سی پیک جامعات کنسورشیم: ایچ ای سی کا پاک چین تعلیمی تعاون کو عملی نتائج میں بدلنے پر زور

newsdesk
4 Min Read
اسلام آباد میں ایچ ای سی کے زیر اہتمام سی پیک کنسورشیم آف یونیورسٹیز کے پاکستانی رکن جامعات کا اجلاس منعقد ہوا۔

اسلام آباد، 29 جولائی 2026ء: ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے سی پیک کنسورشیم آف یونیورسٹیز میں شامل پاکستانی رکن جامعات کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور پاکستان چین تعلیمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آئندہ ترجیحات کی نشاندہی کی گئی۔

اجلاس میں ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، کمیشن کی سینئر مینجمنٹ اور ملک بھر کی جامعات کے وائس چانسلرز اور ریکٹرز نے شرکت کی۔

ایچ ای سی کی ڈائریکٹر جنرل گلوبل انگیجمنٹ/سی پیک یونٹ محترمہ عائشہ اکرام نے اجلاس کو کنسورشیم کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2017ء میں آغاز کے بعد اس کنسورشیم کا دائرہ وسیع ہو کر 93 پاکستانی اور 40 چینی جامعات تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق نمایاں کامیابیوں میں چھ چائنا اسٹڈی سینٹرز کا قیام، مشترکہ تحقیقی گرانٹس، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلے، تربیت اور ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ پروگرامز، اور پاکستان و چین کے اداروں کے درمیان روابط میں اضافہ شامل ہے۔

اپنے کلیدی خطاب میں چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ پاکستانی جامعات کو چینی اداروں کے ساتھ روابط میں زیادہ فعال اور نتائج پر مبنی طرزِ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے اپنے حالیہ دورہ چین کے دوران موصول ہونے والی آرا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں مفاہمت کی متعدد یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، تاہم اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان معاہدوں کو ٹھوس اور قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جائے۔

ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے جامعات پر زور دیا کہ وہ مشترکہ اور ڈوئل ڈگری پروگرامز، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، فیکلٹی اور طلبہ کے تبادلوں، اختراعی شراکت داریوں، مشترکہ تحقیقی اشاعتوں اور ٹرانس نیشنل ایجوکیشن اقدامات جیسے قابل پیمائش اہداف پر توجہ دیں۔

چیئرمین ایچ ای سی نے بیجنگ لینگوئج اینڈ کلچر یونیورسٹی، فودان یونیورسٹی اور چائنا ایسوسی ایشن آف ہائر ایجوکیشن کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کی روشنی میں تعاون کے نئے امکانات پر بھی بات کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، انٹیگریٹڈ سرکٹس، بایوٹیکنالوجی، پبلک ہیلتھ، سائبر سکیورٹی، زراعت، گرین ٹیکنالوجیز اور ابھرتی ہوئی صنعتوں کو اہم شعبے قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی، اعلیٰ تعلیم، انفراسٹرکچر اور جدت کے میدان میں چین کی نمایاں پیش رفت پاکستان کے لیے قیمتی اسباق رکھتی ہے۔ انہوں نے جامعات کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ چین کے ممتاز تعلیمی اداروں کے ساتھ علمی روابط کے ذریعے دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اعلیٰ تعلیم میں ڈیجیٹل تبدیلی، چائنا اسٹڈیز اور سینولوجی پروگرامز کے فروغ، تحقیقی و تربیتی مراکز کے قیام، اور موجودہ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹس و چائنا اسٹڈی سینٹرز کو گہرے تعلیمی تعاون کے محرک کے طور پر استعمال کرنے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

انہوں نے جامعات پر زور دیا کہ وہ ایچ ای سی کی جوائنٹ، ڈوئل اور ڈبل ڈگری پالیسی سے مکمل استفادہ کریں اور فودان یونیورسٹی کی جانب سے پاکستانی ایم ایس/ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالرز کے لیے پیش کی جانے والی ریسرچ پلیسمنٹ کے مواقع کو فعال انداز میں فروغ دیں۔

اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان چین تعلیمی شراکت داریوں کو مؤثر تعاون میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ تحقیقی معیار، جدت، انسانی وسائل کی ترقی اور قومی پیش رفت میں عملی کردار ادا کیا جا سکے۔

Share This Article