اسلام آباد، 7 ستمبر 2026ء: ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے ادارے نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (NAHE) نے سرکاری شعبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دینے والے لیکچررز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کے لیے مصنوعی ذہانت سے متعلق تین روزہ ٹیئر-I فیکلٹی ٹریننگ پروگرام مکمل کر لیا۔
“AI Literacy for Educators: Building AI-Ready Institutions” کے عنوان سے منعقدہ اس پروگرام کا مقصد جامعات کے اساتذہ کی استعداد کو بہتر بنانا تھا تاکہ وہ تدریس، سیکھنے کے عمل، تحقیق، جائزہ کاری اور تعلیمی عمل میں مصنوعی ذہانت کو سمجھ سکیں، اس کا تنقیدی جائزہ لے سکیں اور اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال میں لا سکیں۔
نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کے مطابق اب تک جامعات کے تقریباً 400 فیکلٹی ممبران کو تربیت دی جا چکی ہے۔ ان میں پہلے بیچ کے 332 اور دوسرے بیچ کے قریباً 64 شرکاء شامل ہیں۔ یہ پروگرام پیشہ ورانہ ترقی کے ایک جامع اقدام کے طور پر ترتیب دیا گیا، جس میں تصوری فہم، عملی مشق، تنقیدی غور و فکر اور مختلف تعلیمی ماحول میں مصنوعی ذہانت کے اطلاق کو شامل کیا گیا۔
NAHE، ایچ ای سی کی مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے پروگرام کی افتتاحی اور اختتامی تقاریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ ان تقاریب میں ناہے ٹیم کے ارکان، ریسورس فیکلٹی اور تربیت حاصل کرنے والے فیکلٹی ممبران بھی موجود تھے۔
شرکاء سے خطاب میں ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت علم کی تخلیق، تدریس، جائزہ کاری، تحقیق اور اس کے اطلاق کے طریقوں کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اساتذہ تعلیمی دیانت داری کے تحفظ، مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے نتائج کے تنقیدی جائزے، رازداری اور دانشورانہ ملکیت کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے مصنوعی ذہانت کے لیے تیار اداروں کی تشکیل کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ AI کے بامعنی انضمام کے لیے باصلاحیت فیکلٹی ناگزیر ہے۔ انہوں نے ادارہ جاتی تیاری، موزوں گورننس طریقہ کار، اخلاقی حفاظتی انتظامات اور مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
تربیتی پروگرام میں شرکاء کو مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، لارج لینگویج ماڈلز اور جنریٹو AI کی بنیادی اور عملی سمجھ فراہم کرنے پر توجہ دی گئی، جبکہ تدریس، سیکھنے، تحقیق اور جائزہ کاری میں ان کی اہمیت کا بھی احاطہ کیا گیا۔
پروگرام میں مختلف شعبوں کے اعتبار سے مصنوعی ذہانت کے استعمالات کا جائزہ بھی شامل تھا، جن میں صحت، کاروبار، بینکاری، مواصلات، تخلیقی عمل، ڈیٹا اینالیٹکس، تحقیق اور تعلیم میں ابھرتی ہوئی ایپلی کیشنز شامل ہیں۔ اس بین الشعبہ جاتی حصے کا مقصد شرکاء کو یہ سمجھنے میں مدد دینا تھا کہ وہ اپنے متعلقہ تعلیمی شعبوں میں AI کی مناسبت اور درست استعمال کا جائزہ لے سکیں۔
