پی آئی او ریئسہ عادل کی نیشنل پریس کلب آمد، خواتین صحافیوں کے لیے تربیتی پروگرام شروع کرنے کا اعلان

newsdesk
6 Min Read
پرنسپل انفارمیشن آفیسر ریئسہ عادل کے نیشنل پریس کلب اسلام آباد دورے کے موقع پر خواتین صحافیوں کے مسائل اور تربیتی پروگراموں پر گفتگو کی گئی۔

اسلام آباد: پرنسپل انفارمیشن آفیسر (پی آئی او) ریئسہ عادل نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کا دورہ کیا جہاں کلب کے صدر عبدالرزاق سیال، سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ، فنانس سیکرٹری عابد عباسی اور دیگر عہدیداران نے ان کا استقبال کیا۔

دورے کے موقع پر خواتین صحافیوں کے ساتھ خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں خواتین کو صحافتی شعبے میں درپیش مسائل، تربیتی مواقع، ایکریڈیشن کارڈز، صحت کارڈز اور کام کی جگہ پر ضروری سہولیات سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ریئسہ عادل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے لیے پاکستان انفارمیشن سروس اکیڈمی کے تعاون سے مختلف تربیتی کورسز شروع کیے جائیں گے۔ ان کورسز میں فری لانسنگ، ڈیجیٹل میڈیا، کلائمٹ رپورٹنگ اور جدید صحافتی مہارتوں سے متعلق پروگرام شامل ہوں گے تاکہ صحافی بدلتے ہوئے میڈیا ماحول کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہا ہے، اس لیے صحافیوں، خاص طور پر خواتین صحافیوں کی استعداد کار میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ریئسہ عادل نے یقین دہانی کرائی کہ خواتین صحافیوں کے مسائل متعلقہ حکام تک مؤثر انداز میں پہنچائے جائیں گے اور اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔

پی آئی او نے نیشنل پریس کلب میں خواتین صحافیوں کے لیے علیحدہ لیڈیز روم، آرام گاہ اور بچوں کے لیے ڈے کیئر جیسی سہولیات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تجاویز کو متعلقہ فورمز پر اٹھایا جائے گا۔

نشست کے دوران خواتین صحافیوں کے لیے ایکریڈیشن کارڈ، صحت کارڈ، ڈیجیٹل جرنلسٹس کے لیے ایکریڈیشن کارڈ اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں خواتین صحافیوں کے حل طلب مسائل کے لیے ویمن جرنلسٹ ہیلپ ڈیسک کے قیام کی تجاویز بھی پیش کی گئیں، جس پر ریئسہ عادل نے یقین دہانی کرائی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریئسہ عادل نے کہا کہ پی آئی او کی ذمہ داری سنبھالنا ان کے لیے اعزاز کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور میڈیا ایک دوسرے کے شراکت دار ہیں، اس لیے دونوں کے درمیان اعتماد اور رابطے کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ عوام تک درست اور ذمہ دارانہ معلومات پہنچائی جا سکیں۔

اس موقع پر نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال نے پی آئی او کی آمد پر شکریہ ادا کیا اور کلب کی جانب سے خواتین اور دیگر ممبران کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین صحافی میڈیا میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، تاہم انہیں ملازمتوں کے عدم تحفظ، کم تنخواہوں، لے آف، تربیتی مواقع کی کمی اور کام کی جگہ پر سہولیات کے فقدان جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

عبدالرزاق سیال نے بتایا کہ نیشنل پریس کلب نے اپنے ممبران کی استعداد کار بڑھانے کے لیے ایک ماہ پر محیط ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس میں ممبران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ نے پی آئی او کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ نیشنل پریس کلب میں مرد ممبران کے ساتھ خواتین ممبران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے بھی ٹریننگ ورکشاپس کرائی جاتی ہیں، جس کے بعد وہ اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خواتین صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

فنانس سیکرٹری عابد عباسی نے بھی پی آئی او کی پریس کلب آمد پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ خواتین کی بڑی تعداد نیشنل پریس کلب کی ممبر ہے اور مختلف میڈیا ہاؤسز سے وابستہ ہے۔

تقریب میں نیشنل پریس کلب کے سینئر نائب صدر احتشام الحق، نائب صدر بشیر چوہدری، سینئر جوائنٹ سیکرٹری شیراز گردیزی، جوائنٹ سیکرٹری سید عون شیرازی، ممبر گورننگ باڈی عامر رفیق بٹ، فرح ربانی، عائشہ ناز، سابق ممبر گورننگ باڈی نوید احمد شیخ، گورننگ باڈی کے دیگر ارکان، مختلف میڈیا ہاؤسز سے وابستہ صحافیوں اور خواتین ممبران کی بڑی تعداد موجود تھی۔

سابق سیکرٹری این پی سی نیئر علی، جوائنٹ سیکرٹری سحرش قریشی، جوائنٹ سیکرٹری شکیلہ جلیل، سینئر صحافی فوزیہ کلثوم رانا اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا اور اپنی تجاویز پیش کیں۔

بعد ازاں خواتین صحافیوں اور پی آئی او کے درمیان سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی، جس میں خواتین صحافیوں کو صحافتی شعبے میں درپیش مختلف مسائل، خصوصاً ایکریڈیشن کارڈز کے حصول میں مشکلات سمیت دیگر امور کے ممکنہ حل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

تقریب کے اختتام پر نیشنل پریس کلب کی جانب سے پرنسپل انفارمیشن آفیسر ریئسہ عادل کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

Share This Article