شاہ اللہ دتہ غاروں کو عالمی معیار کی بدھ مت ہیریٹیج سائٹ بنانے کا عمل تیز

newsdesk
5 Min Read
وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے شاہ اللہ دتہ غاروں میں جاری بحالی اور ترقیاتی کام کا جائزہ لیا۔

اسلام آباد، 4 اگست 2026ء: وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے تاریخی شاہ اللہ دتہ غاروں کو جدید سہولیات کے ساتھ عالمی معیار کی بدھ مت ہیریٹیج سائٹ کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ مقام گندھارا تہذیب اور بدھ مت ورثے کے حوالے سے نہایت اہم تاریخی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔

وفاقی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ شاہ اللہ دتہ غاروں پر جاری ترقیاتی اور بحالی کا کام جلد مکمل کیا جائے تاکہ ستمبر/اکتوبر میں طے شدہ گندھارا کانفرنس کے موقع پر اس مقام کا باقاعدہ افتتاح کیا جا سکے۔ اس موقع پر پارلیمانی سیکریٹری فرح ناز اکبر بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

اورنگزیب خان کھچی نے شاہ اللہ دتہ غاروں کا دورہ کیا اور وہاں جاری تحفظ، بحالی اور ترقیاتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیم کے حکام نے انہیں بتایا کہ غاروں کے سامنے پہاڑی پر بدھ مت دور کا ایک تاریخی اسٹوپا موجود ہے، تاہم فاصلے کے باعث یہ مقام سے واضح طور پر دکھائی نہیں دیتا۔

وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ بدھ مونکس اور دیگر آنے والوں کی سہولت کے لیے جدید ٹیلی اسکوپ نصب کیا جائے تاکہ وہ تاریخی اسٹوپا کا قریب سے مشاہدہ کر سکیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غاروں میں بدھ مت کی تاریخ اور ورثے کو نمایاں انداز میں پیش کیا جائے تاکہ اس مقام کی تاریخی اور مذہبی اہمیت مؤثر طور پر اجاگر ہو۔

اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان گندھارا تہذیب کے تحفظ، فروغ اور عالمی سطح پر شناخت کے لیے خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسی وژن کے تحت شاہ اللہ دتہ غاروں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی و غیر ملکی زائرین کے لیے کیفے ٹیریا، گفٹ شاپ اور دیگر سہولیات قائم کی جائیں گی، جبکہ شام کے اوقات میں غاروں کو آرائشی روشنیوں سے روشن کیا جائے گا تاکہ اس تاریخی مقام کی کشش میں اضافہ ہو۔

بعد ازاں وفاقی وزیر نے ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیم میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں سیکریٹری قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمان گیلانی، جوائنٹ سیکریٹری اور دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں شاہ اللہ دتہ غاروں سمیت دیگر تاریخی مقامات کے تحفظ اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کے دوران اسلام آباد کے تاریخی ارتقا کو ظاہر کرنے کے لیے ایک خصوصی تاریخی نقشہ تیار کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ کہوٹہ کے قریب واقع تاریخی گکھڑ قلعے اور گکھڑ قبیلے سے متعلق معلومات اور نوادرات کو نمایاں کرنے کے لیے ڈائریکٹوریٹ کی گیلری میں مخصوص “گکھڑ کارنر” قائم کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قدیم مہرگڑھ تہذیب کے نوادرات بھی گیلری میں رکھے جائیں تاکہ پاکستان کے وسیع آثارِ قدیمہ کے ورثے کو بہتر انداز میں سامنے لایا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے اجلاس میں بتایا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بعض اراکین قومی اسمبلی نے گوادر میں معروف شاعر اور ادیب سید ظہور شاہ ہاشمی کے سو سالہ آبائی گھر اور تربت کے دیگر تاریخی مقامات کے تحفظ کے لیے وزارت سے تعاون کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ارکان پارلیمنٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ باضابطہ تحریری سفارشات جمع کرائیں تاکہ ضروری قانونی تقاضے مکمل کر کے ان منصوبوں پر پیش رفت کی جا سکے۔

اس موقع پر سیکریٹری قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمان گیلانی نے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیم کی گیلری کو جدید خطوط پر ازسرنو منظم اور اپ گریڈ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی طلبہ کے تعلیمی دوروں اور عوامی شمولیت کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی تاکہ پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے بارے میں آگاہی میں اضافہ ہو۔

Share This Article