اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) ڈپٹی چیف آرگنائزر پاکستان موومنٹ رخشندہ تسنیم نے کہا ہے کہ ہادیٔ کل عالم ﷺ کی تشریف آوری نے عرب معاشرے کی تقدیر بدل دی۔ بعثتِ نبوی ﷺ کے بعد جہالت اور گمراہی میں ڈوبا ہوا معاشرہ گلزار بن گیا اور وہی قوم بعد ازاں دنیا کی رہنمائی کرنے لگی۔
ربیع الاول کی مناسبت سے منعقدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے رخشندہ تسنیم نے کہا کہ سرکار دو عالم ﷺ کی آمد کے مبارک ماہ کی برکت سے معاشرے پر روحانی اور وجدانی کیفیت طاری ہے۔ شہروں میں 12 روزہ جشنِ میلاد کے نغمے بلند ہو رہے ہیں اور عشاقانِ رسول ﷺ اپنے دلوں اور دامن کو قربِ خدا و رسول ﷺ کی دولت سے بھر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ مسائل کا حل اسوۂ حسنہ ﷺ پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔ والدین اور اساتذہ کرام نئی نسل کے دلوں میں حبِ رسول ﷺ کا چراغ روشن رکھیں، کیونکہ ہماری مصیبت اور نکبت کی بڑی وجہ اسلام اور صاحبِ اسلام ﷺ سے دوری ہے۔ اگر نظامِ مصطفیٰ ﷺ کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کر لیا جائے تو نصف سے زائد مسائل خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔
رخشندہ تسنیم نے اساتذہ، والدین اور اہلِ دانش سے اپیل کی کہ نوجوانوں کے روزمرہ معمولات میں درود شریف کے ورد کو لازمی حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس پاکیزہ عمل کے ذریعے خیر، بھلائی، خوشحالی اور کامیابی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا فرمان نقل کیا کہ جب تمہارے غم بڑھ جائیں اور تم ان غموں سے نجات چاہتے ہو تو مجھ پر درود پڑھو، یہ تمہارے غموں کو ختم کرنے کے ساتھ تمہارے گناہوں کی معافی کا سبب بھی بنے گا۔ انہوں نے یہ فرمان بھی بیان کیا کہ جس نے میری ایک حدیث سنی اور اسے دوسروں تک پہنچایا، قیامت کے روز اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گی۔
