکہ وقف املاک بورڈ کو ہدایت کی کہ تمام جاری اسکیموں کے لیے مختص، جاری اور استعمال شدہ فنڈز کی منصوبہ وار جامع تفصیل، موجودہ جسمانی پیش رفت، تاخیر کی وجوہات، خریداری کی تفصیلات اور احتسابی طریقہ کار کمیٹی کو فراہم کیا جائے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ عوامی فنڈز کو شفاف، مؤثر اور صرف اقلیتی برادریوں کی فلاح، مذہبی ورثے کے تحفظ اور ترقی کے طے شدہ مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ حج پالیسی کی طرز پر پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کے مقدس مقامات اور مذہبی مقامات کے لیے جامع زیارت پالیسی بھی تشکیل دی جائے، جس میں زیارت، سہولت، سکیورٹی، فلاح و بہبود اور مذہبی ورثے کے تحفظ کے مناسب انتظامات شامل ہوں، اور اسے آئندہ اجلاس میں تفصیلی غور کے لیے کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔

کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی کہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اقلیتی ترقیاتی فنڈ کی ناکافی رقم کا معاملہ وزیراعظم کے ساتھ اٹھائیں اور اقلیتی برادریوں کے لیے ترقی، فلاح اور بااختیار بنانے کے اقدامات کے مؤثر نفاذ کے لیے اس کی مختص رقم میں نمایاں اضافہ حاصل کریں۔

کمیٹی نے اپنی سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کی صورت حال کا جائزہ موخر کر دیا، جبکہ 15 جولائی 2026 کو ہونے والے گزشتہ اجلاس کی کارروائی کی توثیق کر دی۔

اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی محمد اعجاز الحق، سیما محی الدین جمیلی، آسیہ ناز تنولی، شہناز سلیم ملک بذریعہ زوم، منیبہ اقبال، نیلم، ڈاکٹر نیلسن عظیم، مسرت رفیق مہیسر، ثمینہ خالد گھرکی بذریعہ زوم، احمد سلیم صدیقی اور نعیمہ کشور خان نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، سیکرٹری اور وزارت کے سینئر افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔

Share This Article