لاہور، یکم اگست 2026: پنجاب یونیورسٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے وفد نے لاہور بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو باڈی سے ملاقات میں جامعہ کے مبینہ انتظامی، مالی، تعلیمی اور تحقیقی مسائل پر اپنے تحفظات پیش کیے اور حکومت پنجاب، گورنر پنجاب اور چانسلر پنجاب یونیورسٹی سے مطالبہ کیا کہ معاملات کا جائزہ لینے کے لیے غیرجانبدار تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے۔
وفد نے لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر عرفان حیات باجوہ کی سربراہی میں بار نمائندوں سے ملاقات کی۔ وفد میں پروفیسر ڈاکٹر سردار اصغر، پروفیسر ڈاکٹر کامران عابد، پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن نیازی، پروفیسر ڈاکٹر امجد قیصر، جاوید اقبال، ڈاکٹر عامد علی چوہدری، بشارت محمود بھٹی، تنویر اعوان اور دیگر ارکان شامل تھے۔
لاہور بار ایسوسی ایشن کی جانب سے سیکرٹری جنرل ملک فیاض نثار کھوکھر، سیکرٹری شعیب اشرف بھٹی، نائب صدر ماڈل ٹاؤن کورٹس آصف کنول خان، نائب صدر کینٹ کورٹس نعیم مصطفیٰ مرزا، جوائنٹ سیکرٹری محمد زبیر خان، فنانس سیکرٹری نعمان علی، لائبریری سیکرٹری راحیل حفیظ رانا اور ایگزیکٹو باڈی کے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران پنجاب یونیورسٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے جامعہ کے مالی، انتظامی، تعلیمی اور تحقیقی معاملات سے متعلق مطالبات، خدشات اور تجاویز لاہور بار کے سامنے رکھیں۔ وفد کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برس میں جامعہ کے ادارہ جاتی نظام اور گورننس کو مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا رہا، جبکہ اہم آئینی اور انتظامی فورمز کے اجلاس بروقت اور باقاعدگی سے نہ ہونے کے باعث اجتماعی مشاورت، شفاف فیصلہ سازی اور ادارہ جاتی نگرانی کا عمل متاثر ہوا۔
وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ سینڈیکیٹ، فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی، سلیکشن بورڈز، پروموشن بورڈز اور دیگر متعلقہ فورمز کے باقاعدہ اجلاس ادارہ جاتی ڈھانچے کو مؤثر بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ نمائندوں کے مطابق ان فورمز کو فعال کیا جانا چاہیے تاکہ جامعہ کے اہم امور قانون، قواعد اور اجتماعی مشاورت کے تحت نمٹائے جا سکیں۔
مالی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے وفد نے ریزرو فنڈز کے استعمال، بجٹ اخراجات، اکاؤنٹس، سیلف سپورٹنگ پروگرامز، مالی صورتحال اور دیگر مالی فیصلوں میں شفافیت یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وفد نے کہا کہ ان امور کا آزادانہ، غیرجانبدارانہ اور قانون کے مطابق جائزہ لیا جائے تاکہ حقائق واضح ہوں اور کسی بھی ابہام کو دور کیا جا سکے۔
وفد نے جامعہ میں اظہار رائے کی آزادی، آزادی تنظیم اور علمی مکالمے کے فروغ سے متعلق بھی اپنے تحفظات بیان کیے۔ اساتذہ، طلبہ اور ملازمین کو درپیش بعض مسائل اور مختلف کارروائیوں کے حوالے سے بھی خدشات لاہور بار ایسوسی ایشن کے سامنے رکھے گئے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے کہا کہ کسی بھی مضبوط اور ترقی یافتہ جامعہ کی بنیاد آزاد علمی ماحول، شفاف طرز حکمرانی، اجتماعی مشاورت اور ادارہ جاتی خودمختاری پر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق تعلیمی اور تحقیقی معیار کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت میں شامل کیا جائے اور فیصلے میرٹ اور شفافیت کے اصولوں پر کیے جائیں۔
اس موقع پر صدر لاہور بار ایسوسی ایشن عرفان حیات باجوہ اور دیگر شرکاء نے وفد کا مؤقف سنا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی پاکستان کا تاریخی اور قومی علمی ادارہ ہے، جس کا وقار، خودمختاری اور مضبوط ادارہ جاتی نظام برقرار رکھنا تمام متعلقہ حلقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
صدر لاہور بار نے کہا کہ قانون کی حکمرانی، شفافیت، میرٹ، جوابدہی اور آئینی اصول ہر سرکاری اور تعلیمی ادارے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب یونیورسٹی جیسے اہم قومی ادارے کے مسائل کا حل محاذ آرائی میں نہیں بلکہ قانون کے مطابق ادارہ جاتی مشاورت، اختلاف رائے کے احترام، شفاف احتساب اور میرٹ پر مبنی فیصلوں میں ہے۔
عرفان حیات باجوہ نے حکومت پنجاب، گورنر پنجاب اور چانسلر پنجاب یونیورسٹی سے مطالبہ کیا کہ جامعہ کو درپیش انتظامی، مالی، تعلیمی اور تحقیقی مسائل کے حل کے لیے غیرجانبدار تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ جامعہ کا شفاف اور آزادانہ فرانزک آڈٹ کرایا جائے تاکہ گزشتہ عرصے کے مالی فیصلوں، ریزرو فنڈز کے استعمال، اکاؤنٹس، بجٹ خسارے، سیلف سپورٹنگ پروگرامز اور دیگر مالی امور کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقاتی عمل کا مقصد کسی فرد یا ادارے کو نشانہ بنانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ حقائق سامنے لانا، ذمہ داری کا تعین کرنا اور جامعہ کے ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ شفاف تحقیقات اور مؤثر اصلاحات سے پنجاب یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول، انتظامی نظام اور عوامی اعتماد کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
لاہور بار ایسوسی ایشن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پنجاب یونیورسٹی کے معاملات میں قانون، شفافیت، میرٹ اور ادارہ جاتی خودمختاری کے اصولوں کی حمایت جاری رکھے گی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اگر مطالبات پر مناسب پیش رفت نہ ہوئی تو پنجاب یونیورسٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مشاورت سے آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
ملاقات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پنجاب یونیورسٹی جیسے قومی ادارے کے مسائل باہمی گفت و شنید اور قانونی و آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے حل کیے جائیں تاکہ تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں اور جامعہ تحقیق، تدریس اور علمی ترقی کے میدان میں اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرتی رہے۔
شرکاء نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ حکام تمام فریقین کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے شفاف اور مثبت اقدامات کریں گے، جن سے پنجاب یونیورسٹی میں بہتر گورننس، مالی شفافیت، تعلیمی آزادی اور ادارہ جاتی استحکام کو فروغ ملے گا۔
