اسلام آباد میں ہسپانیہ کے سفیر نے وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مسادق ملک سے ملاقات کی، جہاں دونوں فریقوں نے علاقائی اور عالمی چیلنجز پر مفصل تبادلۂ خیال کیا۔ ملاقات میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات، بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل منظرنامے اور توانائی کی حفاظت پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ماحولیاتی تبدیلی کے موضوع پر گفتگو کے دوران وزیر نے حالیہ سیلابوں کی تباہ کاریوں کی نشاندہی کی اور مستقبل کے خطرات کو کم کرنے کے لیے تیاری اور احتیاطی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔دونوں طرف سے دریائے سندھ کے معاہدے اور حالیہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے نتائج پر بھی آراء کا تبادلہ ہوا۔ وزیر نے یہ بیان کیا کہ بین الاقوامی نظام میں ملٹی لیٹرلزم کی جگہ جب یکطرفہ رویوں سے لی جا رہی ہو تو طویل مدتی معاہدات کی حرمت متاثر ہو سکتی ہے، اور اسی سبب بین الاقوامی قواعد و ضوابط کی پاسداری کے سوالات اٹھتے ہیں۔ملاقات میں توانائی سیکیورٹی اور قابل تجدید توانائی کی طرف عالمی منتقلی پر بھی بات چیت سامنے آئی۔ دونوں نے یہ تسلیم کیا کہ شمسی اور ہوائی توانائی جیسے سبز حلوں کو تیزی سے اپنانا ضروری ہے کیونکہ روایتی توانائی کے ذرائع میں خلل سے متعدد خطے، بشمول یورپ، متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس حوالہ سے ماحولیاتی تبدیلی کے تناظر میں متنوع اور پائیدار توانائی نظام کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ہسپانیہ کے سفیر نے گلگت بلتستان کا حالیہ دورہ بھی شیئر کیا اور اس خطے کی قدرتی خوبصورتی، ثقافتی تنوع اور مقامی لوگوں کی مہمان نوازی کی تعریف کی۔ اس مشاہدے نے دونوں فریقوں کے درمیان ماحولیات اور مقامی کمیونٹیز کے تحفظ کے موضوعات کو مزید تقویت دی۔وفاقی وزیر نے وزارتی سطح کے دو زیرِ ترقی اقدام بھی سفیر کو متعارف کرائے: گرین یونیورسٹی جس کا مقصد ماحولیاتی تعلیم، تحقیق اور جدت کو فروغ دینا ہے، اور گرین فیلڈز جو نوجوان ماحولیاتی کاروباریوں کو سرمایہ کاروں اور مواقع سے جوڑ کر پائیدار کاروبار کو بڑھانے کی کوشش کرے گا۔ دونوں منصوبوں میں تعاون اور علم کے تبادلے کے متعدد مواقع زیر غور آئے۔ملاقات کے دوران دونوں جانب سے مستقبل میں مشترکہ کوششوں، تجربات کے تبادلے اور قابل عمل منصوبوں کے نفاذ پر توجہ دی گئی تاکہ ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجز اور توانائی کے خطرات کے سامنے مضبوط شراکت داری قائم کی جا سکے۔
