اسلام آباد: وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ نے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے اشتراک سے صحت کے شعبے کے لیے ملک گیر ڈیجیٹل سیکٹورل پلان کے تحت لاہور میں پہلے دو مشاورتی ورکشاپس کامیابی سے منعقد کر لیے۔
ان نشستوں میں پنجاب کے شعبہ صحت کی قیادت اور مختلف معتبر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، جہاں پاکستان میں ڈیجیٹل صحت کے مستقبل کے وژن کی تشکیل پر غور کیا گیا۔ پہلی نشست ہیومن ریسورسز فار ہیلتھ (HRH) سے متعلق تھی، جس کی سہولت کاری پروفیسر محمود شوکت نے کی۔ دوسری نشست میں میٹرنل، نیوبورن اینڈ چائلڈ ہیلتھ کے ساتھ اے آئی، ڈیٹا اور ڈیجیٹل ہیلتھ کے موضوعات کا احاطہ کیا گیا، جس کی سہولت کاری ڈاکٹر نعیم مجید نے انجام دی۔
یہ مشاورتی عمل دس ورکشاپس پر مشتمل سلسلے کا حصہ ہے، جو اسلام آباد، پشاور، لاہور، کراچی، گلگت اور مظفرآباد میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے کا مقصد ملک کے لیے ایک جامع اور شمولیتی ڈیجیٹل ہیلتھ حکمت عملی تیار کرنا ہے۔
صحت وہ شعبہ ہے جہاں ڈیجیٹل تبدیلی کے اثرات شہریوں تک سب سے براہِ راست پہنچتے ہیں۔ پیش رفت عموماً الگ تھلگ کام کرنے سے نہیں ہوتی؛ اداروں کے باہمی رابطے اور اشتراک سے پاکستان میں ڈیجیٹل صحت کی بنیادیں زیادہ مضبوط اور شمولیتی بن سکتی ہیں۔
پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے بانی چیئرمین ڈاکٹر سہیل منیر نے اس حوالے سے کہا کہ شعبہ جاتی تبدیلی اسی انداز میں تعمیر ہونی چاہیے، یعنی اسے ان لوگوں کے ساتھ مل کر تشکیل دیا جائے جو اس کے نتائج سے براہِ راست وابستہ ہوں گے، نہ کہ اسے مرکز سے محض نافذ کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحت ایک منتقل شدہ شعبہ ہے؛ صوبے اس منصوبے کے شریک مصنف ہیں، صرف مشاورت کرنے والے نہیں۔ اسی طرح نجی شعبہ، جو روزانہ پاکستانیوں کو صحت کی بڑی مقدار میں خدمات فراہم کرتا ہے، ان بنیادوں کی تیاری میں بھی شریک ہونا چاہیے جن پر یہ نظام چلے گا۔
ڈاکٹر سہیل منیر کے مطابق پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کا کردار متعلقہ فریقوں کو ایک جگہ لانا، معیارات طے کرنا اور سہولت فراہم کرنا ہے، جبکہ ملکیت خود شعبے کے پاس ہے۔ انہوں نے وزارتِ قومی صحت خدمات کی قیادت پر شکریہ ادا کیا اور وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام کی جانب سے اس ایجنڈے کی مسلسل حمایت کو بھی سراہا۔ انہوں نے صوبائی محکمہ ہائے صحت، اسپتالوں، ہیلتھ ٹیک جدت کاروں، جامعات اور ترقیاتی شراکت داروں کو دعوت دی کہ وہ اس مشاورتی عمل میں اپنی بہترین آرا اور تجاویز پیش کریں۔
