نئے ڈی جی کی تعیناتی سے قبل پاکستان اسپورٹس بورڈ میں بڑے پیمانے پر تبادلے، شفافیت اور میرٹ پر سوالات اٹھ گئے
اسلام آباد: پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) میں نئے ڈائریکٹر جنرل یاور عباس کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے محض ایک روز قبل اعلیٰ سطح کے تبادلوں اور تقرریوں کا سلسلہ شروع ہونے سے ادارے میں انتظامی ہلچل مچ گئی۔ پی ایس بی کے دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق متعدد اہم عہدوں پر کی گئی تقرریوں اور تبادلوں نے نہ صرف بین الصوبائی رابطہ (آئی پی سی) ڈویژن کے بعض اہم عہدیداروں کے کردار کو نمایاں کر دیا ہے بلکہ شفافیت، قواعد و ضوابط اور میرٹ کے حوالے سے بھی سوالات جنم لے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس انتظامی ردوبدل کا مرکزی کردار شاہد اسلام ہیں، جو دو سال سے زائد عرصے تک غیر فعال رہنے کے بعد حال ہی میں ڈپٹی ڈائریکر جنرل (فیسلٹیز) مقرر کیے گئے اور انہیں بیک وقت ڈپٹی ڈائریکر جنرل (ٹیکنیکل) کا اضافی چارج بھی سونپ دیا گیا۔ اسی دوران آئی پی سی سے تعلق رکھنے والے اویس کرنی کو ڈپٹی ڈائریکر جنرل ایڈمنسٹریشن، احتشام کو ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن، غلام تقی خان بوسان کو ڈائریکٹر ہاسٹلز، محمد عثمان کو ڈائریکٹر اکاؤنٹس جبکہ شبانہ خٹک کو نئی انتظامی ساخت کے تحت دوسرے شعبے میں منتقل کر دیا گیا۔
ادارے کے اندرونی حلقوں میں ان تقرریوں پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض افسران کو ایسے عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے جن کے لیے مخصوص سینیارٹی اور پیشہ ورانہ اہلیت درکار ہوتی ہے۔ شاہد اسلام کی گریڈ 19 میں تقرری مبینہ طور پر سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، جبکہ ایک جونیئر سپرنٹنڈنٹ کو ڈائریکٹر ہاسٹلز تعینات کیے جانے کو بھی روایتی سول سروس قواعد سے متصادم قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح احتشام کی ایک اعلیٰ انتظامی عہدے پر تعیناتی کو بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
پی ایس بی ذرائع کے مطابق نئی تقرریوں سے ایسا انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ہے جو براہِ راست سیکرٹری آئی پی سی کے ساتھ کام کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا دکھائی دیتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں نئے ڈائریکٹر جنرل یاور عباس کے لیے انتظامی فیصلوں پر مکمل اختیار استعمال کرنا مشکل ہو سکتا ہے، خصوصاً اگر وہ ان تقرریوں پر نظرثانی کرنا چاہیں۔
انتظامی تبدیلیوں کا دائرہ دیگر شعبوں تک بھی پھیل گیا ہے۔ محمد اکرم بھٹی کو اکاؤنٹنٹ کے عہدے سے پی ایس بی کوچنگ سینٹر پشاور کا ڈائریکٹر مقرر کر دیا گیا جبکہ وہ اپنی سابقہ مالی ذمہ داریاں بھی برقرار رکھیں گے۔ نصراللہ رانا کو ڈائریکٹر ہاسٹلز سے ڈائریکٹر (این ایف) تعینات کیا گیا جبکہ غلام تقی خان بوسان نے ہاسٹلز کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ مزید برآں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (فیسلٹیز) محمد شاہد کو تین ماہ کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (ٹیکنیکل) کا اضافی چارج 20 فیصد الاؤنس کے ساتھ دیا گیا ہے۔
پی ایس بی کے افسران اور ملازمین نے ان تیز رفتار تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قومی کھیلوں کے ادارے کی ساکھ، کارکردگی اور انتظامی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے میرٹ، قانونی تقاضوں اور شفاف طریقہ کار کو یقینی بنایا جائے۔ نئے ڈائریکٹر جنرل کی آمد سے قبل ہونے والی یہ تقرریاں ادارے کے اندر گورننس، احتساب اور انتظامی خودمختاری سے متعلق بحث کو مزید تیز کر رہی ہیں۔
اگرچہ تمام احکامات جاری کر کے پی ایس بی کے مختلف شعبوں میں ارسال کر دیے گئے ہیں، تاہم بعض تقرریوں سے متعلق قانونی معاملات اور انتظامی سوالات کے باعث ان فیصلوں کے اثرات پر کھیلوں کے حلقوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی گہری نظر برقرار ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال پاکستان اسپورٹس بورڈ کی مستقبل کی انتظامی سمت، وزارتی نگرانی اور ادارہ جاتی خودمختاری کے درمیان توازن کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا رہی ہے۔
Copied From: PSB faces controversial transfers ahead of new DG appointment, legal challenges loom

