خواتین کے تحفظ اور زیادتی کی روک تھام کے اقدامات مزید مؤثر بنانے پر زور

newsdesk
4 Min Read
اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں خواتین کے تحفظ اور زیادتی کی روک تھام کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے 13ویں اجلاس میں قومی کمیشن برائے حیثیتِ خواتین (این سی ایس ڈبلیو) کی کارکردگی، خواتین کے تحفظ کے لیے حکومتی اقدامات، زیادتی کی روک تھام کے انتظامات اور سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کی صدارت کمیٹی کی چیئرپرسن آسیہ ناز تنولی نے کی جبکہ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری شریک چیئر کے طور پر موجود تھے۔

این سی ایس ڈبلیو نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کمیشن کا ملٹی چینل شکایات مینجمنٹ سسٹم گزشتہ پانچ ماہ سے فعال ہے۔ شکایات کے مؤثر ازالے کے لیے روزن کے تعاون سے کنسلٹنٹس کو خصوصی تربیت دی گئی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی اور تحقیق میں معاونت کے لیے نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل پر صنفی بنیادوں پر مرتب اعداد و شمار کو مسلسل اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ پہلی جینڈر پیریٹی رپورٹ شائع ہو چکی ہے، جسے آئندہ مرحلے میں صوبائی سطح تک وسعت دی جائے گی۔

اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ این سی ایس ڈبلیو اب تک میڈیا انگیجمنٹ کے تین سیمینار منعقد کر چکا ہے، جن میں صحافیوں کو زیادتی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات کی حساس، باوقار اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے حوالے سے تربیت دی گئی۔

وزارتِ انسانی حقوق نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ 2022 سے 2024 کے دوران صنفی بنیاد پر تشدد کے رپورٹ ہونے والے واقعات میں اضافے کے تناظر میں خصوصی تفتیشی یونٹس اور خواتین و بچوں کے تحفظ کے یونٹس کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ افسران کو خصوصی تربیت فراہم کی گئی ہے جبکہ متاثرین کو بروقت مدد یقینی بنانے کے لیے شکایات کے ازالے کے نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر دانیال چوہدری نے ہراسانی سے متعلق آگاہی اور قانون کی واضح تشریح کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اور نجی اداروں میں ہراسانی کے خلاف آگاہی مہمات چلائی جانی چاہئیں تاکہ ہر فرد اپنے حقوق، ذمہ داریوں اور قانونی حدود سے آگاہ ہو۔

بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ ہراسانی کی قانونی تعریف میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے تاکہ شکایت کنندہ اور ملزم دونوں قانون کے تحت اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے پوری طرح واقف ہوں۔

انہوں نے وزارتِ انسانی حقوق کی 1099 ہیلپ لائن اور بچوں کی ہیلپ لائن 1121 کی تشہیر بڑھانے کی بھی سفارش کی اور کہا کہ پمفلٹس، پرنٹ میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے ان سہولتوں تک عوامی رسائی کو زیادہ سے زیادہ بنایا جائے۔

کمیٹی رکن شاہدہ رحمانی نے تجویز دی کہ زیادتی کے ایک کیس کو بطور کیس اسٹڈی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ قومی اسمبلی کے لیے قابلِ عمل سفارشات تیار کی جا سکیں۔

وزارتِ انسانی حقوق کے سیکرٹری نے اجلاس کو بتایا کہ کئی ممالک میں زیادتی کے متاثرین کے لیے فیس کے بغیر ٹرائل کا نظام موجود ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان میں بھی ایسے نظام کے نفاذ کے امکان کا جائزہ لیا جائے تاکہ متاثرین کو محفوظ، باوقار اور قابلِ رسائی انصاف فراہم کیا جا سکے۔

Share This Article