اسلام آباد: انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے آرمز کنٹرول اینڈ ڈس آرمامنٹ سینٹر (اے سی ڈی سی) کے زیر اہتمام ڈاکٹر محمد علی کی تصنیف ’’India’s Hybrid Warfare: Implications for Pakistan’s National Security‘‘ کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔
تقریب میں آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سفیر سردار مسعود خان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی جبکہ جنرل زبیر محمود حیات، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ امتیاز (ملٹری) ریٹائرڈ نے کلیدی خطاب کیا۔ دیگر مقررین میں سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آر اے میجر جنرل ڈاکٹر احسان محمود خان ریٹائرڈ، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کے سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر طغرل یامین، اور سی آئی ایس ایس اے جے کے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اسماء شاکر خواجہ شامل تھیں۔
مہمانِ خصوصی سفیر سردار مسعود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ کتاب ہائبرڈ وارفیئر کے نظریاتی ڈھانچے کا ایک اہم علمی جائزہ پیش کرتی ہے۔ ان کے مطابق ہائبرڈ وارفیئر کوئی نیا تصور نہیں بلکہ قرونِ وسطیٰ کے ادوار میں بھی اس سے ملتے جلتے طریقے موجود رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی ریاستی حکمتِ عملی کا لازمی جزو ہے۔ سردار مسعود خان نے زور دیا کہ پاکستان کو اپنے بیرونی اور اندرونی چیلنجز سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ہائبرڈ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا۔
جنرل زبیر محمود حیات ریٹائرڈ نے کلیدی خطاب میں مصنف کو اس بروقت اشاعت پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں بھارت کے پالیسی رجحان میں نمایاں تبدیلی ڈوول ڈاکٹرائن کے زیر اثر آئی، جس میں سول سوسائٹی کو نیا محاذ قرار دیا گیا اور پاکستان کے خلاف جارحانہ اور دفاعی اقدامات کی وکالت کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہائبرڈ وارفیئر اب محض نظریاتی بحث نہیں رہی بلکہ تنازع کی ایک ارتقا پذیر اور عملی صورت بن چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی معاشرہ اس وقت تک عظیم نہیں رہ سکتا، حتیٰ کہ زندہ بھی نہیں رہ سکتا، جب وہ اپنے اندر ’’امید‘‘ اور ’’یقین‘‘ کھو دے۔ ان کے مطابق کسی قوم کی قومی شناخت پر عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچا کر دشمن روایتی جنگ کے بغیر بھی اسے کمزور کر سکتا ہے۔
آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سفیر معین الحق نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں کتاب کو بدلتے ہوئے سلامتی چیلنجز کو سمجھنے کے لیے اہم کاوش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید جنگ مزید پیچیدہ اور کثیر جہتی ہو چکی ہے۔ ہائبرڈ وارفیئر اعلان شدہ جنگ کی حد عبور کیے بغیر اسٹریٹجک مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے جواب کو مضبوط بنانے کے لیے قابلِ عمل سفارشات پیش کرنے پر مصنف کی تعریف بھی کی۔
ملک قاسم مصطفیٰ نے تعارفی کلمات میں ڈاکٹر علی کے پاکستان کے خلاف بھارت کی ہائبرڈ وارفیئر کے شواہد پر مبنی تجزیے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس چیلنج کے مقابلے کے لیے پوری قوم پر مبنی جامع ردعمل ضروری ہے، جس کی بنیاد مضبوط رابطہ کاری، قومی ہم آہنگی، مؤثر حکمرانی اور میڈیا کی مضبوطی پر ہونی چاہیے۔
میجر جنرل ڈاکٹر احسان محمود خان ریٹائرڈ نے کہا کہ روایتی میدانِ جنگ ختم نہیں ہوا اور آئندہ بھی اپنی اہمیت برقرار رکھے گا، تاہم اب اس پر سائبر، معاشی اور نفسیاتی جنگ سمیت تنازع کے دیگر میدان بھی غالب آ رہے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر طغرل یامین نے کہا کہ پاکستان کو ہائبرڈ وارفیئر سے نمٹنے کے لیے جامع قومی ردعمل تیار کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر اسماء شاکر خواجہ نے اپنے خطاب میں معاشروں کو بااختیار بنانے اور ادراکی تعصبات و غلط معلومات کا مقابلہ کرنے میں علم کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس تحقیقی مطالعے کو بروقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ موضوع کی گہری تفہیم میں مدد دیتا ہے۔
اختتامی کلمات میں سفیر خالد محمود نے کہا کہ بھارت پاکستان کی بین الاقوامی حیثیت کو متاثر کرنے کے لیے سفارتی دباؤ، غلط معلومات اور بیانیے میں ردوبدل جیسے طریقے استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار اور ادارہ جاتی مضبوطی نے اسے ان دباؤ کا مقابلہ کرنے اور عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے قابل بنایا ہے۔
ڈاکٹر محمد علی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے سابق طالب علم ہیں، جہاں انہوں نے پبلک پالیسی اور اسٹریٹجک سکیورٹی کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں شمولیت اختیار کی، جہاں سے انہوں نے 2024 میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ برطانیہ، چین اور سعودی عرب کے تعلیمی اداروں میں مختلف ادوار کے دوران حاصل ہونے والے تجربات نے انہیں عالمی دفاعی و سلامتی امور کے بارے میں متنوع نقطہ نظر تشکیل دینے میں مدد دی۔
