نجی اسکولوں کی دس فیصد اسکالرشپ تکمیل کا جائزہ

newsdesk
4 Min Read
آئی سی ٹی پییرا نے اسلام آباد کے نجی اسکولوں سے دس فیصد ضرورت پر مبنی اسکالرشپ کے ڈیٹا کی فراہمی کا تقاضا کیا، عدم تعمیل پر کارروائی کا نوٹس جاری۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی ہدایات کے بعد، اتھارٹی نے یکمصد ۱۷ جون ۲۰۲۶ کو اسلام آباد کے نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے دس فیصد اسکالرشپ متعلقہ ڈیٹا کی تکمیل کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس اجلاس کی صدارت ڈاکٹر غلام علی ملاّح نے کی اور اتھارٹی کے متعلقہ افسران نے شرکت کی تاکہ دس فیصد اسکالرشپ کی تعمیل کا مکمل احاطہ کیا جا سکے۔جائزے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ متعدد نجی اسکول اور تعلیمی ادارے اتھارٹی کی بار بار کی گئی خطوط، نوٹس اور ہدایات کے باوجود دس فیصد اسکالرشپ سے متعلق مطلوبہ معلومات جمع کروانے میں ناکام رہے ہیں، جو کہ اتھارٹی کے لیے باعثِ تشویش قرار پایا۔ اتھارٹی نے واضح کیا کہ دس فیصد اسکالرشپ کے اطلاق اور شفافیت کو یقینی بنانا قانون کا تقاضا ہے اور اس میں کسی رعایت کی گنجائش نہیں۔چیئرمین نے غیر تعمیل کرنے والے اداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ مزید تاخیر کے بغیر مطلوبہ ڈیٹا جمع کروائیں اور اس سلسلے میں مقررہ وقت کو آخری موقع قرار دیا گیا۔ تمام ڈیفالٹر اداروں کو ۳۰ جون ۲۰۲۶ تک مکمل ڈیٹا جمع کروانے کا حتمی موقع دیا گیا ہے، بصورتِ دیگر اتھارٹی آئین اور قواعد کے تحت کارروائی کرے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جو ادارے ۳۰ جون ۲۰۲۶ تک مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کریں گے ان کی رجسٹریشن یا تجدیدِ رجسٹریشن روک دی جائے گی اور رجسٹریشن کے لیے آن لائن درخواست حاصل کرنے یا فارم پرنٹ کرنے کی سہولت بھی بند رہے گی جب تک تعمیل نامہ جمع نہ کیا جائے۔ ان اداروں کے نام ۱ جولائی ۲۰۲۶ کو اتھارٹی کی رسمی ویب سائٹ پر بطورِ ڈیفالٹر شائع کیے جائیں گے اور متعلقہ امتحانی بورڈز کو مطلع کیا جائے گا۔مزید برآں، اگر عدم تعمیل کی صورتحال ۱۰ جولائی ۲۰۲۶ کے بعد بھی برقرار رہی تو ان اداروں کی رجسٹریشن معطل کی جائے گی اور بحالی کے لیے نہ صرف مطلوبہ ڈیٹا جمع کروانا ہوگا بلکہ نئی رجسٹریشن فیس اور قواعد ۲۰۲۴ کے تحت روزانہ کی بنیاد پر نافذہ جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ اگر کسی ادارے نے پھر بھی خاموشی اختیار رکھی تو معاملہ ۲۰ جولائی ۲۰۲۶ کے بعد متعلقہ ضلعی انتظامیہ کے پاس حوالہ کیا جائے گا تاکہ قوانین کے مطابق مناسب کاروائی ممکن ہو سکے۔اجلاس میں ان نجی تعلیمی اداروں کی بھی تعریف کی گئی جنہوں نے پابندی سے دس فیصد اسکالرشپ فراہم کی اور مطلوبہ ڈیٹا بروقت جمع کروایا۔ ایسے اداروں کو سماجی ذمہ داری اور مساوی تعلیمی رسائی کے فروغ میں ان کی کاوشوں کے اعتراف میں تحسین نامے جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔چیئرمین ڈاکٹر غلام علی ملاّح نے ایک بار پھر زور دیا کہ اتھارٹی حق برائے مفت و لازمی تعلیم ایکٹ ۲۰۱۲ کے موثر نفاذ اور مستحق بچوں کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے سخت نگرانی اور نفاذ کرتی رہے گی اور دس فیصد اسکالرشپ کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے تمام قابلِ عمل اقدامات کیے جائیں گے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے