اسٹیٹ بینک راولپنڈی نے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے تسلسل میں ایک عملی اقدام کرتے ہوئے صوبائی حلقوں کی 13 بڑی مویشی منڈیوں میں بینک بوتھ اور نمائندوں کی مستقل موجودگی کو یقینی بنایا ہے۔ اس کوشش کا مقصد خریداروں اور بیوپاریوں میں ڈیجیٹل ادائیگیاں اپنانے کی آگاہی پیدا کرنا اور لین دین کو محفوظ و شفاف بنانا بتایا گیا ہے۔بینکوں نے ٹینچ بھاٹہ منڈی راولپنڈی میں خاص طور پر گراؤنڈ پر بوتھ اور اسٹال قائم کر رکھے ہیں جہاں آنے والوں کو رجسٹریشن، پرس سیٹ اپ اور ادائیگی کے عمل میں پیش آنے والی مشکلات کا فوری حل فراہم کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ضلع اور کنٹونمنٹ انتظامیہ کے تعاون سے بینکوں کو مویشی منڈیوں میں جگہ مفت بطور تعاون فراہم کی گئی ہے تاکہ یہ نظام باآسانی چل سکے۔اسٹیٹ بینک راولپنڈی نے ان مویشی منڈیوں میں ایک مکمل ماحولیاتی نظام قائم کیا ہے جہاں خریدار اور بیوپاری ڈیجیٹل ادائیگیاں، ادائیگی کے آلات اور متعلقہ تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ ان منڈیوں کے نام ٹینچ بھاٹہ منڈی، چکری روڈ، راوت منڈی، گجر خان منڈی، واہ کینٹ، ٹیکسلا، کہوٹہ، چکوال، تلہ گنگ، دینہ، دھڈیال، کلر سیداں اور پچنند ہیں۔اس پہل کے تحت دس سے زائد بینک اور فِن ٹیک کمپنیوں نے اپنی خدمات متعارف کرائی ہیں اور وہ نہ صرف خریداروں اور بیوپاریوں کو آن بورڈ کر رہے ہیں بلکہ مویشی منڈیوں میں جانوروں کی خوراک کی دکانیں اور ٹھنڈے مشروبات کے اسٹال جیسی متعلقہ سروس فراہم کنندگان کو بھی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔عوامی ردعمل میں خریداروں اور بیوپاریوں نے اس اقدام کو سراہا ہے اور بتایا ہے کہ اب انہیں بھاری نقدی ساتھ لانے کی ضرورت نہیں رہتی، جو چوری اور ڈکیتی کے خطرات سے بچاتی ہے اور جعلی نوٹ کے مسائل بھی کم کرتی ہے۔ بیوپاری بھی فزیکل نقدی رکھنے کے خطرات سے بچ کر اپنی کاروباری سرگرمیاں بہتر طریقے سے جاری رکھ سکتے ہیں۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے مویشی منڈیوں کے لیے اپنایا گیا نعرہ گو کیش لیس یعنی بغیر نقد کے جائیں ہے اور بینک کا مؤقف ہے کہ یہ قدم نہ صرف ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دے گا بلکہ نقدی سے متعلقہ وارداتوں کو بھی کم کرے گا۔ راولپنڈی سے متصل گلگت بلتستان میں جہاں باقاعدہ منڈیوں کا رواج کم ہے وہاں بھی انفرادی سطح پر بیوپاریوں کی آن بورڈنگ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی جاری ہے۔اس عمل کے ذریعے خریدار اور بیوپاری دونوں سطح پر ڈیجیٹل ادائیگیاں معمول بنتی جا رہی ہیں اور مقامی سطح پر لین دین کو محفوظ، شفاف اور آسان بنانے کی کوشش جاری رہے گی، جس سے منڈیوں میں مالیاتی رسد اور صارفین کا اعتماد مضبوط ہوگا۔
