مرکزی صرافہ یونین راولپنڈی اسلام آباد کے صدر شیخ آصف ادریس نے کہا کہ حکومت کی طرف سے فکس ٹیکس اسکیم خوش آئند ہے اور اس اسکیم میں جیولرز کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ جیولرز کے مسائل کم ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور روپے کی قدر کم ہونے کے باعث سونے کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے جس سے دستکاری اور کاروبار کے شعبے میں بے روزگاری بڑھی ہے اور ہنر مند افراد مشکلات کا شکار ہیں۔شیخ آصف ادریس نے اجلاس سے خطاب میں یہ بھی کہا کہ جیولرز کے مسائل کے حل کے لئے طویل مدتی پالیسیاں بننا ضروری ہیں ورنہ یہ شعبہ روز بروز کمزور ہوتا جائے گا۔ انہوں نے اجمل بلوچ اور ملک شاہد غفور پراچہ کی اس شعبہ کے مسائل کی آواز اٹھانے پر تحسین کی اور کہا کہ ان کی کوششیں قابل قدر ہیں۔اجلاس میں شریک رہنماؤں نے کراچی میں تاجروں اور جیولرز پر ہونے والے نامناسب سلوک، چھاپوں اور بچوں کے سامنے والد کے ساتھ بدسلوکی کی مذمت کی اور متاثرہ تاجروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ مقررین نے کہا کہ جب تک جیولرز کے مسائل حل نہیں ہوتے، تنظیم ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔صدر نے بتایا کہ وزیر مملکت بلال اظہار کیانی کے ساتھ کئی ملاقاتوں میں جو تجاویز طے پائی تھیں انہیں بجٹ کا حصہ بنایا جانا چاہیے اور فنانس کمیٹی کی توجہ ان تجاویز کی طرف ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انجمن تاجران کا کام صرف احتجاج تک محدود نہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں میں حصہ ڈالنا بھی ہے اور اجمل بلوچ کی بجٹ تجاویز کو یونین قبول کرتی ہے۔اجلاس میں نیوسرافہ بازار کے صدر فیاض قریشی، مری روڈ جیولرز کے صدر رانا عبدالقدوس، سینئر نائب صدر راجہ فرزند علی، سمال چیمبر کے سینئر نائب صدر شیخ عاصم ادریس، جنرل سیکرٹری ریحان ربانی، نعیم مغل، رانا کامران، ظفر بہرم، محمد وسیم، رانا آفتاب، چوہدری کامران، عبدالجبار چوہدری، خواجہ قاسم، نعیم سیٹھی اور چوہدری عمران بھی شریک تھے اور انہوں نے چھوٹے تاجروں کے مسائل اجاگر کیے۔شیخ آصف ادریس نے زور دیا کہ چھوٹا تاجر ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، خزانہ کو ریونیو دینے کے ساتھ یہ روزگار فراہم کرتا ہے، اس لئے حکومت کو فکس ٹیکس اسکیم میں جیولرز کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مداخلت اور حمایت کرنی چاہیے تاکہ ہنر مند افراد کی روزگار کے مواقع برقرار رہیں۔
