ایک دن یوم حساب ھے جواب دینا ہوگا۔
پاکستان کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری: اصلاح یا قومی اثاثوں کی فروخت؟
تحریر: مسرت رفیق مہیسر رکن قومی اسمبلی۔
پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری ایک مرتبہ پھر قومی مباحثے کا اہم موضوع بن چکی ہے۔ حکومت ایک طرف بجلی کے نظام کی بہتری، ڈیجیٹلائزیشن، گرڈ کی مضبوطی، لائن لاسز میں کمی اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے نام پر ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے اداروں سے اربوں ڈالر کے قرضے حاصل کر رہی ہے، جن کی واپسی آنے والی کئی نسلوں کو کرنا ہوگی، جبکہ دوسری طرف انہی اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر حکومت کا حتمی مقصد ان اداروں کی نجکاری ہے تو پھر ان میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری اور بیرونی قرضوں کا بوجھ قومی خزانے پر کیوں ڈالا جا رہا ہے؟ کیا یہ سرمایہ کاری عوام کے مفاد کے لیے ہے یا نجی خریداروں کے لیے ان اداروں کو مزید پرکشش بنانے کے لیے؟
گزشتہ کئی برسوں سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں مستقل بھرتیوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ فیلڈ اسٹاف، لائن مین، انجینئرز اور تکنیکی عملے کی کمی کے باعث صارفین کو بروقت اور معیاری خدمات فراہم کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بجلی کی خرابیوں کے ازالے میں تاخیر، نظام کی دیکھ بھال میں کمزوری اور صارفین کی شکایات کے حل میں مشکلات اسی پالیسی کے نتائج ہیں۔
دوسری طرف حکومت مختلف خدمات، خصوصاً اثاثہ جات کے انتظام، آپریشنز اور معاون سرگرمیوں کو آؤٹ سورس کر رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ ایک ایسا طریقہ بن چکا ہے جس کے ذریعے دنیا کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں اضافہ نہیں کیا جا رہا، جبکہ عملی طور پر انہی کاموں کے لیے کنٹریکٹ اور آؤٹ سورسنگ کے ذریعے افرادی قوت حاصل کی جا رہی ہے۔ بعض حلقوں کا یہ بھی مؤقف ہے کہ اس عمل سے بعض سیاسی مفادات اور بااثر گروہوں کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔
پاکستان میں نجکاری کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو کے الیکٹرک کی مثال اکثر پیش کی جاتی ہے۔ اگرچہ کمپنی کی ریکوری اور بعض مالیاتی اشاریوں میں بہتری دیکھی گئی، تاہم عام صارفین کے نقطہ نظر سے بلنگ تنازعات، نرخوں میں اضافہ اور خدمات کے معیار کے حوالے سے شکایات مکمل طور پر ختم نہ ہو سکیں۔
نجکاری کے حامی اکثر ترقی یافتہ ممالک کی مثال دیتے ہیں، لیکن دنیا میں کئی ایسے تجربات بھی موجود ہیں جہاں نجکاری مطلوبہ نتائج نہ دے سکی۔
برطانیہ میں توانائی اور پانی کے بعض شعبوں کی نجکاری کے بعد صارفین کو بلند نرخوں اور خدمات کے معیار سے متعلق شکایات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں بعض حلقوں میں دوبارہ سرکاری تحویل کی بحث زور پکڑ گئی۔
جرمنی کے شہر برلن میں پانی کی فراہمی کے نظام کی جزوی نجکاری کے بعد قیمتوں میں اضافہ اور شفافیت کے فقدان پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا، جس کے بعد حکومت کو یہ نظام دوبارہ سرکاری کنٹرول میں لینا پڑا۔
بولیویا کے شہر کوچابامبا میں پانی کی نجکاری کے بعد نرخوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج شروع ہوئے اور حکومت کو بالآخر نجکاری کا معاہدہ منسوخ کرنا پڑا۔ اس واقعے کو آج بھی دنیا میں نجکاری کے ایک ناکام ماڈل کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
اسی طرح بعض لاطینی امریکی اور افریقی ممالک میں توانائی اور پانی کے شعبوں کی نجکاری سے ابتدائی مالیاتی فوائد تو حاصل ہوئے لیکن عام صارفین کے لیے نرخوں میں اضافہ اور خدمات تک رسائی میں کمی جیسے مسائل پیدا ہوئے۔
اگر عالمی سطح پر کئی حکومتیں نجکاری کے بعد خدمات کو دوبارہ ریاستی تحویل میں لینے پر مجبور ہو سکتی ہیں تو پاکستان کو بھی اس معاملے میں انتہائی احتیاط اور دور اندیشی کی ضرورت ہے۔
نجکاری کے مخالفین کے مطابق:
بجلی کی فراہمی ایک بنیادی عوامی خدمت ہے، محض ایک تجارتی سرگرمی نہیں۔
قومی اثاثے ایک بار فروخت ہونے کے بعد دوبارہ حاصل کرنا انتہائی مہنگا اور مشکل عمل ہوتا ہے۔
نجی ادارے عموماً منافع کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ دور دراز اور کم منافع والے علاقوں کو نظر انداز کیے جانے کا خدشہ رہتا ہے۔
توانائی کا شعبہ قومی سلامتی اور معاشی خودمختاری سے براہ راست وابستہ ہے۔
بہتر نظم و نسق، احتساب، جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ قیادت کے ذریعے سرکاری اداروں کو بھی مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
بیرونی قرضے ریاست لے اور بعد میں اداروں کی ملکیت نجی شعبے کو منتقل ہو جائے تو اس کا مالی بوجھ عوام جبکہ فوائد محدود حلقوں کو حاصل ہوتے ہیں۔
میرٹ پر بھرتیاں، جدید تربیت اور مناسب افرادی قوت کے ذریعے خدمات کے معیار کو نمایاں طور پر بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ بعض سرکاری شعبوں میں مالی مشکلات کا جواز پیش کرتے ہوئے بھرتیوں پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں، جبکہ دیگر قومی اداروں میں افرادی قوت کی مسلسل شمولیت جاری رہتی ہے۔ یہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر قومی سلامتی کے لیے انسانی وسائل ضروری ہیں تو توانائی کے شعبے جیسی بنیادی قومی خدمت کے لیے بھی مناسب افرادی قوت کیوں ضروری نہیں سمجھی جاتی؟
نجکاری کے حامی اس عمل کو مالی نقصانات میں کمی، انتظامی خودمختاری اور سرمایہ کاری کے حصول کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، تاہم ان فوائد کا انحصار شفافیت، مؤثر ریگولیشن اور مضبوط ادارہ جاتی نگرانی پر ہوتا ہے۔ اگر یہ عناصر موجود نہ ہوں تو نجکاری صرف ملکیت کی منتقلی بن کر رہ جاتی ہے، اصلاح نہیں۔
آخر میں یہ سوال اپنی پوری اہمیت کے ساتھ موجود ہے کہ کیا قومی اثاثوں کی فروخت معاشی اصلاحات کا واحد راستہ ہے یا ان اداروں کی حقیقی اصلاح، پیشہ ورانہ انتظام اور احتساب زیادہ مؤثر حل ہو سکتا ہے؟
اگر پالیسی سازی کا محور صرف مالیاتی اشاریے اور وقتی سیاسی فوائد بن جائیں تو اس کا سب سے بڑا بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے، جو پہلے ہی مہنگی بجلی، بڑھتے ہوئے بلوں اور محدود آمدنی کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔
قومی اثاثے کسی ایک حکومت کی ملکیت نہیں ہوتے بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں فیصلے بھی اسی احساسِ ذمہ داری اور طویل المدتی قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کئے جانے چاہئیں۔
